Husband Arrested for Killing Wife Over Domestic Dispute in Lahore | Express News

گرگٹ

Well-known member
لہور میں ایک گھریلو ناچاقی پر چار سال کی بیوی کو قتل کرنے والا شوہر 30 سالہ علی رضا کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ فیکٹری ایریا میں شام کے وقت انہیں دھمکیوں اور چپکچاؤ کی کہانی سنی جاتی رہی، اس نتیجے میں بیوی اقراء کو ٹوکے سے قتل کر دیا گیا تھا۔

گھریلو ناچاقی پر بھیروپن پھیلانے والے شوہر کو پولیس کینٹ اخلاق اللہ تارڑ اور ڈیفنس بریرہ کی ہدایت پر گرفتار کر لیا گیا ہے، اس میں ایس ایچ او فیکٹری ایریا کا بھی حصہ تھا جس نے ملزم شوہر کو آلہ قتل سمیت پوسٹ مارٹم تک تحویل میں لکیر دی۔

پولیس اور فرانزک ٹیم نے شواہد اکھٹی کر کے لاش کو تحویلیں میں رکھا اور پوسٹ مارٹم تک ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا۔ اس واقعے پر ایس پی کینٹ اخلاق اللہ تارڑ نے کہا، "کوئی بھی رعایت قانون کے تحت لانے والا مستحق نہیں ہوتا، مزید کارروائی عمل میں لی جا رہی ہے"۔
 
اللہ کی کرسٹوڈریس کیا ہوئی? ایک فیکٹری ایریا میں شام کے وقت دھمکیوں اور چپکچاؤ میں مر جانی۔ یہ شہر کی زندگی کا حقیقی پھونے وala ہے! پوری دنیا کو یہی ہزاروں ٹوکے سے قتل کر رہی ہے اور ہمیں سچائی کا کیا بھل گنا؟ شواہد اکھٹی کر کے لاش کو تحویلیں میڰ رکھنا تو یہی نہیں بلکہ ان لوگوں کی سزائی ہے جو اس طرح دھمکیاں دیتے ہیں اور قتل کرنے والوں کو چھپانے میں مصروف رہتے ہیں?
 
وہاہ! یہ بات صرف وہی مین جو اس سے متعلق نہیں پوچھتا تو دوسری گالپٹی کیا؟ ناچاقی پر بھرونے والے ماہرین کو ان کے ذمہ ہونے والے واقعات کی سیرے میں کس قدر رغبت ہوتی ہوگی؟ اور یہ تو ان لوگوں نے تاکٹک کر دی اور اس طرح ایس ایش پی نے انھیں گرفتار کر لیا تو، جب تک میں اس گالپٹی پر پہنچوں گا تو، وہاہ! 🤪
 
عجीब جسبت ایس اور نچوں کا کیس بھی نہیں ہوا تو یہ چل رہا ہے؟ جو شاداب کی طرح سے گھروں میں اپنی حقیقی صورت کا مظاہرہ کر رہا ہے وہیں کچھ نئے شکار بننے کو آئے ہیں! یہ ناچاقی کی روایات بھی کوئی نہیں بدل سکتی ، صرف جھوٹے لالچ اور دھمکیوں سے اسے اپنا احاطہ بنانے کا کوشش کر رہے ہیں؟ مجھے یہ تو بتاتے پہ ہی نئے شکار کی خبر نہیں تھی!
 
aise kaisa mukadama hai! yeh sab galti se hoti hai. woh log jo yeh kar rahe hain, wo na sirf apne jeevan ka bhi khatra karte hain balki dusron ki maanavta ko bhi. Police ke saath saath koi aur bhi saamaanya vyakti yeh galti kar sakta hai toh kitna bada mudda hota? yaad rakho, kabhi bhi naachakagi par bandh nahi ho sakte, lekin apne jeevan ko ek sahi disha mein le jaana chahiye.
 
عصمت کے ساتھ کہنا ہے کہ یہ دوسرے لوگوں کو بھی ایسا کیا گیا تھا جنہوں نے اس گھریلو ناچاقی پر بھروپن کرتے سنیا ہوتا... میرے خیال میں یہ کام ہی نہیں تھا جو اس شہر میں سے باہر ہوا تھا، اور اب تک ہونے والے واقعات بھی ایسے ہی تھے... مجھے لگتا ہے کہ یہ شہر میں ہی رہنا چاہئیے، ابھی اس شہر میں نہیں اور پھر سے وہی... 😕
 
🤕 یہ شائد تھا جس سے لہور کی ایک بے حد مشہور فیکٹری ایریا میں دھمکیاں چل رہیں تھین ان کو سمجھ کر کیا گیا تھا کہ شواہر اپنی بیوی کو قتل کیسے کرے گا یہ تو پتہ چلا ہی نہیں لیکن اس میں وہ بھی رہا جسے نہیں سمجھنے کی जरورت تھی… 30 سالہ علی رضا کیسے اتنے ایکثر پر پابند شواہر بن سکا… آج تک اس کی بے دردی کا کوئی تعلق نہیں سامنے آیا تو یہ بھی تھا اس کا پہلا عمل ہے یا یہی آخر؟
 
ایسا کیا تھا یہ جو ہوا؟ ایک گھریلو ناچاقی پر بھیروپن پھیلانے والے شوہر کو پولیس تک لے کر جا رہے ہیں اور اس کا شکار اپنی بیوی ہو گئی! یہ تو انسانیت کی عقل سے بے پناہ کیا ہوا۔

میں اُسے جسمانی طور پر بھی نہیں دیکھا بلکہ میری ایموزنٹس میں اسے دیکھ رہا ہوں تاکہ یہ واقف ہونے کا موقع مل سکے کہیں اور بھی اس طرح کی بات چیت نہ ہو۔

ایسا تو ہوتا رہتا ہے جب عوام کو پچتاوا دیکھ کر کچھ نہ کچھ کرونا پڑتا ہے، مگر یہاں یہ بھی بات اچھی ہے کہ جسے شکار ہوا وہ اپنی پریشانیوں کو کیسے سنبھالے؟

ایسا بھی دیکھنا ہے کہ پولیس نے اس شام کو کی گئی تمام بات چیت پر اچھی طرح نظر رکھی اور یہاں تک پہنچ گیا کہ جس میں یہ بھی شام آگی وہ سچ ہو رہا ہے۔

اب یہ بات کوئی نہیں سمجھ سکا کی ایک گھریلو ناچاقی پر پھیلی ہوئی بھروپن کے باوجود بھی اس کی بیوی کو قتل کر دیا گیا تھا، یہ وہ بات ہے جو لوگ سمجھ سکتے ہیں اور اس پر اچھی طرحReflect کرنا ہو گا کہ پوری دنیا کیسے ایسے واقعات میں دھلائی جاتی رہتی ہے۔
 
آج کی سست آفتاب میں یہ خبر سن کر پچھلے دو سال سے گزرے تھے کہ اس ناچاق کا شوہر دوسرے شہروں میں اپنی فیکٹری آفائسز کے ذریعے بھیروپن پھیلانے لگا تھا۔ یہ 31 اکتوبر کو کیسے ہوا ، ناکام شوقینے کی ایک دلکش بیوی کو اپنی دل پر بنانے کی دلی्ल میں دوسرے شہروں سے بھی اپنے فیکٹری میں آئے اور اسے قتل کر دیا ۔
 
یہ گھریلو معاملہ انتہائی دکھ کی بات ہے، اس کی طرف نازک پہاڑوں سے جان پھونکتی ہے... ہمارے یہ رہا ایسے دن جب خواتین کو بھی اپنے حق کے لیے لڑنا ہوتا ہے، اس کے جواب میں سوشل میڈیا پر بھی دھکے ہیں... 30 سالہ علی رضا کو اور اس کی نائٹفول فیکٹری شام کے وقت انہیں کس طرح دھمکیوں سے پھانکایا گیا، یہ بات تو چہچہے سے بھی نہیں سکتی... ڈیفنس بریرہ کی ہدایت پر پوسٹ مارٹم تک تحویل میں لکیر دی گئی، اس کو جسمانی طور پر توجہ دی جائے تو یہاں تک کہ سوشل میڈیا پوڑی بھی نہیں... مریض ہونے کی وجہ سے اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا، لیکن یہ بات تو چالaki ہے کہ وہ اپنی بیوی کو قتل کرنے کے بعد کیسے محسوس ہوتا تھا... اس سے پہلے بھی اس نے شام کے وقت دھمکیوں اور چپکچاؤ کی کہانی ان کے سامنے سنائی رہی تھی... اس گھریلو معاملے کو حل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پوری طرح اچھا کام کرسکتا ہے یا نہیں...
 
يا تو یہ کچھ بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک انسان جسے پیار اور احترام کی شادی میں پھنسا ہوا اپنی بیوی کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے؟ اس کو لے کر کیسے سمجھیں اور ایسا نہ ہونے کی کوشش کریں? پولیس نے شواہد اکھٹی کر کے بھیروپن پھیلانے والے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے، اب یہ تو وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قانون کی حیرت میں کوئی بھی نہیں رہتا۔ لاش کو تحویلیں میں رکھنے سے پہلے اسے تحفظ میں ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا گیا، یہ سارے کام کیسے ہوئے؟
 
بے شمار گھریلو ناچاقیوں کی قربانی ایسے سواہش کی ہوتی رہتی ہے، اور یہ بات کوئی نہیں چھپانے دے گا کہ یہ سواہشوں میں سے اکیلے بھی پریشان کن واقعات ہوتے ہیں। شامی شخص کی جانب سے دھمکیاں اور چپکچاؤ، یہ تو کافی ہے، لیکن جب کوئی شخص ایسا کرنا شروع کرتی ہے تاکہ اس کی بیوی کو قتل کر دیا جائے تو یہ مکمل طور پر غیر انسانی ہے۔ پھر بھی یہ بات کوئی نہیں چھپانے دے گا کہ یہ ملک میں سواہش کی دھارے کا ایک اور اہم حصہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ پولیس کی کارروائی بہت موثر ہو رہی ہے، انہوں نے دوسرے گھریلو ناچاقیوں کو یہ نتیجہ دینے سے روک دیا ہے جو اس شخص سے سواہش کر رہے تھے۔
 
اس کا اس قدر دبا کر کیا گیا ہے? جس شخص کی بیوی کو ان پر فیکٹری ایریا میں شام کے وقت دھمکیوں اور چپکچاؤ کی کہانی سنی جاتی رہی تو اسے اس طرح سے قتل کر دیا گیا ہے؟ یہ ان کے حقدار ہیں؟ میرے خیال میں پتہ چلتا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو ناچاقی پر بھیروپن پھیلانے والے ہوتے ہیں اور ان کا اس جیسا حقدار نہیں ہو سکتا۔
 
اللہ کی وچاریں! یہ شام کے وقت دھمکیوں اور چپکچاؤ پر بھیرونا کوئی بھی acceptable nahi hai. ایسا کرنے والا انسان ہر گھریلو ماحول میںDanger kar raha hai. پولیس نے بالکل سے بالکل صہی کیا ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیق ہو جائیگی. اگر اس معاملے میں کسی بھی شخص کو ناکام کرنے والا پاتا ہے تو وہ اپنی side par chalta raha hai. مجھے یہ بھی اچھا لگتا ہے کہ ایس ای شانے والوں کو آئندہ کچھ اچھا کیا جائے گا? 🤔
 
یہ واقعہ تو بہت ہی دھوکہدار ہے ، ایک گھریلو ناچاقی پر کسی کی زندگی کا انتقام کو کیا جاسکتا ہے؟ یہ شواہد تو پورے تھوڑے سے زیادہ نہیں ہیں مگر ان کے بچپن اور بڑپن کے وقت میں بھی اس طرح کی دھمکیاں تو لگتی ہیں۔ پولیس کو اس پر گہرا تعلق پڑے گا، یہ شواہد پورے ملک میں آئے ہوں گے ، دوسرے بھی اسی طرح کے واقعات سنا کرنے پر اٹھنے والے ہوں گے۔
 
میری یہ بات سے بھی دیکھنی پڑی کے لاش کو تحویلیں میں رکھا، پوسٹ مارٹم تک ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا، ایس پی کینٹ اخلاق اللہ تارڑ کی بات سے بھی کچھ یقینی نہیں ہے، کیا انھوں نے اس پر کوئی جائے گاہ دی ہوگی؟
 
اس حقیقت سے ایسے لوگ محض سکون حاصل کرتے ہیں جنھیں دل کی بھावनات سے کوئی بات نہیں پوچتی اور وہ لوگ جو کسی دوسرے کے لئے ایسا ہوتے ہیں انھیں اچھائی سمجھ کر بھی سزا نہیں مل سکتی
 
اس قدر غضبتے ہی دیکھا تھا اس شام کے گھریلو ناچاقی کی حقیقت پر… 30 سالہ علی رضا کو پکڑ لیتے ہیں، یہ بھی صاف ہوتا ہے کہ فیکٹری ایریا میں کون سی دھمکیاں سنی جاتی رہیں؟ مچھل ہر ایسے ناچاقی پر چار سال کی بیوی کو قتل کر دیتے ہیں، اور پھر تو یہ شہر Lahore میں ہے جہاں سارے ملک کے لوگ آتے ہیں، اور یہ بھی ناچاقی کو گرفتار کر لیتے ہیں، وہ فیکٹری کی جانب سے بھی کیا گیا؟

کسی کی بھی نوجوان بیوی کو ٹوکے سے قتل کرنے والا شوہر کو پکڑنا بہت جھوٹا ہے، اس پر بھروپن پھیلانا اور شام کے وقت دھمکیں دینا یقیناً وہی نہیں کر سکتا تھا… اور اب اس کی جگہ کیا؟ ان کے لئے ایس پی کا جانشین ہو گیا، یہاں تک کہ شواہد اکھٹی کرکے لاش کو تحویلیں میں رکھنا اور پوسٹ مارٹم تک ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا جانا بھی یقیناً ایسے لوگ کے لئے ہوتا تھا…
 
اس کے واقعے پر بھارپور ہونے کے باوجود پوری کوشش ہی نہیں کی گئی، یہاں تک کہ شام کو اس ناکام شوہر نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا تو دھمکیاں اور چپکچاؤ پھیلائے تو بھی. سایہ ڈالنے والے یہ کہتے ہیں کہ "میں ایک غریب نہیں ہوں، میں کہتا ہوں" لیکن جب اس پر قانون کا سایہ نہیں ہوتا تو یہ لوگ کیا کرتے. ان لوگوں کی بھنچکے ہوئی زندگیوں میں پھنسا ایس ایش او کا ڈیپارٹمنٹ بھی ہوتا ہے، اور یہاں تک کہ پوسٹ مارٹم تک ناکام شواہد کو تحویل میں لکیر دی جاتی ہے.
 
ਇਸ ہالات کی چھوٹ-ਬڑੀ ہے تو بھارت سے لے کر پاکستان تک، جسے ہم ناچاقی کہتے ہیں، اور پھر یہاں تک کہ وہ لوگ جس کی نسل میں بھارت سے لے کر پاکستان تک کی سب کی نسل کا حصہ ہو، ابھی تک ان پر بھی دھمکیاں اور تشدد کا شکار رہنے کتنا نہیں کہیں تو لگتا ہے ۔ یہاں تک کہ پوسٹ مارٹم تک ان کی بیوی کو قتل کر دیا گیا، اور اب وہ اس حقیقت کے سامنے ہیں جو انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا کیا تھا، اچانک پھر سے ایک بار پھر ہمیشہ کی طرح دھمکیاں دھونے لگے ۔
 
واپس
Top