JI Hafiz Naeem Criticized Trump and pakistan leaders | Express News

باغبان

Well-known member
امریکا کے صدر دونوں مظالم پر پھیل گئے ہیں، جس میں عالمی عدالت انصاف کا مجرم نیتن یاہو بھی شامل ہے۔ جن کے خلاف یہ تحریک شروع کی گئی تھی، اس کے بعد نے وینزویلا کے صدر کو بھی اغوا کیا، پھر بھی پاکستان کے حکمران امریکی صدر دونوں کا احترام حاصل کرنے کیلیے ہمیشہ بے تاب رہتے ہیں۔

علاوہ یہ کہ، ان میں سے کسی کو کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مظالم پر پھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات صاف اور قطعی ہے کہ ٹرمپ نئے نوآبادیاتی نظام کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے، جس کی نیند میں کوئی بھی ایسا نہیں کہ سکتا۔

عوام کی رائے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تو وہ لاوا پھٹ جائیگی، بلکہ یہ بات صاف ہے کہ عوام میں بھگتے ہوئے ہی ان کے مظالم پر پھیلنے کی رائے لگنے لگی، اور حکمرانوں کو بھاگنے کا راستہ مل جائے گا۔

بھارتیہ پنجاب میں نئی بلدیاتی قانون ، ایک پوری طرح Jamhooriya Dushman hai, تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، ہمارے ملک میں کچھ بھی نئا نہیں ہوتا۔

امیر جماعت اسلامی نے اپنا اِصلاح کی کوشش کی ہے کہ علماء اقامت دین کی جدوجہد کریں، امت کو مشترکات پر اکٹھا کیا جائے اور جماعت اسلامی تمام مسالک کی تکریم کرتی ہے، لیکن کسی مسلک کی نمائندہ نہیں ہوتی۔
 
امریکا کے صدر دونوں میں کیا ہوا ہے وہ بتاتے ہیں، مظالم پر پھیلنا کیسے کرتا ہے، لیکن اس کے بعد سے بھی پاکستان کے حلقے میں ایسا ہوتا دیکھو، عامہ رائے کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو وہ لوگ لاوا پھٹ جائیں گے۔

علماء اقامت دین کی جدوجہد کرنے کی بات بھی اچھی ہے لیکن ان میں سے کسی کا بھی وہاں جانا نہیں چاہئے، پوری جماعت اسلامی کی تکریم کرنا اور وہاں جانا ضروری نہیں ہے جس میں بھی کچھ ایسی بات ہوتی ہے جو لوگوں کو دکھائی دیتی ہے۔
 
عصری عالمی نظام میں ایسا لگتا ہے کہ ساتھ ہی ساتھ ہم بھی نئے نوآبادیاتی نظام کی شروعات کر رہے ہیں، ان لوگوں کے مظالم پر پھیلنا جس میں عالمی عدالت انصاف کو بھی شامل کیا گیا ہے وہ سبکے ساتھ نہیں آتے، یہ صرف ایک تحریک ہے جو عوام کی غصہ کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

ان لوگوں کا ساتھ دوسرے مظالم پر بھی پھیلنا نکلتا ہے جو وینزویلا اور پاکستان سے لے کر دنیا کی دیگر علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں، یہ سب ایک ہی دھرہ میں چل رہے ہیں جس سے یہ بات صاف اور قطعی نکلتی ہے کہ ان کی پوری جدوجہد کا مقصد عوام کو گہری تھکاوٹ دیتے ہوئے انہیں غلبہ میں لانے کا ہے۔

لیکن یہ بات تو صاف ہے کہ عوام کو یہ سچائی نہیں مل سکتی، تھوڑی دیر بعد ہی ان لوگوں کو پکڑنا میں آئیں گا۔
 
میں بہت گھبرا رہا ہوں کے یہ وینزویلا کے صدر پر مظالم چلائی جارہیں ہیں، اور اب امریکا کے صدر دونوں پر بھی مظالم چلائی جا رہی ہیں۔ یہ تو کچھ ہر وقت سے ہو رہا ہے، لےٰکن اِس بات کو یقینی بنانے کی کوشش نہیں کر رہیں کہ مظالم پر پھیلنا ایسا نہیں ہو گا جیسا کہ اس میں سے کسی کے ہاتھ تھا۔ ٹرمپ کی بھرپور کوشش بھی تو ہوتی رہی، اِس نوآبادیاتی نظام کو قائم کرنے کے لیے، جس نیند میں کوئی بھی نہیں سکتا۔
 
تمام تھیمز کو منظم کرنا، یہی کہنے کا ایک بہترین طریقہ ہے کہ عوام کی رائے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ عوام میں بھگتے ہوئے ہی ان کے مظالم پر پھیلنے کی رائے لگنے لگی، اور حکمرانوں کو بھاگنے کا راستہ مل جائے گا 😐

امریکی صدر دونوں کو ایک ساتھ لانا، یہی تھیم کے خلاف ہے۔ ٹرمپ اور پوٹر نے نئے نوآبادیاتی نظام کے قیام کے لیے کام کیا ہے، اس پر عالمی عدالت انصاف کا مجرم نیتن یاہو بھی شامل ہے۔

ایک پوری طرح Jamhooriya Dushman hai, تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، ہمارے ملک میں کچھ بھی نئا نہیں ہوتا۔
 
ایسے میں، ٹرمپ کو نئے نوآبادیاتی نظام کے بانی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، یوں تو اچھی طرح سے دکھائی دیجے گا.

عوام کی رائے کو سمجھنے کے بجائے حکمرانوں نے صرف اپنی فوجی قوتوں پر زور دیا ہے، یہ تو ٹریٹی بیلٹ اور چین کے ساتھ مل کر فوری تجارت کی بات کرتے ہیں، لیکن عوام کے دلوں میں ایک نئا ترانا لگنے کا مौकہ نہیں کھیلنا چاہئے.

تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور پھر یہ بات کہی جاتی ہے کہ ہمارے ملک میں نئی بلدیاتی قانون کیاجائے گی، لیکن وہیں سے ایک دوسری گلاہی چلی آتی ہے۔
 
امریکا کے صدر دونوں ہر وقت دھمپ میں ہیں… ان کی سرکار کا کچھ بھی بہت بدلتی रहतا ہے.. ٹرمپ جیسے افراد کو ہمیں اس بات سے منصوبہ بنانے کی لازمی تاکید ہوگئی ہے کہ وہ ایسے مظالم پر پھیلنے کو جاری رکھیں جو ان کی سرکار کے لیے فائدہ دلاتے ہیں… حالانکہ عوام کی رائے کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو بھی، یہ بات واضح ہے کہ عوام میں ان کے مظالم پر پھیلنے کی رائے لگنے لگی ہوگئی ہے… 🤦‍♂️
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ تحریک کو کبھی بھی اس تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوا گئی جس سے عوام کو حیران کر دیا جائے اور صدر دونوں کی مخالفت کرنا پڑے گا، لیکن یہ سوچنا مشکل ہے کہ عوام اپنے حق کی رائے دے سکیں گے یا اس نے ہی کئی بار اس بات کو دیکھا ہے کہ حکمرانوں پر ان کی راجستھانی والی طاقت نہیں ہوتی۔
 
واپس
Top