جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے:صدر ٹرمپ کی ایران کو پھر وارننگ

حکمت والا

Well-known member
امریکی صدر نے ایران کو ایک بار پھر متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کی جائے گی، اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ماضی میں امریکا کی کارروائی نے ایران کو وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے والا پہنا چہا ہو گا اس سے بچایا۔

امریکا کے صدر نے کہا ہے کہ اگر ایران کو ایٹمی نظام پر انتباہ کیا نہیں جاتا تو وہ دو ماہ میں دو سے تین جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔ ان کا یہ تعلق اس بات پر مبنی ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کی تو ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کی پالیسی ترک کر دی تھی۔

ترمپ کا یہ کہنا بھی ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کارروائی ترک کرنی چاہیے اور مزید کوئی کارروائی نہ ہونے پر یقین رکھتا ہے، اس کے بعد امریکا ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت کے لئے تیار ہو گیا ہے۔
 
ایسا نہیں ہوا جائے گا کہ ایران کو ایٹمی نظام پر ایک بار پھر تنبہ دیا جائے گا اور اس پر کارروائی کی جا رہی ہے؟ اس بات پر یقین کس کو کر سکتا ہے جو ایران نے پہلے کی کیا تھی؟
 
ایسا ہی واقع ہوا کچھ عرصہ پہلے جب امریکا نے ایران پر کارروائی کی دھمکی دی تھی، اور دیکھو کیسے ایرانی حکام نے ایسے حالات کو بہت منفید سمجھا اور سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے والی پالیسی اختیار کی۔ اب ترمپ کا یہ دعویٰ ہے کہ اگر Iran ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے پر چلے گی تو دوسری بار وہیں رہے گا۔ یہ بات توجہ دیتے ہوئے کہ ماضی کی تجربات سے سب کو یاد آتی ہے جس طرح امریکا نے ایران پر کارروائی کی تو وہیں چلا گیا اور حال ہی میں Iran نے اس بات پر انتباہ دی تھی کہ اگر امریکا بھی اس بات پر چلتا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے پر چلنا ہو تو وہ دو ماہ میں سے تین جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔
 
ایس اور کیا پہنچ جائے؟ Iran ko doh baar bhi menbbah karte hain, aur phir bhi unhein aam taur par chinta nahi hai. Maine dekha tha keh Iran ne 80s aur 90s mein America se kuch nahi maanga tha, toh tabhi kaafi sara saal lagta hai ki America ko Iran ke bare mein nazar andar rakhta hai.

America ka president to say karta hai ki agar Iran ki nuclear program thik ho jati hai toh carry karna padega, lekin Maine socha ki yeh bhi ek tareeka hai. America ne Iran ko doh baar bhi menbbah kiya hai aur phir bhi unhein samajha nahi gaya kyon Iran unke dabaav par aata hai.

Main thoda sochta hoon ki America ko apni safai ke liye kuch chinta karni chahiye. Kuchh log Iran ke bare mein khusboo karte hain, aur America ko bhi to samajha nahi gaya ki yeh country kaisi hai.
 
امریکی صدر کی یہ پالیسی بہت اچھی نہیں دیکھ رہی ہے، اگر ایران کو ایٹمی نظام پر تنبہ دیا نہ جاتا تو وہ جوہری ہتھیار کے ساتھ ٹوٹ کر بھی رہتا، ابھی تک اس کے پاس ایک چمچ تیزابی بھی نہیں ہوئی ہے وہ بے حد توازن پر ہے اور ان کو کسی بھی طرح کی کارروائی سے دوری رکھنا ہوگا، ان کا یہ کہنا کہ وہ دو ماہ میں جوہری ہتھیار حاصل کر لیتے ہیں تو بھی نہیں سچھا، اگر امریکا ان کی بات سمجھتا اور ان کے ساتھ صمیمی بات چیت کرتا تو وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں یقین رکھ سکتے تھے لیکن اب وہ ایسا نہیں کرسکتے اور امریکا کو اس بات پر یقین رکھنا ہوگا کہ ایران کو اپنی پالیسی تبدیل کرنی چاہئے
 
🤔 یہ بات تو حقیقت میں یقینی نہیں کہ امریکا کی یہ کارروائی ایران کو واپس چلانے میں مدد گیگی؟ Iran کے اسٹینڈرڈ کو کھینچنے پر अमریکا کیسے سلوک کریگا? اور اگر دو ماہ میں دو سے تین جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا تو وہاں بھی اسے انحصار نہیں کرنا چاہئیگی؟ Iran کے پاس اپنی پالیسی اور دوسرے ملکوں کو یہ واضح ہونا چاہیگا، USA سے تو اتنی عائدات نہیں کی جا سکتیگی! 🚫
 
اس امریکی صدر کی کہانی میں کیے گئے وعدے کتنی بہتر ہوتے ہیں اور ان کا یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ایران کو ایٹمی نظام پر تنبھہ دیا گیا ہو؟ میں اس بات پر اصرار کرتا ہوں کہ اگر امریکا نے Iran کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کی تو وہ کیسے انہیں یقین رکھ سکتے ہیں؟ America ہی اس بات پر ذمہ دار نہیں اور وہ بھی ایران کے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
 
یہ واضح ہوا کہ اگر ایران نہیں سے آتا تو آمرکا بہت خطرناک ہو گيا.
امریکا کی یہ رکاوٹی پورے دنیا کو دیکھنی چاہیے، کہیں تک وہ ایران کو ایک ایسا موقع دیں جو اسے جوش میں نہ لائے.
 
مریخ پر کبھی کبھر کرنے والی ایسی بات یہ ہے کہ جس کے پہلے تو نہیں اور آگے بھی نہیں جانا چاہیے۔ ترمپ کی باتوں کو سمجھتے ہوئے یہ بات سب پر پڑتی ہے کہ فوجی کارروائی اور تنازعات اس لیونے میں نہیں آتے جس سے وہ اپنی مصلحتوں کو حاصل کرنے کا محرک بن سکتے ہیں بل्कہ یہ ایسی صورت حالوں میں پیدا ہوتے ہیں جب کسی نے اپنی جان و مال کو خطرے میں ڈالا ہو۔
 
امریکی صدر کے یہ بیان دیکھتے ہی تو لگتا ہے کہ وہ ایران سے ایک بات چیت کرتے وقت تنگ آنے کی بھی اچھی نہیں سمجھتے! اگر امریکا کا یہ رویہ رکھتا تو اس کی اور ایران کے درمیان کوئی سمجھاؤ یا ایمان داری ہو سکتا تھا، لیکن اب وہ Iran کا جواب دینے کے لئے بہت زیادہ ہمेशہ تنگ آنے کی پالیسی اپنا رکھ رہیں، اس سے کیا نتیجہ اٹھایا جائے گا؟
 
واپس
Top