اس وقت کو دیکھتے ہیں تو پاکستانی بینکوں نے اپنی کارکردگی میں بہترین موڑ کیا ہے، اور اس کی وجہ سے سالانہ بنیادوں کی آمدنی تقریباً 30 अरبیں ڈالر ہے، لہٰذا ڈالر کی قدر روپے کے مقابلے میں کمزور ہو گئی ہے، اس سے مارکیٹ میں ایک ایسا موڑ آیا ہے جس سے ڈالر کی قدر تمام دورانیوں میں تنزلی سے دوچار رہی اور ایک موقع پر 21 paisa ki kami se 279 rupaye tak pahunch gayi thi, ab kisi bhi tarhai par 85 paisa ki aik saman level tak pahunch gayi hai.