Karachi: A young boy who was seriously injured by teacher's violence in Manghopir lost his life | Express News

ساز نواز

Well-known member
30 نومبر کو ایک بچے سے تشدد سے ہونے والی حقیقی tragedy کا مظاہرہ پاکستان کے مشہور شہر کراچی میں ہوا تھا جس نے تمام لوگوں کو ہلچل میں پڑیا تھا۔

منگھوپیر پولیس نے ایک معلم کو گرفتار کرلیا ہے جو اس نے اپنے شاگرد کی زندگی سے لیے تھی، ایس ایچ او منگھوپر خوشنواز کے مطابق شاہد بچے کی وجہ سے پوری یوں کے معلم کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور بعدازاں انہیں ضمانت پر رکھ دیا گیا تھا لیکن 6 سالہ شاہد کی جانیں کس کے ہاتھوں ٹکراتی ہیں، اس نے اپنے شاگرد کو سر پر ڈنڈا مارا تھا اور اس کے سر کی ہڈی میں نقصان پہنچا تھا، اس وجہ سے شاہد کی جنہیں قریبی کلینک لینے پڑا، ایکسرے سے کہا کہ بچے کے سر کی ہڈی کریک ہوگئی تھی اور اس کے بعد اسے عباسی شہید اسپتال لیا گیا جہاں سے جناح اسپتال میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی دم توڑ گئی۔
 
اس واقعے پر اسکول کے معلم کو پھانسنے اور شاگرد کو سر پر ڈنڈا مارنا ایک بہت نہایہ عمل ہے، یہ سچ ہے کیں کہ معلم کا اپنا کام سولہ دھندلے کر رہے تھے اور اسے ایسا کروانے میں بھی انہیں شہری ذمہ داری کا احساس نہیں تھا، یہ واقعہ ہمیں سکولوں کیSecurityکی وضاحت کرتا ہے کہ اسے بھی ایک محفوظ اور سچمَن ہونا چاہیے تو نہ یہ تھا اور معلم کو نہیں پھاننا چاہیے، یہ ہمیں سکولوں کی کثافت اور ان کے ٹیکسٹبوک پر بھی رکاوٹ کا احساس کرتا ہے، لیکن اب یہ ہمارے سامنے ایک ایسا موازنہ کہیں کہ معلم کو ان کے پبلک سرچ کے ذمہ داری کے ساتھ اس کام سے باہر ہونا چاہیے اور یہی ہمارے شعبے میں ایک زندگی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے।
 
یہ بھی واضح ہے کہ نوجوانوں کو ایسا ہی معاملہ پیش کرنا چاہئے جیسا جو ان کے اور ان کی خواتین کے لئے اس وقت کی سست دھندلے انتہا پختے سے بڑھتا ہے؟

کچھ سال قبل میں کوئی چاروں پہلوؤں پر ایسا مظاہرہ نہیں کیا تھا جیسا کہ اس شہر میں ہوا، اور اس پر نئی نئی پالیسیاں بنائی گئیں جن سے لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں کو ایک نئی پالتو پر چھود کر رہے ہیں۔
 
چھوٹا بچا ایک معلم کے ہاتھوں پھنس گیا اور اس نے شاگرد کو سر پر ڈنڈا مار دیا تو پورا شہر ہلا رہا ہے… ایسا کیسے ہوتا ہے؟ ایک بچے کی زندگی جو صرف ایک دھندلے معلم نے بدلی تو کیا؟ 6 سالہ شاہد کو اس معلم نے سر پر ڈنڈا مار کر دیا اور اب اس کا یہی فائدہ ہوتا ہے… بچے کی زندگی کیوں کھون لیتی ہے؟
 
یہ کچھ اچانک نہیں ہو سکتا ، ایسا بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک معلم اپنے شاگرد کو اس طرح کے تشدد کے موقف میں پایا ہو، چاہے وہ ہمیشہ طالب علم کی مدد کرنا چاہتا ہو یا نہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ شہر میں سماجی ماحول کی بھی کیا حال ہو رہی ہے ، کچھ لوگ کچھ نہیں سمجھتے ہیں، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے اسے حل کرنے کے لیے آپ کو کچھ بات کرنی پڑے گی ، شہر میں بڑے بڑے دباووں کی وجہ سے یہ کیسے واقع ہوتا ہے؟
 
اس حقیقت پر غور کرنا بہت ہی Tough hai, یہ کہ ایک شاگرد کو اپنے معلم نے ڈنڈا مارا تھا اور بعدازاں وہ شاگرد کی زندگی سے لیا گیا، یہ تو بھی ایسا ہے کہ معلم کی انصاف کیا گیا نہیں, پھر نہ ہی اس شاہد کا ہونے والا نتیجہ، یہ سب ہمیں سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سیکھنے والے لوگوں کی طرف بھی ایک نظر دوئی جو کہ حقیقی طور پر یہاں ہمیں ہلچل میں پڑایا رہتا ہے.
 
😩 یہ ہوا کیا تھا؟ ایک معلم نے اپنے شاگرد کو سر پر ڈنڈا مارا اور اس کے لیے ملازمت سے برطرف کر دیا، اور اب وہ شاہد کی زندگی سے جہاں تک رہا ہے وہیں لگتا ہے کہ اس کا فاتحہ نہیں ہوا 🤕

مگر یہ بات سب کو پھنسائی ہوئی ہے، شاہد کی ماں نے کیا کہا تھا؟ شہید اسپتال میں ان کے دم کاٹنے کے بعد بھی معلم کو جناح اسپتال لے جانے کا ایکCause بن گیا ۔ یہ تو وہی نہیں تھا جو شہد کو ہوا دیا تھا، یہ معلم کی بھی ہوئی تھی...

یہ بات کبھی تک نہیں سنی۔ اچانک ایک ماں اپنی بیٹی کی پھرٹ رینڈنگ کو ملا کر دیکھتی ہے، ایک معلم اپنے شاگرد کو سر پر ڈنڈا مارتا ہے، اور ان دونوں کے لیے یہ سب کچھ کیا ہوا؟ یہ تو صرف ایک عالمی تباہی کی جگہ ہی نہیں، بلکہ ایک ماں اور بیٹی کے درمیان کی حقیقت بھی جو سچ پڑتی ہے।

شاہد کو چھوڑ کر اس معلم کو جو سزا دی گئی تھی وہ سب کچھ تو ہوا ہی نہیں، یہ رکھنا بھی تو کیسا ہوا...؟

ایسا تو ہونا اور اس کی پالیسی کو چاتھانے کے لیے سوشل میڈیا پر آپ ہر کھیل جیت لینگے...
 
اس کے بعد نہیں کیا جان سکتا ہے یہاں تک کہ اس معلم کو گرفتار کرلیا گیا، یہ ایسا نہیں لگ رہا تھا جو ان کی سوچ میں پھنس گئے تھے، یہ تو ہر کس کی سُنن لینے والا بن گیا اور پوری یوں کے معلم کو وہی باتوں پر چلنا پڑا جس پر اس نے اپنے شاگرد سے بات کی تھی، لیکن آج وہ کیا گزشتہ دن کے باتوں پر چل رہا ہوتا تو یقیناً نہیں، اس معلم کو پھر جب وہ اُس بچے کی طرف دیکھا تو اس کے سر پر ڈنڈا مارنا اور بعدازاں اُس کے سر کی ہڈی میں نقصان پہنچانا، وہ جب اُن کو جانتا تھا نہیں؟
 
جب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شاغد بچے کی والدین نے معلم کو گرفتار کرایا تو واضح نہیں ہوتا کہ اس صورت حال میں کس کی ذمہ داری ہوتی ہے... معلم کی جانب سے اس بچے پر تشدد کرنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کیسے ایک شاگرد کی زندگی ہار جائے! **sad**

آج کے وقت بھی پتہ چلتا ہے کہ انچार्जمنٹ پر فokus رکھنا بڑی مشکل ہوتا ہے، شاگردوں کو سیکھنے کی ذمہ داری معلم پر نہیں ہوتی بلکہ ان کے ذہنی و فکری طور پر ان کی دیکھ بھال کرنا چاہیے... اور اگر کوئی شاغد ہو تو اس سے پہلۇں معلم کو پتہ چالتا ہے کہ وہ ان کی دیکھ بھال نہیں کر رہے!

جگہ جگہ پکڑنا اور شاغد بچے کو اس سے نجات دینا بھی ایک معصوم غلطی ہے... یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معلم کے معاملے میں انچار्जمنٹ کی جگہ ایک سماجی اور ماحولیاتی جانتا پेश کرنا چاہیے... **disappointed**
 
ایس کیا ہوا تھا یہ حیرانی کن نتیجہ! ایک معلم جو بچوں کو سکھاتا ہے وہ اپنے شاگرد کی زندگی سے لینا کیسے چلا، یہ دیکھ کر آپ بھی حیران ہوں گے. ایسا تھا تو پوری طرح ممکن نہیں، لیکن یہ بات واضع ہے کہ شاہد کی جانیں کس کے ہاتھوں ٹکراتی ہیں. میں بھی سوچتا تھا اور اب اس پر بات کر رہا ہوا. معلم کو گرفتار کرلیا گیا، لیکن جس سے وہ حقیقی tragedy کا مظاہرہ دیکھتے تھے ان کی پوری ذिमمت نہیں ہوئی. یہ ایک حیرانی کن واقعہ ہے جس سے آپ بھی گمراہ ہوں گے.
 
ایسا کیسا ہوا ہے یہ شانہ و عروض کا معلم بھی ہے جو اپنے شاگرد کو جانیں سے لینے والا تھا اور اب ان کی جنہیں وٹس پیپل کماؤنٹی لیا پڑا تو 6 سالہ شاہد کی جنہیں کہ کئی دنوں قبل سر پر ڈنڈا مارا گیا تھا اور وہ ان کے پاس بھی نہ رہ سکا، اس کو ایک ایسے معلم کی پھانسی کے طور پر بنایا جا رہا ہے جو اپنے شاگرد کو جانیں لینے کے لیے ایسے مظاہرے دیتا ہے، ہم سب سے یہی بات ماننا چاہیں گے کہ بچے کی جان کو خطرہ نہیں بنایا جائے اور انھیں ساتھ ڈال کر ان کے معلم کو بھی ہونے والی جانیں لینے والی ہمت سے روکنا چاہیے।
 
سچ مننا ہو گا کے یہ معلم کو اس قدر سزا دی جا رہی ہے جو ایسا نہیں کرسکتا اور بچے کی زندگی کس طرح اچھی طرح بدل جاتی ہے۔ یہ دیکھنا بہت پیارہ ہو گا جب یہ معلم اپنی بھی بچھڑ سکیجے اور ایسا نہ کرسکیں۔ یہ سبھی بچپن کا بدلنا ہی ہو گا۔
 
یہ بے چینی کی سب سے بڑی ہدایت کروں کی پوری اور اس نے 6 سالہ شاہد کی جان کو ٹکڑا ٹکڑی کر دیا ہے، یہ معلم ہونے کا نام بھی نہیں چھپایا جس نے اپنے شاگرد کو قتل کر دیا تھا، اگر اِنہیں انٹرنیٹ پر پہچانا جائے تو یہ ان کا ایک مینٹر بنتا ہے جو نہیں چھپایا کہ وہ اپنے شاگرد کو قتل کر سکتا ہے، پہلی جگہ انہوں نے شاہد کی جان لینے والے معلم کو گرفتار کر لیا تھا اور بعدازاں انہیں ضمانت پر رکھ دیا گیا، یہ بھی کہیں وہ ان شعبہ سے نکل گئے ہوں جہاں لوگ مجرم بن کر تھق جاتے ہیں اور لوگوں کو لپٹ لینے کا موقع دیجے۔
 
یہ دیکھنا بہت ہی کہلنا ہے… ایک معلم جسے 6 سالہ شاگرد کی جان سے لینا اچھا نہیں تھا، اس نے ایسا اپنے بچوں کو بھی سکھایا ہوگا… اس معلم کو پھانسی مل گئی اور اب اس کی جان کے بارے میں لوگوں نے غور کرنا شروع کر دیا ہے… اس کی جانیں بچوں کی زندگی سے لینے والوں کی مٹھی میں ہیں اور اب اس معلم کو کتنی جگہ پر رکھا جا سکتا ہے؟ 🤯
 
اس معلم کو گرفتار کرنے کا یہ عمل بہت غلط ہے، شاہد بچے نے تو اپنی زندگی جاری رکھی تھی لیکिन اس معلم کو انھوں نے ایسے معاملے میں سایہ دियا کہ وہ گرفتار ہونے پگا اور اب یہ بچے کی زندگی سے بھی گزر جائیں گی، یہ تو انتہائی غلط ہے اور ایسے معاملات میں اس کے بعد کے نتیجے کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے 🤕
 
یہ وہی طرح کا واقعہ ہو رہا ہے جو کہ ہر سالRepeat Repeat Repeat ہوتا ہے، ایک بچے کو ڈنڈا مار کر ان پر فوجی جگہ پر لاکھوں روپے کی رکاوٹ ملتی ہے اور ان کے ماء کے لیے ان کے خلاف نئی نئی وعدے توڑ دیتے چلے جاتے ہیں
 
مگر وہ شگفہ بھی نہیں تھی ۔ اس معلم کا ساتھی ملازم اور ان کے بچوں کو بھی لاکھ لاکھ روپئے میں لینے کا یہ کام تو کیا ? جب تک وہ معلم نے اپنے بچے سے تجربات کیا اس وقت تک ان کی زندگی بھی قیمتی تھی اور اب وہ اس بچے کو اس طرح ڈنڈا مار کر دے رہے ہیں تو کیا یہ معلم کو ان کے جسم کی قیمتی پابند نہیں تھا ؟
 
واپس
Top