karachi robbers snatched 8 million from electronics shop employees and fled | Express News

کوا

Well-known member
کراچی کے ایک موٹر سائیکل سوار دوسرے نے ایک الیکٹرونکس شاپ کے ملازمین سے 80 لاکھ روپے کٹار لیئے اور فرار ہوگئے۔ یہ واقعہ صدر میں قائم نجی بینک سے نقدی نکلوانے والے دو ملازمین کے تعاقب میں ہوا جس میں ایک موٹر سائیکل سوار دوسرے نے ان سے ڈکیتی کی اور فرار ہوگئے۔

پولیس کا اعلان ہے کہ یہ واقعہ ایک الیکٹرونکس شاپ کے دو ملازماں کے مابین ہوا جس میں ایک موٹر سائیکل سوار دوسرے نے ان سے 80 لاکھ روپے کٹار لیئے اور فرار ہوگئے۔ یہ واقعہ صدر میں قائم نجی بینک سے نقدی نکلوانے والے دو ملازماں کے تعاقب میں ہوا جس میں ایک موٹر سائیکل سوار دوسرے نے ان سے ڈکیتی کی اور فرار ہوگئے۔

جاویدعالم اوڈھو، آئی جی سندھ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ صدر زیب نسا اسٹریٹ میں ہوا جس میں تاجر کو 80 لاکھ روپے کی ڈکیتی کر دی گئی اور ان سے متعلق کیس فرار ہوگئے ہیں۔

آئی جی سندھ نے کہا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ تمام تر وسائل بروئے کار لانے اور متاثرہ تاجر کے بیان کی روشنی میں واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
 
اس ناچوں میں دوسروں کو بھی رکاوٹ دینے والے کسے نہیں بتائیں؟ یہ واقعہ صرف دو ملازماں کی ڈکٹیٹنگ کے بارے میں ہوا جب کہ اس سے پوری شہر کو بھرپور ترانہ لگتا ہے!
 
اس وقت آج بھی اس ڈکٹی کا منظر دیکھنے کو میں نے تھا جس سے ایک ملازم کو اچانک پھٹ گیا ہوتا ہے۔ ایسے مظاہرے پر بھی نظر رہتے ہیں جو نوجوانوں کے دلوں میں ایک گھنٹے کے لیے جگ جاتے ہیں۔ 80 لاکھ روپے سے بھر پور ڈکٹی نے اس ملازم کو اچانک اپنی پناہ کا راستہ دیکھ دیا ہوتا ہے تو ایسا ہاتھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے آئی جی سندھ۔ یہ بات بھی سوچنی چاہیے کہ نوجوانوں کو ایسے مظاہرے دیکھنے کا موقع ملتا ہے جس پر ان کی ذہانت اور سمجھ کو بھی ٹھیک سے سوچنا پڑتا ہے
 
اس وقت بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں دکیتی، چوری اور دوسرے سماجی تلاعمی مسائل بھی ابھرتے جا رہے ہیں۔ اس واقعے نے مجھے ایسا لگایا کہ ابھی تک کی دکیتی کیStories سے زیادہ ڈرامائی اور کبھی بھی نہیں کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایک الیکٹرونکس شاپ میں ہوا جس میں دو ملازماں تھیں جو صدر زیب نسا اسٹریٹ پر چل رہے تھے اور ان سے ایک موٹر سائیکل سوار نے 80 لاکھ روپے کاٹ کر فرار ہوگئے۔

اس کے بعد مجھ پر یہ सवाल آیا کہ پولیس کی ٹیم ملزمان کو ڈھونڈنے میں تاخت لے رہی ہے اور یہ سارے واقعات کس طرح سامنے آئے؟ اس کے بعد مجھے پتا چلا کہ ان ملزمان کے تعاقب میڰ ایک الیکٹرونکس شاپ میں ہوا اور ان سے دکیتی کی گئی تھی۔

اس صورتحال نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ملزمان کی گرفتاری اور اس صورتحال کو سمجھنے کی پلیٹ فارم ملک میں ضروری ہے۔ پھر بھی، یہ سوال ابھی تک موجود ہے کہ جیسے جیسے ملک وطن کے مختلف شہروں اور گاںوں میں دکیتی اور چوری کے واقعات سامنے آتے ہیں، ان کے پیچھے کوئی کامیاب پلیٹ فارم نہیں بن سکتا جس پر ملک بھر میں لوگ اس صورتحال کو سمجھ سکے۔
 
اس نجی بینک کا ایسا ہونا ضروری نہیں تھا... یہ رائے میرا ہے کہ ان ملازموں کو ڈکٹر کی پٹی لگانے سے بچایا جا سکتا تھا اور انہیں انعام دیا جاسکتا تھا... مگر وہ لوگ ایسا چاہتے ہوئے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک نئا عجائب گھر بنائیں...
 
عوام کے دل پر ٹھکانا پڑنے والی اس صورتحال کو سمجھنا مشکل ہے تو یہ بھی نہیں تھا۔ آؤٹ لائیف میں بھی لوگ سستے کھیلتے ہیں، پھر یہ دیکھنا کہ انہیں 80 لاکھ روپے کو کٹا لیا جائے تو یہ ایک دیرپا مسئلہ بنتا ہے! سروس لوگ ڈکیتی کرنے والوں کی جانب بھی پھرتی ہیں؟ کیا ان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دھوکے سے کیسے نجات پائی جائے گی?
 
یہ واقعہ تو توجہ کا حامل ہے، اور ملازمین سے ڈکیتی کرنا بھی بہت ناجائز ہے، لیکن پولیس کیSide پر یقین نہیں رکھتا کہ مللوں کو ان سے 80 لاکھ روپے کٹار لیئے گی یا نہیں۔ اور آئی جی سندھ کا کہنا کہ وہ تمام وسائل بروئے کار لانے والے ہیں، تو بھی یہ پتّا چلا ہو گا کہ ان ملازماں کو سچ میں دیکھا جائے گا یا نہیں۔
 
بھائی اس سے بھی ہر کس کو 80 لاکھ روپے کٹارنے والا موٹر سائیکل سوار بھی ہو سکتا ہے یا کیا؟ 🤑

تاجر سڑک پر چل رہے ہیں تو وہ ڈاکٹروں، ایجینٹوں یا ایسے شخص سے لڑتا جھگڑا نہیں کرتا جو وہ نہیں دیکھتے لیکن اس موٹر سائیکل سوار کو جو انہیں ڈکیتی کر رہا ہو وہ تو دیکھتا ہے اور 80 لاکھ روپے کیسے کاٹارے؟ یہ ایسا نہیں ہوسکتا।
 
اس کا ایک عجیب سوال ہے کہ 80 لاکھ روپے کی ایک چوٹ پینے والے و्यकتی کو کتنے لوگ اپنی فطرت سے ہت کر اس پر گورہا ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ ہر جگہ ایک آڑھیا بچتا ہے جو لاکھوں روپے کا انصاف کر رہا ہے یا اس پر لاتحتم رہنا چاہتا ہے، مگر کیونکہ اس نے اپنی فطرت سے بھی گورھا ہونے کا انتخاب کر لیا ہے تو اس پر ان لوگوں کی نیند آ گئی ہے جو یقینی طور پر ہر شعبے میں ایک محفوظ جگہ پر لٹکتے رہتے ہیں۔
 
واپس
Top