انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد انٹرنیٹ کی اہمیت نے کوروونا وبائیisease کے دوران بھی یہ پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
چین سے ملنے والی معاشیں اور باہمی تعاون سے پاکستان کی اقتصادیات میں اضافہ ہو گیا، یہ پوری طرح ٹھری رہی کہ زرمبادلہ نے دسمبر 2026 تک روپے 40 لاکھ سے 48 لاکھ ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔
یہ اضافہ کاروباری منصوبوں، زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں بدھ کو روپیہ کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ورکرز انفلوز میں برقرار رہنے نے بھی اس میں حصہ ڈالا ہے۔
ایک موقع پر ڈالر کی قدر کو 27پیسے کی کمی سے لے کر 279روپے 55پیسے کی سطح پر اور ایک اور موقع پر اسے ایک پیسے کی کمی سے لے کر 279روپے 81پیسے کی سطح پر بھی اٹھایا گیا تھا، لیکن مارکیٹ فورسز کی ڈیمانڈ آنے کے ساتھ ساتھ کاروباری اختتام کے وقت اسے ایک پیسے کی کمی سے لے کر 279روپے 81پیسے کی سطح پر بند کر دیا گیا تھا۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر کو 2 پیسے کی کمی سے لے کر 280روپے 88پیسے کی سطح پر بند کیا گیا تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ چینی معاشیں اور باہمی تعاون سے پاکستان کو ایک نئی پوزیشن ملی ہے جس سے وہ اپنے معیشت میں بڑھ رہا ہے، لیکن یہ بات دیکھنی چاہیے کہ یہ اضافہ کیسے حاصل ہوا اور اس کی پوری تائید کیا جا سکتی ہے؟ پتہ چلا ہے کہ روپے کی قدر میں اضافہ کاروباری منصوبوں، زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں اور ورکرز انفلوز سے بھی وابستہ ہے، لیکن یہ بات یقینی بنانے کے لئے کچھ مزید تحقیق کرنی چاہیے کیونکہ معاشیں اور باہمی تعاون سے حاصل کردہ بہت سارے Factors ہوتے ہیں جو معیشت کو पھلنا لگتا ہے۔
اوروں کہنغے کچھ بھی نہیں پکٹ کی قدر میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ تو دیکھنا کہاں تک پہنچ گیا ہے؟ ڈالر سے روپے میں 40 لاکھ تک چلنا یہی نئی بات نہیں ہے، کہوں تاکہ اس سے بھارت اور چین کے بین الاقوامی مناصب میں کوئی ضائع نہ ہو؟
بڑے بڑے معاشیات ہی نہیں، یہ ماحولیاتی معاملات ہیں جو کاروبار کو روک رہی ہیں. چین سے ملنے والی معاشیں اور باہمی تعاون سے پاکستان کی اقتصادیات میں اضافہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زرمبادلہ اپنی پیش گوئیوں سے آگہ ہو چکا ہے. لیکن ایسے معاملات میں ٹھوس نقطے نہیں، یہ ماحولیاتی اور سماجی معاملات ہیں جن کا کیا مطلب ہو گا؟ ڈالر کی قدر میں اضافہ تو بھی ایک معاملہ ہے، لیکن اس کو پورا مقصد نہیں دیکھنا چاہئے.
روپیہ کی قدر میں اضافہ ریکارڈ ہو گا تو ایک طرف سے اس کو بھی نئی اور عزم دار پوزیشن میں لے کر آ رہا ہے لیکن دوسری طرف یہ کتنا حقیقی ہے؟ کیونکہ ڈالر کی قدر میں اضافہ تو ڈالر کی مارکیٹ میں بھی ایسے ہیں حالانکہ روپیہ اور ڈالر دونوں کا معاملہ مختلف ہے اور ان دونوں کے درمیان سے زیادہ تر تعلقات کی نئی پوزیشن آ رہی ہے لیکن یہ بھی بات ہے کہ یہ واضح طور پر روپیہ کی قدر میں اضافہ سے ڈالر کی مارکیٹ کو کبھی نہیں زبردست دیکھا گیا۔
ہمیشہ سے میرا خیال tha اورہاں روپیہ کا قدر زیادہ رہتا ہے اور ڈالر کی قدر کم رہتی ہے لیکن اب اس بات پر یقین کر کے ہوں گے کہ روپیہ کی قدر میں بھی اضافہ رہا ہے اور ڈالر کی قدر کم رہی ہے۔ یہ بات تو چینی سے ملنے والی معاشیں اور باہمی تعاون سے ہوئی ہے جس کے بعد پاکستان کی اقتصادیات میں بھی اضافہ رہا ہے۔
آج کل کاروباری منصوبوں اور زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں روپیہ کا مقابلہ کرنا اس قدر آسان ہوا ہے جیسے یہ ہمیں دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی مقابلوں میں ہمیشہ ہم پہلے سے رہ گئے ہیں۔
ابھی کی ڈالر کی قدر کا ہمیں اس طرح کی کمی میں اٹھایا گیا تھا، مگر ایک بار پھر مارکیٹ فورسز کی ڈیمانڈ آنے کے ساتھ ساتھ کاروباری اختتام کے وقت اسے بھی واپس اٹھای دیا گیا تھا۔
اس واضح ہو چکا ہے کہ پڑھنے والے لوگ اچھی طرح سے سمجھتے نہیں ہیں، جیسا کہ بھارت نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ وہ روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کرنے والا پہلا ملک نہیں ہے، یہ دوسرے ملکوں میں بھی کیا جارہا ہے!
اس نئی معاشی پوزیشن کو دیکھتے ہی میرے دماغ میں ایک گول فٹبال کا تصور آتا ہے۔ جیسے جیسے پاکستان کی اکoniومی ڈنو ڈن ہوتی جائیگی، وہ ایک ساتھ ساتھ دوسرے معاملات میں بھی اپنا اثر اندازیت کا مظاہرہ کرے گی۔
میری نیند سے بھاگنے والی کوٹیڈی نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر اس معاشی پوزیشن کو برقرار رکھا جائے تو انٹرنیٹ کی اہمیت بھی اس طرح ہی ہونے والی ہو گی، جو کہ کوروونا وبائیisease کے دوران ایک چیلنج میں باہمی تعاون اور معاشی سلوک کی توجہ سے بننے والی تھی۔
انٹرنیٹ کی اہمیت نے کوروونا وبائیisease کے دوران بھی یہ پوزیشن برقرار رکھی ہے، ڈالر کی قدر روپے میں اضافہ کرنے کا یہ سبق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انٹرنیٹ ایک اچھا کاروبار بنانے والی نہیں تھی۔
عاجب ہے کہ زرمبادلہ کی پیش گوئی سے پہلے روپے کی قدر میں یہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، اب بھی ان کاروباری منصوبوں اور زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر روپے سے زیادہ نہیں پہنچتی تھی۔
جی وہاں پاکستان کی معاشیات میں چین سے ملنے والی معاشیں اور باہمی تعاون کا اثر دیکھنا ہر طرح سے جھلک رہا ہے۔
چند روز قبل ڈالر کی قدر میں کمی آئی تو وہ بھی ایسے تھے جو لوگ اس کے نتیجے میں کاروباری منصوبوں سے پٹ رہے تھے، اور ڈالر کی قدر میں اضافے سے انki company ke liye bhi zyada tareekh mili thi.
ایسا تو لگتا ہے کہ روپیہ کا قیمتی انداز بڑھنا یوں ہی نہیں ہو گا، پھر کوئی مارکیٹ فورسز کیا کرتے ہیں کیونکہ اس سے کاروباری منصوبوں میں اضافہ کرنا اور زرمبادلہ کو روپیہ میں تبدیل کرنا ہوتا ہے، لیکن وہ بھی اس پر قابو پانے کے لئے ایک زیادہ مشکل کام بن جاتا ہے۔
ایسے سے آرے یوں نہیں رہے گا کہ ڈالری اور روپیہ کی قدر کو ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے، اس پر ایسا لگتا ہے کہ پوری دنیا کی معیشت اس پر مبنی ہے اور یہ بھی ٹھیک ہوگی کہ مارکیٹ فورسز کو انھیں ساتھ رکھنا چاہئے، لیکن ابھی تک جس طرح ایسا نہیں کیا جا سکا اس کا آسمان کی گنجائش ہے۔
جیتو , پاکستان کی معیشت میں اچھی بڑی تبدیلی ہوئی ہے، پورے ملک کے لیے یہ ایک ریکارڈ ہے! روپے کی قدر میں اضافے سے کاروباری منصوبوں کو بھی ٹھمکنے والا پہنا ہوا ہے، اور یہ تو کورونا وبائیisease کے دوران انٹرنیٹ کی اہمیت نے بھی اس میں حصہ ڈالا ہے
یہ بھی دیکھو گے کہ چینی سے ملنے والے معاشیں اور باہمی تعاون سے پاکستان کی معیشت میں زیادہ ترتیب ہوا ہے، اور یہ پوری طرح زرمبادلہ کی پیش گوئی پر بھی چل رہا ہے
اس معاشی تبدیلی کی بات چیت میں آئی ہے تو میں کہتا ہوں اور اس پر کوئی حیرت نہیں ہے۔ یہی ہے جس کے لئے سارے ٹرینٹ ڈپلومٹس کی گئی تھیں اور اب ڈالر کی قدر روپیہ میں اضافہ کر رہی ہے تو یہ بہت سی باتوں کا نتیجہ ہے۔
چین سے ملنے والی معاشیں اور باہمی تعاون سے پاکستان کی اقتصادیات میں اچھائی آئی ہے تو اس پر کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بہترین بات ہے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس معاشی تبدیلی کی وہ سب سے زیادہ رکاوٹ اور ناکام ٹرینٹ ڈپلومٹس سے متعلق بات یہ تھی کہ زرمبادلہ نے دسمبر 2026 تک روپے 40 لاکھ سے 48 لاکھ ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی تھی اور اب یہاں تک کہ اس کی ایک بھی حد نہیں ہو سکتی ہے۔
سارے ملکوں میں کاروباری منصوبوں کے ساتھ ساتھ ورکرز انفلوز میں برقرار رہنے نے بھی اس معاشی تبدیلی کو یہاں تک پہنچایا ہے اور اب ڈالر کی قدر روپیہ میں اضافہ کر رہی ہے تو یہ ایک بھتیرا شوق ہے۔
ایسا دیکھنا ہی کثرت ہوتی ہے کہ جب ہم اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کیا کارونہ کرتے ہیں تو پھر یہی میرت، میرت کی ایک دوسری میرت ہوتی ہے۔ ڈالر اور روپیہ دونوں معیشتوں کے لیے ایسی میرت ہیں جن کی پوزیشن بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
اور یہ بات تو چیلنجنگ ہے کہ کیا آپ اس کے لئے ایک معیار یا سٹینڈرڈ ٹھہرایا جا سکta ہے، جس پر سب کچھ متعلق ہو؟ میرے لئے یہ ایک اہم سوال ہے جو ہمیں اپنے معیار کو یقینی بنانے کی پریشانی میں پڑتا ہے۔
میں تو یہ دیکھتا ہوا ہوں کہ ڈالر کی قدر روپے سے بڑھ رہی ہے، اور جس نے یہ کیا ہے وہ بھی اپنی اہمیت کو پریشان نہیں کر رہا۔ اب جو کاروبار ہوتے ہیں ان میں روپے کی قدر کی حد تک ضروری ہو گئی ہے، اور یہ بھی کہیں نہیں جا سکتا کہ اس کی اہمیت کیسے کم ہو گی اور کیوں؟ میرے لئے ہمارے معاشیات میں ایک ایسا موڑ آ گیا ہے جس سے ہمیں اپنی تجارت کو بھی ایسی طرح بنانا ہو گا۔