آج بھی کراچی کا گل پلازہ، جسے لوگ دیکھنا نہیں چاہتے، ان آگ کی دھوئیں سے پھوٹے ہوئے ہنڈیوں کا لالچکہ رہا ہے۔ گل پلازہ میں کاروباری دکانوں والی ماں اور بیٹی نے خوف اور غم کے معاملے سے نکلتے ہوئے اپنے حوالے کھیل لیا تھا جب آگ لگی اور ان کی دکان کا پورا کاروبار جل گیا۔
یاسمین اور ان کی بیٹی عائشہ نے بتایا کہ وہ رات سوا نو بجے گھر سے دکان میں آئیں تھیں جبکہ بیٹے کسٹمرز کو دیکھ رہے تھے، سب کچھ اپنے معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ اچانک گل پلازہ میں بھڑکنے والی خوفناک آگ میں ان کی 20 سال کی جمع پونجی جلتے ہوئے دیکھی۔
انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کی بیسمنٹ میں ان کی گارمنٹس کی دکان تھی جس میں سوا سے ڈیڑھ کروڑ مالیت کا مال موجود تھا جو جل کر خاکستر ہوگیا۔ گل پلازہ کی اوپری منزل پر ان کی 3 دکانیں بھی تھیں جنہیں ہم نے کرایے پر دی ہوئی ہیں لیکن اب تو سب تباہ و برباد ہوگیا اور ہم سڑک پر آگئے ہیں۔
عائشہ نے بتایا کہ وہ گل پلازہ میں والدہ کے ہمراہ موجود تھیں کہ بیسمنٹ میں دھواں آنے سے کھانسی ہو رہی تھی اس دوران بیسمنٹ میں قائم چھوٹے آفس سے اعلان ہوا کہ بیسمنٹ والے فوری طور پر اپنی دکان بند کر کے باہر نکلیں اوپر آگ لگی ہوئی ہے جس پر وہ اپنی والدہ اور کام کرنے والوں کے ہمراہ جیسے ہی باہر آئے تو ہر جانب آگ کے شعلے دیکھے تو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں اور ہر جانب بھگڈر مچی ہوئی تھی۔
ایسے حالات کچھ وقت سے لاحق ہیں، وہ بھی کچھ اسٹریٹجک سے حل کرنے کی بات کیا جائے؟ گل پلازہ میں ایسی مہنگائیوں والی دکانوں کا یہ کھیل بہت خطرناک ہے، وہ لوگ جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں پچتایا جائے؟ اس وقت تک نہیں کہ ہم ایک پلیٹ فارم پر کچھ حل تلاش کریں، اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یقین رکھو کہ آگ سے نجات ملتی ہے جو سب سے پہلے اپنی جانب کی طرف بے چینی سے مोडی جاتی ہے۔
عاجز تھے گل پلازہ میں جو لوگ اپنی دکانوں کا کام دیکھتے ہیں ان کی زندگی جل کر خاکستر ہو گی۔ 20 سال کی جمع پونجی جنہیں اسے گزار رہی تھی وہ سوا سے ڈیرھ کروڑ میں ملا نہ ہوا تو دھکیا دی جائے؟ اسے تو پوچھنا چاہئے کہ یہ کیسے ہوا؟ اور کس طرح ان کے مال کو بچایا جا سکتا تھا?
جب گل پلازہ میں آگ لگی تو اس کا مطلب کچھ دوسروں کو نہیں تھا جو ان لوگوں کی معیشت پر دبا دبا کر رہا ہے جو شہر کے ایک حصے سے باہر بھی کام کرتی ہیں، ان لوگوں کو جسمانی اور مادی نقصان ہوا تو اسے معاشرتی نقصان کہا نہیں جا سکتا
آج کراچی میں ایسی صورت حال ہو گئی ہے جس پر آپ بھی کوئی لگا سکتے ہیں، یاسمین اور ان کی بیٹی عائشہ کے حوالے سے اس دکانیں جو گل پلازہ میں تھیں اب پوری ٹوٹ گئی ہیں۔ وہ اپنی ماں کی بیسمنٹ میں دکان کے ساتھ ساتھ آرہ لکھ رہی تھیں۔
اس باتیں پر غم اور خوف سے پرہیز کرنا مشکل ہے، ان کی کتنی پونی جلتے ہوئے دیکھی گئی ہے؟ ان کا پورا کاروبار اپنی ایسے ماحول میں نکل گیا ہے جہاں ہر چیز پتہ چل رہی ہے۔ یہ دکانیں جو آج کچھ سے قبل شوق کے ساتھ کام کر رہی تھیں اب ہمیشہ کی طرح ٹوٹ پڑ گئی ہیں۔
ہمیں یہ بھی اس وقت پر اپنی دکانیں کھینچ لیں، جب تک ہماری دکان نہ ہار جائے تاکہ ہمیں اسی معاملے میں چاہنے والی کچھ سے پوری مدد مل سکے۔
ان آگ کے پھوٹے ہنڈیوں کو دیکھ کر مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ کیا ہوا ہوا! گل پلازہ میں وہ کاروباری ماں اور بیٹی جو اپنی دکان کی گنجائش پر بھی تھیں، ان کو کچھ نہ ہو سکا؟ ان کا پورا معاملہ پوری جگہ میں سامنے آتا ہے اور اب ان کی دکان پوری طرح تباہ ہو گئی ہے...
اس گل پلازے میں جو کچھ ہوا وہ ہمیں یقیناً دل سے دھوکہ نہیں دے گا۔ ان کی دکان پر ڈیڑھ کروڑ رکھنے والی اموال جل کر خاکستر ہوگئی ہے اور اس گل پلازے میں بھی ایسی تباہی کا ناظر ہو رہا ہے جو یقیناً وہیں سے نہیں آئی۔
اس گل پلازے کو سادھے ہونے والے کاروباری لوگ کیسے دیکھتے ہیں جس میں دو دکانیں تھیں جو ان کا سفر آسان کر رہی تھیں تو یوں آگ لگنے پر وہاں سے کوئی نہ کوئی شخص بھاگ گیا ہوتا دیکھنا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جیسا ہو رہا ہے۔
عوض ہی غم کی بڑی وادھا ہوا نے۔ اس پرایس کے چکر میں بھی آگ لگی تو کیا کرنا تھا، یہ سوچتے تے کچھ نہ کچھ پتہ چلا ہے۔ ماحول کو نہیں دیکھتے تو آپ کی صحت پر بھی بہت اثر पडتا ہے ، اس پرایس میں بھی آگ لگی تو کیا کیا کرنا تھا؟ اس پرایس سے نکلنے والے لوگوں کے پاس دھونے کی کتنے ٹپوں کا پانی تھا؟
علاواہ گل پلازے کی دھویں سے نکلنے والا ایسا لالچکہ ہنڈیا جو ابھی بھی آگ کے شعلوں میں جھونکھا ہوا تھا، اب ان کی دکن میں ہے۔ یہ سچ ہے کہ اگر آگ لگی تو کسی نے فوری طور پر اپنی زندگی کو بچانے والی کاروائیاں نہیں کی۔ یہ رہتے ہوئے گل پلازے میں سوزنے والے ایسے لوگ اور ان کے مال کی پoniج جلتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہیں گے۔
یے دیکھو گل پلازہ میں ایسا ہوا ہے کہ لوگوں کی ساتھ نہیں رہنے دیں پھر آگ لگ جاتی ہے؟ ان جو گارمنٹس کی دکان کھیلتے تھے وہ اب اس بھاری کھرب کا شکار ہو گئے ہیں، اور ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا ہے؟ یہ تو ایسا ہوا ہے جیسے وہ پوری طرح اپنے دھن کی بھاگتے چلے گئے ہوں…
یہ ہو سکتا ہے کہ گل پلازہ میں دھماکہ ہوا تو یہ ایک ناقص جگہ ہے۔ وہ لوٹیاں جو گزر رہی ہیں ان کی چابوتریاں نہیں بن سکیں گی اور وہ لاکھوں روپے کا خوفناک جھاڑپڑ ہوا تو یہ بھی بہت گہرا ہے۔
وہ دن جب گل پلازہ میں کاروباری دکانوں والی ماں اور بیٹی یاسمین کا گھر تباہ ہوا... ہمیں یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ ایک آگ نے ان کی پوری زندگی جوڑی...
جب میں بھی چھوٹی سی عمر تھی تو میں اپنے والد نے گل پلازہ کے دکن وینڈر تاکر رکھا تھا، اسی جگہ میں اب ایک 20 سال کی جمع پونجی جو 20 سے 30 منٹ میں جلت گئی... یہ دیکھنا کتنا ہی بے حوال ہے...
جب تک آگ جل رہی تھی تو دکان والوں نے ان پر غور کیا تھا کہ پورا کاروبار ان کی زندگی کے ساتھ جلتا... لاکھوں روپے کا پورا مال خاکسٹر ہو گیا، یہ اس بات کو بھی بتایا کہ ایک تباہ hone والے وقت میں کیا کرنا چاہئیے، اب ان کی زندگی ایسی ہی ہوا جوڑی...
ایسا لگتا ہے جیسے گل پلازہ میں ایک آگ کی دھوئیں بھی ہیں جو لوگوں کو اپنے چکر میں رکھتی ہیں… 20 سال کی جمع پونجی کو جل کر خاکستر بنانے والا نہیں، ان کے دکان کی مال ڈیڑھ کروڑ سے کم نہیں تھا! اور یہ لوگ کبھر کر 3 دکانیں بھی تھیں جنہوں نے آپنی کاروباری دائیty کو جلنے سے پہلے کیا؟
یہ گل پلازہ کی دکانیں تو دیکھنا نہیں چاہتے، لیکن ان کے مالکان کو دیکھنا کافی دیر تک بھاگتا ہے۔ یاسمین اور ان کی بیٹی عائشہ کے واقعات میں دلچسپی رہتی ہے، ان کا مال پھوٹنے والا تھا جس سے وہ اپنی زندگی بدلنا پہنچ گئیں۔ ان کی دکان کا جومال تھا وہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ اور اب انہیں ہی کے ساتھ نا ہار جائنا پڑ رہا ہے۔
ابھی تو یہ دیکھنا بھی تھا کیوں ان لوگوں کے معاملے میں سمجھ نہیں آتی لیکن گل پلازہ میں ہونے والے واقعات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ان لوگوں کا کوئی بھی معاملہ اپنے آپ پر غور نہیں کرتیں اور اس لئے ہی ان کی جانب سے مدد م mangani نہیں ہوتی، یہ دیکھنا بھی تھا کہ ان لوگوں نے اپنے کیا ہوا اس لیے یہ 20 سال کی جمع پونج آگ میں جلتے ہوئے دیکھ کر ان کا معاملہ اس پر کبھی نظر نہیں سکتا، مگر ابھی یہ بات سامنے آئی ہے کیوں آگ لگتی ہے لیکن پھٹتے وقت کسی کو بھی یہ بات معلوم نہیں ، مگر ایسا سمجھنا چاہیے کہ ان لوگوں کو جو کچھ ہوا اس پر غور کرنا چاہئے اور ان کی مدد کرنا چاہئے۔
عاجزہ گیا اور غمگسارہ ہوا جب گل پلازہ میں آگ لگی۔ یہ ایک عظیم دکان تھی جو اپنے مال کو بکھیر کر رہی تھی، ان کی بیٹی نے بتایا کہ وہ گھر سے دکان میں آئیں تھیں جب 20 سال کی جمع پونجی جل گئی تھی۔ یہ ایک بڑا نुकसان ہے، جو کہ ان کے ساتھ اپنے مال کو ڈھونڈنا مشکل ہوگا۔