جنوبی کوریا میں جو مارشل لا نافذ کرکے حکومت گرانے پر صدر کو قید کی سزا دی گئی وہ فیصلہ اب تک کی تاریخ میں ایسا واحد واقعہ ہے جس میں اس ملک کے صدر کو اپنے اقتدار کے دوران آئینی نفاذ سے منصرف کر دیا گیا اور اسے قید کی سزا سنائی گئی۔
جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سُک یول کو مارشل لا نافذ کرنے کے غیر آئینی نفاذ، انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 5 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
دسمبر 2024 میں اُس وقت کے صدر یون سُک یول نے ملک کو اندرونی سلامتی کے خطرات کے پیش نظر مارشل لا نافذ کیا تھا۔ اس فیصلے پر منتخب پارلیمان نے مواخذہ کی تحریک پیش کی اور اسمبلی اجلاس کو طاقت سے روکنے کی کوشش کی گئی جس میں پھر سول سوسائٹی، طلبا، وکلا اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔
جنوبی کوریا کے میڈیا نے عدالتی فیصلے کو براہِ راست نشر کیا۔ عوامی حلقوں میں اس فیصلے کو قانون کی بالادستی کی جیت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ بعض قدامت پسند حلقے اسے سیاسی انتقام سے تعبیر کر رہے ہیں۔
سابق صدر یون سُک یول کے وکیل نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔
دسمبر 2024 میں اُس وقت کے صدر یون سُک یول نے ملک کو اندرونی سلامتی کے خطرات کے پیش نظر مارشل لا نافذ کیا تھا۔ تاہم منتخب پارلیمان نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا اور مواخذے کی تحریک پیش کی گئی۔ اسمبلی اجلاس کو طاقت سے بھی روکنے کی کوشش کی گئی جس میں پھر سول سوسائٹی، طلبا، وکلا اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔
جس پر ارکان اسمبلی احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جس میں پھر سول سوسائٹی، طلبا، وکلا اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔
البتہ اس ملک گیر احتجاج میں اہم موڑ اس وقت آیا جب فوج کے ایک بڑے حصے نے عوام پر براہِ راست فائرنگ کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔
اعلیٰ عدلیہ نے بھی اس صدر کے مارشل لا کو نافذ کرنے کے اقدام کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے۔ پارلیمان نے مارشل لا کو غیر آئینی قرار دیا۔ جس کے باعث 4 دسمبر کو صدر یون سک یول مارشل لا اُٹھانے پر مجبور ہوگئے تھے اور اس طرح ملک میں جمہوریت بحال ہوئی۔
اس دوران پارلیمان میں دو مرتبہ صدر کے مواخذے کے تحاریک کثرت رائے سے منتخب ہوئی لیکن اکثر سماعت میں وہ غیر حاضر رہے۔
جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سُک یول کو مارشل لا نافذ کرنے کے غیر آئینی نفاذ، انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 5 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
دسمبر 2024 میں اُس وقت کے صدر یون سُک یول نے ملک کو اندرونی سلامتی کے خطرات کے پیش نظر مارشل لا نافذ کیا تھا۔ اس فیصلے پر منتخب پارلیمان نے مواخذہ کی تحریک پیش کی اور اسمبلی اجلاس کو طاقت سے روکنے کی کوشش کی گئی جس میں پھر سول سوسائٹی، طلبا، وکلا اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔
جنوبی کوریا کے میڈیا نے عدالتی فیصلے کو براہِ راست نشر کیا۔ عوامی حلقوں میں اس فیصلے کو قانون کی بالادستی کی جیت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ بعض قدامت پسند حلقے اسے سیاسی انتقام سے تعبیر کر رہے ہیں۔
سابق صدر یون سُک یول کے وکیل نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔
دسمبر 2024 میں اُس وقت کے صدر یون سُک یول نے ملک کو اندرونی سلامتی کے خطرات کے پیش نظر مارشل لا نافذ کیا تھا۔ تاہم منتخب پارلیمان نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا اور مواخذے کی تحریک پیش کی گئی۔ اسمبلی اجلاس کو طاقت سے بھی روکنے کی کوشش کی گئی جس میں پھر سول سوسائٹی، طلبا، وکلا اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔
جس پر ارکان اسمبلی احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جس میں پھر سول سوسائٹی، طلبا، وکلا اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہوگئیں۔
البتہ اس ملک گیر احتجاج میں اہم موڑ اس وقت آیا جب فوج کے ایک بڑے حصے نے عوام پر براہِ راست فائرنگ کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔
اعلیٰ عدلیہ نے بھی اس صدر کے مارشل لا کو نافذ کرنے کے اقدام کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے۔ پارلیمان نے مارشل لا کو غیر آئینی قرار دیا۔ جس کے باعث 4 دسمبر کو صدر یون سک یول مارشل لا اُٹھانے پر مجبور ہوگئے تھے اور اس طرح ملک میں جمہوریت بحال ہوئی۔
اس دوران پارلیمان میں دو مرتبہ صدر کے مواخذے کے تحاریک کثرت رائے سے منتخب ہوئی لیکن اکثر سماعت میں وہ غیر حاضر رہے۔