Karachi: Policeman injured in firing by unidentified assailants in Orangi Town Pakistan Bazaar | Express News

سخنور

Well-known member
اورنگی ٹاؤن کی ایک شہر گلی پر بھی فائرنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار کو اس کی ملازمت سے باہر ہٹاکے گئے تھانہ پاکستان بازار کی حدود کے قریب وہاں ہونے والی ایک فائرنگ میں زخمی ہوا۔

عید الحاق کے مطابق اس واقعہ میں پولیس اہلکار سادہ کپڑوں میں تھے جس پر نائٹ وچ کی صورت یہ رہی کہ انہیں فائرنگ ہوئی، پھر ایمبولینس کے ذریعے اسے عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اس کی شناخت عبدل زکی نامی شخص سے کرلی گئی۔

ایمی ایک اور یہ بات واضع ہوگئی کہ ان کی ملازمت کی جانب سے کوئی بھی گواہ نہیں کہہ رہا تھا، اس لیے جس ٹیم کے لیے وہ کام کر رہے تھے وہ انہیں چھوڑ کر گئے ہوں گے، پولیس نے فائرنگ کی جارہی ہے اور اس کے منظر عام پر ہونے والا کوئی بھی واقعہ یقینی ہونے سے پہلے بتایا نہیں گا۔
 
اورangi town ki gali par bhi firing ho rahi hai, toh phir pakistan market ki dooran mein bhi firing ho rahi hai, yeh tohaafi hai, police ahlakar ko unki job se bahar kar dia gaya tha, aur ab woh hospital meh jo Abbas Shihed hai woh, unki zindagi ke liye kuch bhi nahi hai 🤕. yeh batayta hai ki unki job ke lie koi gawaah nahin raha tha, toh phir police usse chhod kar jayegi, yeh toh ek aisa situation hai jo humare desh mein aisi cheezen hoti hain, kyunki police aur public ke beech kuch bhi nahi sahi hai 🙅‍♂️.
 
اس حقیقت کے متعلق تھوڑی دیر سے بات چیت رہی ہے کہ ان پولیس اہلکاروں کی ایسی صورتحال تو ہوتی ہے جس میں وہی اپنی جانوں کا بدلا نہیں دیتے، ایک فائرنگ میں زخمی ہونے اور اس طرح سے ملازمت چھوڑ کر جانے کا یہ جواب تو کیا ہے؟ ان کی ملازمت کا کیا معیار تھا جس پر وہ کام کرتے تھے اور جس سے وہ اپنے ذاتی جانوں کو بچانے والا ہوتے؟ 🤯
 
mere liye ye hai ek bada masla. polis ko bhi to kuch samajhne ki zaroorat hai, unki team ke log bhi unse kyun chhod gaye? wo bhi to ek insaan hain, apni zindagi ka risk lene wala hai. aur paisa bhi to uske paas nahi tha, sirf ek gun ya baton se lambe saath se pehle jana chata tha. koi bhi galat thi, jo bhi ho raha hai wo ho gaya hai.
 
میں یہ دیکھ کر کچھ گہرائیوں لگتی ہیں، ایک پولیس اہلکار جو تھانہ پاکستان بازار کی حد تک تھا وہ بھی فائرنگ میں زخمی ہوا، یہ کیا دیکھ رہا ہے کہ ہم لوگ ایک دوسرے پر چلنے کے لیے نہیں بنتے؟ یہ واقعہ اس کی اچھائی کو سچائی سے پہلے لگاتا ہے، اب یہ सवाल اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے سڑکوں پر وہی چال شروعات کر رہا ہے جو کوئی بھی نہیں چاہتا؟
 
یہ وہ وقت ہے جب تمہیں سوشل میڈیا کے دیکھنے کو کچھ نہ کچھ ہوتا ہے، اور اب ایک پولیس اہلکار کو اس کی ملازمت سے باہر ہٹانے کے بعد یہ بات کہہ کر کے تم اپنی طرف مڑتے ہو تھا۔ پہلی بار ناہیں بھلے کہ ان کو فائرنگ لگ گئی، اور اب وہ ایسے صورت حال میں پڑے ہیں جب اسے چھوڑ کر گئے جائیں گے تاکہ ان کی جان کو بھی ناہیں ہو۔ یہ فائرنگ کی صورت حال ایسے ہی رہتی ہے جتنی ٹیم کے لیے وہ کام کر رہے تھے انہیں بھی چھوڑ کر جائیں گے۔

اس سے پہلے ابھی ہی ایک ایمبولینس کے ذریعے اسے ہسپتال لے جानا پڑا اور اب وہ اس کی شناخت تو کرلی گئی، جو یہ بات بھی کہہ رہی ہے کہ کوئی بھی گواہ نہیں کہہ سکتا تھا۔ اس وقت فائرنگ جاری ہے اور اس کے منظر عام پر ہونے والا کوئی بھی واقعہ یقینی ہونے سے پہلے بتایا نہیں گا۔
 
واپس
Top