Husband Arrested for Killing Wife Over Domestic Dispute in Lahore | Express News

اس گھر کی حقیقت جس کو لوگ نہیں دیکھ رہے تھوڑا بھی کھلنے دوں۔ اس ناچاق کے جواب وہ سایہ جس سے وہ محرک ہوتا تھا، وہ اب قائم نہیں رہ سکا۔ دھمکیوں اور چپکچاؤ کے اس دور پتہ چلتا ہے کہ ایسے لوگوں کا جواب جھیل میں ڈوبنا پڑتا ہے۔
 
ایسے کیوۂن بھی ہوتی ہیں جو سانس لیتی ہی ہی آپ کو دل تھامتی ہیں، ایک جیسا کہ شام میں دھمکیاں اور چپکچاؤ کی کہانی بھی ہوتی ہے یہ تو قتل کے بعد وہاں سے پھنسی اٹلی والی ایس پی نے لاکھوں روپے کے معاوضے میں شواہد کھینچ لیے ہوتے ہیں یہ بھی ایک reality ہے۔
 
اس واقعے پر میرے خیال یہی ہے کہ جو لوگ ایسے کرنے والے ہیں وہ سبھی ساتھ ہیں، ناچاقی اور ان کی بیوی بھی اس طرح سے نہیں بنتی، یہ شہر بھی اس طرح سے نہیں بنتا۔ ہمیں اپنے قیاس آرائیوں پر چھٹنا پڑتا ہے اور جو لوگ فیکٹری میں دھمکیاں دیتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کیا جائے گا۔ ہمیں اپنے ملک کو بھی ایسے سے بنانے پڑے گا جس میں کچھ لوگ دھمکیاں دیں اور کچھ لوگ ڈریفنگ کرکے پھنس جائیں تو اس کا نتیجہ نہیں آتا۔
 
عجیز یہ صورتحال کی گھنٹیاں گزر رہی ہیں اور ان سے بھی ناچاقی کو مارنا کیسے لگتا ہے؟ ایسے لوگوں کے جو چالاک تھے ان کی یہ مہارت ابھی تک کچلنے میں نہیں آئی اور جسے پورا ملک دیکھ رہا ہے وہ صرف فیکٹری پر بھیروپن کرنا بھی نہیں بلکہ قتل کرنا چاہتے تھے! یہ واقعہ کتنے لوگ دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے کسی بھی فون پر اور کسی نہ کسی کے سامنے ایسے سچے شواہد پیش کیے تھے کہ اب پورا ملک جागا ہوا ہے!
 
یہ واقفہ کھل کر دکھای رہا ہے کہ جتنا بڑا شوہر اور ملک میں بھیروپن پھیلانے والے لوگ ہوتے ہیں ان کی بھائیچارے اور خاندانی رشتوں پر ان کے معاملات کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر یہ بات تو چلو وہ بھی اپنے شوہر کی طرح ہی نہیں تھے، اس کی پوری سائینسی پکدھی کھو دی گئی ہو گی تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ جب یہ بات سامنے اٹھتی ہے تو نہ صرف شادی کے ساتھ ساتھ ایک بے باکی کے مظالم کی جانب دیکھی گئی ہے بلکہ ان لوگوں کو بھی اس طرح کا معاملہ لگ رہا ہے جو نہ ہونے دیں چاہتے ہیں اور یوں ایس پی کی جانب سے ان کے مظالم کو ٹھیک کرایا گیا ہے۔
 
یہاں تک کہ ایس پی بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ شوہر نے بیوی کو قتل کر دیا تو اچانک ان کی گرفتاری ہو جاتی ہے، ابھی ان کے سامنے نہ تو دھمکیاں ہوئیں، نہ ہی چپکچاؤ، تو وہی قتل کر دیا گیا۔ یہ صرف ایک عام ناچاقی کے معاملے میں ہوا اور اب ان کی گرفتاری ہوئی، لیکن اس واقعے سے پوچھنا ہوتا ہے کہ کیسے بھی ایسا ہوا اور اب تو یہ ہوا، پھر اس کی نتیجہ میں کیسے پہنچا؟

شواہد کی اکثریت کے بغیر کوئی accused ko bhi گرفتار کر سکتا ہے لیکن یہ بھی ایک نقطہ نظر ہے، اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور شواہد دونوں کی جانب سے تو اس معاملے کو حل کرنا ضروری ہے لیکن ایسا کرنے کے لئے یہ بھی پہلے لازمی ہے کہ ان्हوں نے سچائی کی جانب سے کام کیا ہے یا نہیں،
 
واپس
Top