30 نومبر کو ایک بچے سے تشدد سے ہونے والی حقیقی tragedy کا مظاہرہ پاکستان کے مشہور شہر کراچی میں ہوا تھا جس نے تمام لوگوں کو ہلچل میں پڑیا تھا۔
منگھوپیر پولیس نے ایک معلم کو گرفتار کرلیا ہے جو اس نے اپنے شاگرد کی زندگی سے لیے تھی، ایس ایچ او منگھوپر خوشنواز کے مطابق شاہد بچے کی وجہ سے پوری یوں کے معلم کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور بعدازاں انہیں ضمانت پر رکھ دیا گیا تھا لیکن 6 سالہ شاہد کی جانیں کس کے ہاتھوں ٹکراتی ہیں، اس نے اپنے شاگرد کو سر پر ڈنڈا مارا تھا اور اس کے سر کی ہڈی میں نقصان پہنچا تھا، اس وجہ سے شاہد کی جنہیں قریبی کلینک لینے پڑا، ایکسرے سے کہا کہ بچے کے سر کی ہڈی کریک ہوگئی تھی اور اس کے بعد اسے عباسی شہید اسپتال لیا گیا جہاں سے جناح اسپتال میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی دم توڑ گئی۔
منگھوپیر پولیس نے ایک معلم کو گرفتار کرلیا ہے جو اس نے اپنے شاگرد کی زندگی سے لیے تھی، ایس ایچ او منگھوپر خوشنواز کے مطابق شاہد بچے کی وجہ سے پوری یوں کے معلم کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور بعدازاں انہیں ضمانت پر رکھ دیا گیا تھا لیکن 6 سالہ شاہد کی جانیں کس کے ہاتھوں ٹکراتی ہیں، اس نے اپنے شاگرد کو سر پر ڈنڈا مارا تھا اور اس کے سر کی ہڈی میں نقصان پہنچا تھا، اس وجہ سے شاہد کی جنہیں قریبی کلینک لینے پڑا، ایکسرے سے کہا کہ بچے کے سر کی ہڈی کریک ہوگئی تھی اور اس کے بعد اسے عباسی شہید اسپتال لیا گیا جہاں سے جناح اسپتال میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی دم توڑ گئی۔