جنوبی افریقا کا اسرائیلی سفارتکار کو 72 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم | Express News

سیارہ

Well-known member
جنوبی افریقا نے اپنے اعلیٰ سفارتکار آریل سیڈمین کے خلاف ایک سخت قدم اٹھایا ہے، جس سے ملک چھوڑنا پڑے گا۔ یہ فیصلہ دوطرفہ سفارتی اصولوں اور جنوبی افریقا کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے والی غیرمعمولی اور ناقابل قبول واقعات کے بعد لیا گیا ہے۔

آریل سیڈمین نے سرکاری اسرائیلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جنوبی افریقا کے صدر سِریل رама فوسا پر توہین آمیز تبصرے کیے تھے، جو سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے حکام بالا کو بھی جنوبی افریقا کے دوروں سے متعلق اطلاع نہیں دی تھی۔

جنوبی افریقا نے اسرائیلی حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ سفارتی رویے میں احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے گا۔ اس کی توقع بھی ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنے سفارتکار کو ملک چھوڑنے پر مجبور کریگی۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پہلے سے کافی شدید کشیدگی موجود ہے جو جنوبی افریقا کی عدالت بین الاقوامی انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات اور غزہ میں جاری تنازع کے تناظر میں مزید بڑھ گئی ہے۔
 
جنوبی افریقا کی ایسے اعلیٰ سفارت کار کو ملک سے نکالنے کا اس فیصلے پر کام کر رہا ہے جو ان کے سیاسی کردار سے بھی ملتا جلتا ہے، یہ لگتا ہے کہ وہ ایسے مواقع کو اپنے مصلح کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس پر ان کی سیاسی پوزیشن سے متعلق تنقید کی جا سکتی ہو، اس میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے سفارتی کردار کو کیسے منتخب کیا جاتا ہے جو ملک کے حلقوں اور سیاسی نتیجے سے زیادہ اسرائیلی حکومت کے حوالے سے کام کرنے پر زور دیتے ہیں، یہ ایک معاملہ ہے جس پر دوسری جماعتیں اور سیاسی حلقے کا غور کرنا پڑے گا، اس کی پالیسی میں بھی تبدیلی آئے گی؟
 
اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی افریقا نے اسرائیل کے سفارتکار کو ملک سے باہر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ایسے لوگوں کی آگाहٹ کھل جائیگی جو اوروں کے تعلقات میں سیاسی تھکاوट اور غیرستحiliہ کی خواہش رکھتے ہیں۔

یہ فیصلہ ایسا لگتا ہے جیسے کہ جنوبی افریقا نے اچانک واضح کر دیا ہے کہ یہ ملک اس طرح کے سفارتکاروں کی موجودگی کو قبول نہیں کرेगا جس سے ملک کی آئینی آزادی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

اس فیصلے میں ایک واضح بات ہے، کہ جنوبی افریقا نے اسرائیل کی حکومت سے احترام اور بین الاقوامی قوانین کو پاس کرنے پر زور دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک اپنی معاشی اور سیاسی اقداماتوں میں ایسی صورتحال کو نہیں دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے جس سے یہ افریقی ممالک کا معاشرتی نظام خطرے میں پڑ سکا۔
 
جنوبی افریقا کی یہ کارروائی ایک بڑا بھلےہوا، توہین آمیز تبصرے کرنے والوں کے خلاف لگائے جانے والے پہلے قدم ہی ہی سے متعلق ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس نے انہیں بھاگنے کو کھینچنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے، اور وہ جب تک وہ اپنی سرکار میں رہ سکتا ہے وہ ایسے لوگوں کے خلاف بھرپور مظالم پھیلانے میں لگے رہیں گے۔
 
بھائی، یہ صورتحال جنوبی افریقا کی جانب سے اتنا اچھا نہیں لگ رہی؟ آریل سیڈمین کے اس معاملے میں اسرائیل کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ اپنے سفارتکار کو ملک سے نکال دے اور ان کے سرکاری اکاؤنٹس پر یہ توہین آمیز تبصرے کرنا بھی رکھ دیں؟ جنوبی افریقا نے اس میں کوئی بھلائی نہیں کی ہوگی اور ایسی صورتحال کو حل کرنے کے لیے تو کچھ اور ضروریات ضرور پوری ہونگی؟
 
جنوبی افریقا کو ایسے معاملات میں تباہ نہیں ہونا چاہیے جہاں سفارتی رویوں کے لیے لڑائی دھاری ہو۔ آریل سیڈمین کی فوری منسلکیت سے بچنے کی ضرورت ہے اور یہ بات توہین آمیز تبصرات کو نہیں جانا چاہئیے۔

جنوبی افریقا کو اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنا چاہئیے اور اسرائیل کے سفارتی رویے پر پابندی لگانی چاہئیے۔ ملک کی سہولیات اور معاشرہ کو نقصان نہ ہونے دے۔

آئندہ میں، جنوبی افریقا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو بھلے توجہ سے منظم کیا جانا چاہیے۔ دونوں سرکاروں کی ایک نئی پالیسی بننی چاہئیے جس میں احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہो।
 
🤔 یہ بات تو صاف ہے کہ جنوبی افریقا نے اس حد تک سٹینڈ لیا ہے، ایسے میں وہ ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے گا؟ یہ انفرادی کارروائی سے بھی دور ہے، پورے ریشے کی بات ہے۔ اُس افسر کے خلاف ایسا قدم اٹھانے کی وجہ کیا ہو گئی ہے؟ یہ بھی قابل حقدار ہے کہ جنوبی افریقا نے اسرائیل کو احترام کے ساتھ ملنے پر مجبور کرنا، لیکن اس بات کی کوئی garanty ہے کہ وہ انفرادی کارروائیوں کو روک سکتا ہے؟ یہ دونوں طرف کے موقف تو مختلف ہیں، لیکن ان میں ایسا ایک توازن نہیں ہے جو ملک پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
 
سفارتکار کو ملک چھوڑنا پڑ سکا تو یہ بھی یقینی نہیں کہ اس کے بعد جنوبی افریقا کی حکومت یہ اقدار حاصل کر لیتی ہے کہ اسرائیلی سفارتکار کو ملک سے باہر رکھ دیا جائے گا؟ پہلے تو ان لوگوں نے اسٹیڈیم میں سرڈار کو لڑائی چھوڑنی اور اب وہ اپنے سفارتکار کو ملک چھوڑنا چاہتے ہیں؟ یہ کچھ بھی نہیں ہوگا؟
 
جنوبی افریقا کی یہ فیصلہ دیا گیا ہے تو وہ آریل سیڈمین کو دھمکائے اور اسے ایسے افراد سے لڑایے جو ان کے خلاف سرخونے کی کوشش کر رہے ہیں! وہ تو تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اسرائیلی حکومت اپنے سفارٹکار کو ملک چھوڑنا پڑ جائے گا! لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا، ایسا تو نہیں ہو سکتا۔ آئین کی آداب کو نقصان پہنچانے والے اس شخص کے خلاف یہ فیصلہ ہے، لیکن اسے ابھی تک یہ نہیں سنا گیا کہ ان کے عمل کو کس کی پکڑ میں لایا جائے گا?
اس وقت کیا یہ کہتے ہیں کہ آئین کی آداب کو نقصان پہنچانے والے اس شخص کو ملک سے باہر نکال دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی اپنی دھمکیوں پر مبنی ہو جائے گا! لیکن یہ بات کوئی نہ کوئی ہے کہ ان کی دھمکیوں پر ابھی تک کتنا اعتماد کیا گیا تھا؟
 
سفارتی مشقوں سے زیادہ یہ بات ہمیشہ سے منزلوں پر آتی رہی ہے کہ کسی بھی ملک کی سرحدوں پر اچھائی یا بدی کی واضح علامات موجود ہوتے ہیں۔ آریل سیڈمین کے اس جسمانی حملے نے تمام دنیا کو محتاط کر دیا ہوگا اور یہ بات واضح ہے کہ ان کے ایسی کارروائیوں کی نہیں تھی اور نہیں ہونے دیتی۔

اس رکنی ملک کو اس پر کیسے عمل کرنا پڑا؟ آئندہ سفر کی ایسی صورت میں جس میں انفرادی کارروائیوں کو بھی سمجھا جائے اور یہ جانا جائے کہ ان کے بعد چلنے والا نتیجہ کیسے ہوگا؟ اگر اس صورت میں ایسا ہوتا تو ملک نے اپنی سفارتی پالیسی کو سمجھنا ہی چاہا ہوگا۔
 
آریل سیڈمین کا یہ عمل تو انکی معاشرتی منصوبوں پر نیند نہیں آتا 🤦‍♂️، لیکن اس کا خاتمہ ملک چھوڑنا اور یہ سچائی کی بات ہے کہ جنوبی افریقا ایسے لوگوں کو نہیں دیکھتی جسے ان کی اپنی تحریکیں اور معاشرتی منصوبوں پر زور دینا ہی خاطیر سمجھta hai 🚫، لेकن یہ بھی بات ہے کہ جنوبی افریقا نے اپنی آزادی کی گہرائی کو ایسے لوگوں سے محفوظ رکھنا ہوگا جسے انکی اقدار پر زور دینا ہی غیرمعمول سمجھta hai 😒، ابھی تک یہ دیکھتے ہوئے کہ ملک چھوڑنا ایک اچھی گزند نہیں ہے؟ 🤔
 
یہ تھوڈا ایک سایہ ہے، نہیں تو آریل سیڈمین کے ساتھ اس بات پر بھارosa ہوگی کہ وہ صرف اپنی جگہ چھوڑ کر نہیں گئے ہیں بلکہ جنوبی افریقا کی حکومت نے انہیں چھوڑنا پڑا تھا۔

جس سے ملک چھوڑنا پڑے گا تو یہ وہی بات ہے جو میرا باپ بھی کرتے ہیں، میرے پاس کچھ لینا ہوتا ہے اور اس کے بعد چل آؤٹ ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ بات تو ایک دوسرے ممالک کے درمیان رشتے کی جگہ پر لگی ہے، مگر اورے بھی کیا وہاں کچھ نہیں کریں گے؟

جنوبی افریقا کی حکومت کو اپنی مدد کرنے والے لوگوں سے ہر بات پوچی ہے، اور یہ بھی ایک ججاباز دیکھ رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں گئے ہیں بلکہ اپنی جگہ سے پھرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
 
جنوبی افریقا کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ اپنے سفارتی اور بین الاقوامی تعلقات میں احترام اور معاشرتی آداب کا احاطہ کریے …🤔 اس سے بعد کی نسل کشی کے الزامات کی یہ صورتحال کمزور نہیں ہو سکتی …

لیکن یہ بھی ایک بات ہے کہ آریل سیڈمین نے کیا اس لئے؟ اس نے توہین آمیز تبصرے کرنے کی وجہ سے اپنا جرم سنما دیا … اور اب وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کا بھی کوئی منفعت نہیں ہوئی؟ …ایسا تو ایک عجیب پیداوار ہے… 😐
 
🤔 یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں لوگ اپنے سفارتی ممالک کے رشتوں کو توڑنا چاہتے ہیں اور سب کچھ سستا کرتے ہیں۔ آریل سیڈمین کے جس کلام نے جنوبی افریقا پر اثر پڑا، وہ بھی ایک لڑائی کے دور میں تھا جب لوگ صرف ایک دوسرے سے بات کرنا چاہتے تھے اور یہ انٹرنیٹ پر نہ ہو سکا ہوتا تو وہ بھی مختلف نتیجہ کا باعث بنتا۔ آج اس لڑائی میں جنوبی افریقا کی طرف سے کوئی اچھا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اگر یہ فیصلہ کبھی ایک سفارتی گزشتے ہوئے واقعات پر مبنی نہ ہو، تو اس سے ان کے رشتوں کو مزید نقصان پہنچنا ہو گا۔
 
ایسا لگتا ہے کہ جنوبی افریقا نے سچ چلا کر اٹھایا ہے، یہ ایک دوجہرہ معاملہ نہیں ہے، آریل سیڈمین کی کارروائیوں کو منظم کیا گیا ہے اور اس پر ان کے حوالے بھی دیا جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ جنوبی افریقا نے اپنی خودمختاری کو محفوظ کرتے ہوئے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور اب ان کی واضح رائے کے مطابق عمل کرنا پڑے گا۔ 🤝
 
تمام یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ جنوبی افریقا نے اپنے سفیر کو بھیجنا پورا معقول نہیں ہے، آریل سیڈمین کو بھی ملک چھوڑنا پڑے گا اور یہ تو واضح رہے گا کہ انہیں اپنے سفارتی کاموں میں بھی احترام کا درجہ نہیں ملے گا۔ اس کی بجائے انہیں ملک چھوڑنا پڑے گا اور یہ دوسرے سفارتکار کو ایسا ہونا پڑے گا جیسا کہ انہیں صدر سِریل راما فوسا سے ملنے یا بات کرنے کی اجازت نہ ہو۔
 
دونوں ملکوں کی تعلقات میں بھی یہ سبق اچھا آتا ہے کہ معاملات کو نقصان پہنچانے والے افراد کو ان سے دور رکھنا چاہئے، جیسا کہ آریل سیڈمین نے جنوبی افریقا کے صدر سے توہین آمیز تبصرے کیے تھے، اب وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں! اس سے ملکی تعلقات میں ایسا نہ ہونا چاہئے جیسا کہ کچھ لوگ اٹھانے کو پکڑتے ہیں۔
 
جنوبی افریقا کی یہ فیصلہ دہی ایک لڑائی ہے، نہ صرف آریل سیڈمین کے خلاف ایک سخت قدم اٹھانے کے بارے میں بلکہ ان سے متعلق تعلقات کو بھی اچھا بنانے کی کوشش ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ ایک بڑا نقصان ہے جو ان کی سفارتکاروں نے ملک چھوړنے پر مجبور کر دیا جائے گا، آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ جنوبی افریقا اس وقت بھی اپنی اقدار کی रकھاء کر رہا ہے۔
 
یہ تو ایک لمحا لگا ہے، ایسے ماحول میں کہ اسلائن سافارٹس نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ اب بھی ملکی سفارتکاروں کو اپنے صدر کے پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ میرے خیال میں، آریل سیڈمین کو ملک چھوڑنا پڑے گا تو یہ South Africa کے لیے ایک اچھا فیصلہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنوبی افریقا اپنی سرگرمیوں پر دیکھ رہا تھا جس سے ملک کی ایمنٹی نہ بھال سکتی۔ اب وہ اپنے سفارتی عمل کو ایک قدم بعد دوسرے پر لگاتے ہوئے ایک مندرجہ کار پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ سکیتا ہے۔
 
مگر یہ تمبھا تو کیا لگ رہا ہے؟ آریل سیڈمین کی گaltiyanوں پر جنوبی افریقا نے ان کے خلاف ایسا جواب دیا جس سے ملک چھوڑنا پڑ گیا، اور اب انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کرنی پڑ گیگی؟

جنوبی افریقا کے لیے یہ فیصلہ دوسرے ممالک سے تعلقات میں اچھے تعامل کی جگہوں کو یقینی بنانے کے لیے ہوتا ہے، تو اس میں انہیں کس طرح کے رکاوٹاتوں کا سامنا کرنا پڑ گیا؟

اس کے علاوہ، جنوبی افریقا کی طرف سے توجہ دی جا رہی ہے کہ ملکی سفارتی اداروں کو آداب کی تعلیم دے کر انہیں بھی یہ علم ہونا چاہیے کہ ان کے کارروائیوں سے دوسرے ممالک پر کس طرح اہمیت ہے، نہ تو ان کی حکومت کو ملک بھی چھوڑنی پڑتی، اور نہ ہی وہ اپنے حلف داروں کو سچائی سے بھگتارنے کا موقع ملا کر۔
 
واپس
Top