Karachi; Sister-in-law shoots and injures Nand during domestic dispute in Landhi | Express News

ڈولفن

Well-known member
اللہ کا عزم کرتے ہوئے ایک خاتون نے اپنے شوہر کے فوجی گولے سے اپنی بھانجی کو زخمی کر دیا ۔ لانڈھی میں ایس ایچ او عوامی کالونی عامر ملک میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جہاں 30 سالہ افشاں نے گھریلو جھگڑے کے دوران اپنے شوہر کے فوجی گولے سے زخمی ہونے پر شok ہو کر پلیس اسٹیشن پر پہنچا۔

اس واقعے کے مطابق افشاں نے اپنے شوہر کے فوجی گولے سے زخمی ہونے پر 6 نمبر سیکٹر 36 سی شیر آباد گلی نمبر ایک میں پہنچا جہاں اس کے شوہر نے اسے فائرنگ کر دی تھی۔

اس واقعے پر پولیس بھی موقع پر پہنچی جبکہ افشاں کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ جس کے مطابق گھریلو جھگڑے میں افشاں کو اپنے شوہر کے فوجی گولے سے زخمی کر دیا تھا جو اس کی ٹانگ پر لگی تھی۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے افشاں کے شوہر کو حراست میں لیا جبکہ فوجی گولہ قبضے میں لیا گیا ہے جو کہ لائسنس یافتہ ہے۔ پلیس بھی افشاں کو حاصل کرنے کی کوشیش میں سرگرم تھی جس کے بعد اسے جلد گرفتار کر لیا گیا۔
 
ایسا واقعہ بہت ہی کٹرنہ ہے جو میری نظر سے دیکھا جانا ہے… اور اس کے پیچھے کیوں تو ایسی صورتحال میں پھنس گئے ہیں؟ عمدہ شادیوں میں بھی بھیڑ لگتی ہے، لیکن ایسا کیا کر سکتے ہیں… پچیس یا پچاس رپے کی گول بھی نہیں چل سکتی… اور اس طرح یہ خاتون کی جان بھی جان چکی ہو گئی ہے…. فٹو فٹ یہ معاملہ تو کچھ سیکرٹی میتھودس سے حل نہیں کر سکتیا…
 
یہ واقعہ اچانک ہی آئیا ، میرا یہ سوال ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جب ایک خاتون اپنی بھانجی کو زخمی کر دیتی ہے؟ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ وہ فوجی گولہ کے حامل تھی اور اپنے شوہر سے لڑ رہی تھی۔ اس واقعے پر پولیس کو بھی انعامات نہیں ملتے تھے کہ وہ یہ واقعہ حقیقی ہونے کا доказ دیکھ سکیں۔
 
اس واقعے سے نکلنا مشکل ہے، ایک خاتون اپنی بھانجی کو زخمی کر دی تو پھر اور وہیں رہ گئیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ غصہ میں ایسے کچھ ہوتے ہیں جو بھول جاتے نہیں
 
اس واقعے سے ہمیں اچھا سونا چاہئے، ایک خاتون جو اپنے شوہر کے فوجی گولے سے اپنی بھانجی کو زخمی کر دیا تو وہ بھی ان گولوں کی بدولت ہی آپ کے گھر میں آئی تھی، ایسے میں یہ سچا معاملہ ہونا چاہئے کہ وہ بھی کہیں سے آکر ان گولوں کی بدولت اس جگہ پر آئی تھی، لیکن یہ بھی بات کہیں پہنچی کہ وہ اس نیند کی بدولت اپنی لاپٹ میں ہوئی، ان گولوں کی بدولت اس جگہ پر اسے آنا ہوتا تھا، ایسے میں یہ بات کہیں پہنچی کہ وہ کس نے اسے آ کر رکھا تھا وہ بھی سچ ہونا چاہئے، ہمیں یہ بات دیکھنا چاہئے کہ یہ واقعہ پورے ملک میں ہونے والے واقعات کی طرح ہے، جتنی زیادہ ہر جگہ سے ایسے واقعات ہوتے رہنے دئیں تو ملک بھر میں یہ گولے کا بدلہ لینے کا بہت بڑا ہونگا، اس کے علاوہ پوری دنیا جانتے رہنے دئیں کہ ملک میں گولے کی بدولت زخمی ہوئی خواتین کی بات ہونا چاہئے، یہ بات کو جگہ جگہ پہنچانے کے لئے دئیں تاکہ ملک میں اچھا سونا چاہئے، ہمیشہ آئندہ ہو کر اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تاکہ ایسے واقعات نہ ہوں، جس کے لئے ملک میں ہر جگہ دوسرا ہوا کا سہارہ چاہیں رکھنا چاہئے
 
یہ واقعہ تو غلطیوں سے بھرپور ہے... ایک خاتون نے اپنے شوہر کے گولے سے اپنی بیوی کو زخمی کر دیا اور پھر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا... لگتا ہے کہ یہ ایک عجیب صورتحال ہے...

لیکن جس میں اس واقعے کی پृष्ठوں پر توجہ دی جائے تو یہ بات بھی انکشاف ہوتی ہے کہ کیسے ایک خاتون اپنے شوہر کے فوجی گولے سے زخمی ہو سکتی ہے... اور پھر اس کو یہاں تک لے جानا پڑتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو زخمی کر دیتی ہے...

یہ واقعہ تو انسداد خواتین سے متعلق باتوں پر روشنی ڈالتا ہے... کیونکہ یہ بات پتھر تھی کہ خواتین فوجی گولے سے محفوظ ہیں... لیکن اب یہ بات انکشاف ہو رہی ہے کہ خواتین بھی اپنے شوہر کی فوج کی جگہ لے سکیں ہیں...

لائسنس یافتہ فوجی گولے کو چھوڑ کر انہیں ساتھ لے جانا چاہئے... کیونکہ یہ بات پتھر تھی کہ خواتین اپنے شوہر کی فوج کے لیے بھی تیار ہیں...
 
ایک ایسا واقعہ تو ہوا جس سے تمہیں پچتایا جائے گا... ایک خاتون نے اپنے شوہر کے فوجی گولے سے اپنی بھانجی کو زخمی کر دیا ہے... اس سے پوچھنا چاہئے کہ کیا تمہیں ان کے معاملے میں جاننے کی ضرورت تھی؟ اگر وہ خاتون شادبہ اور ایماندار ہوتی تو اس سے پوچھنا چاہئے کہ اس نے اپنے شوہر سے کیا بات کی تھی... مگر وہ کیا کر سکتی ہے؟

میری نظر میں یہ واقعہ ایسا ہو رہا ہے جیسا کہ بہت سے خواتین نے اس سے پہلے کیا تھا... لیکن کبھی کسی کی یہ ناجائز دھندلی نہیں تھی... اب تمہیں ان لوگوں کے بعد اٹھنا ہو گا...
 
ایس ایچ او عوامی کالونی عامر ملک میں ہونے والے واقعے کی گھنٹی گھنٹی پوری دیکھ رہی ہے تو اس کا سچا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی جان بھی چلی گئی ہے جنہیں اس فوجی گولے کا شکار ہونا پڑا تاکہ وہ اپنے شوہر سے بات کر سکون سے رہ سکے
 
یہ واقعہ ہر ایک کی غمت خواہی ہے، میرا خیال ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ کسی نے کتنے عارضے بھری ہوئی زندگی میں جانب پھرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ اس خاتون کی بھانجی کو جو زخمی کر دیا گیا وہ تو جھگڑا تو نہیں اور فوجی گولہ تو بھی نہیں، کیا یہ زندگی میں کچھ چکی ہوئی؟
 
عصمت سے آ گئے لوگ بھانجے کو زخمی کرنے کی بیداری سے محض واضح ہوتا ہے کہ جھگڑے میں کیے جانے والے حملے کی تیز گزر ہوئی ہے۔ 30 سال کی عمر میں بھانجی کو گولے کی لپٹ لگی ہو گی اور وہ پھنسی چلی ہے... کیا یہ صرف ایک خاتون تھی جو اپنے شوہر کے فوجی گولے سے اپنے بچے کو زخمی کرنا چاہتی thi?
 
اس معاملے سے ہمیں پوچھنا چاہیے کہ یہ وہ لڑکی ہے جس نے اپنے شوہر کے فوجی گولے سے اپنی بھانجی کو زخمی کر دیا ہے اور اب وہ شکار فوجی گولہ کی دھمکیوں میں ہے! ایسا کیسے possible ho sakta hai? #فوجی_گولہ_کے_قریب #زخمی_ہوا_کیا؟

ایسے حالات میں کیسے پریشانیوں کی صورت میں آتی ہے جہاں لڑکی کو اپنے شوہر سے محنت کرنا پڑتی ہے اور وہ بھی فوج میں ہوتا ہے! یہ کیسے possible ho sakta hai? #فوج_میں_زندگی #شادی_کے_جھگڑے
 
ایسے واقعات نہ ہونے چاہئیں اور یہ سچائی بھی ہو گئی کہ جب آپ کی محبت اپنے گولے کی طرف کی جاتی ہے تو وہ تو ہی پہلے چلتی ہے 🤕🚫
اس سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین اور پriaں انہی طرحوں دھڑکنے کو مجبور کی جاتی ہیں اور ان کے تحفظ نہ کیے جانے پر بھی نہیں ہوتا یہ سچائی ہی ہوگی
لندھی میں ایسے واقعات نہ ہونے چاہئیں جو لوگوں کی زندگی کو بھرپور تباہی پہنچاتی ہیں یہ سچائی ہوگی
 
اس واقعات سے بڑی گنجائش پڑ رہی ہے، یہ بات نہیں چھوٹی اور زبردست ہے کہ ایک خاتون اپنے شوہر کے فوجی گولے سے اپنی بھانجی کو زخمی کر دیتی ہے، یہ تو پوری طرح سے غیر متوقع ہے اور اس پر پولیس نے بھی تیز رفتار عمل لیا ہے جس کے بعد وہ خاتون اپنی زندگی کی تلاش میں ہے۔
 
اس واقعہ سے ہمارے پوری ملک میں کچھ اچھی نہیں، یہ تو ایک خاتون نے اپنے شوہر کے فوجی گولے سے اپنی بھانجی کو زخمی کر دیا ہے، لاکین اس کا جواب ہے وہیں، اہم بات یہ ہے کہ پہلے سے کی گئی ایس ایش او کے مشوروں پر اب بھی کچھ نہیں بدلے جارہا ۔
 
یہ واقعہ بہت ہی ہلکہ دہ ہے، ان لوگوں کو بھی پوچھنا پڑے گا کہ وہ اپنے شوہر کے فوجی گولے سے اپنی بھانجی کو زخمی کر دیتے ہیں؟ یہ تو ایسا نہیں ہوسکتا، لاکیر تھامنے کے علاوہ کیا کرتے ہیں؟
 
اس واقعے پر غور کرتے ہوئے مجھے بھی دھچکہ لگ رہا ہے کہ آج کل لوگوں میں جھگڑوں کی پالیسی ہونی چاہیے نہ کہ فوجی گولے سے زخمی ہونے پر پلیس اسٹیشن پر پہنچنا اور پولیس کو بھی ایسے واقعات میں شامل کرنا جبکہ افشا کی نالاجی اور شادی کے وقت سے شروع ہونے والی خوفناک جھگڑوں کے بعد ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
 
اس واقعے پر مجھے یہ سوچنا مشکل ہو رہا ہے کہ ایسے situations میں ہلچل کیوں پڑتی ہے؟ آج بھی ملک بھر میں کئی اور واقعات ہوئے ہیں جبکہ ان سے کوئی اہمیت نہیں رہتی تو اس کا پچھا کیا ہوگا؟ پھر بھی یہ واقعات ہلچل کیوں بنتے ہیں؟ 🤔
 
یہ واقعہ بھی ہمارے لئے ایک اچھی سگنل ہو سکتا ہے تاکہ خواتین اپنی خود کی حفاظت کو محفوظ رکھ سکен، مجھے لگتا ہے کہ پولیسی سٹیشن پر پہنچ کر اس نے اپنی بیٹی کے حوالے سے بڑا عمل کیا ہو گا تاکہ اس کو ٹانگ کی زخمی ہونے پر فوری طبی امداد مل سکے اور وہ جلد ہی صحیح ہوجائے
 
ہمیشہ سے ہونے والے گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے زیادہ متاثر ہونے والی خواتین کا تعداد کم نہیں ہوتا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ایک خوفناک سلسلہ ہوا جو بھارت میں گھریلو جھگڑوں کے دوران نتیجے میں پہنچتا ہے۔
اس واقعات سے انکشاف ہوتا ہے کہ بھارت میں گھریلو جھگڑوں کے دوران زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2014 سے 15 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ 2020 میں بھارت میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 12 لاکھ 15 ہزار سے 14 لاکھ 12 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
اس واقعات کے بعد یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2015 سے 10 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2014 سے 8 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات کے بعد یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2013 سے 6 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2012 سے 4 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات کے بعد یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2011 سے 2 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2010 سے 1 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات کے بعد یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2009 سے 0.5 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2008 سے 0.3 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات کے بعد یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2007 سے 0.2 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
اس واقعات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو جھگڑوں میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد 2006 سے 0.1 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
 
اس واقعے سے ہر کوئی آزاز لگاتا ہے، تو پھر وہ خاتون جو اپنے شوہر کے فوجی گولے سے اپنی بھانجی کو زخمی کر دی، اب کس معاملے میں ان کی دلیڈار ہو گی؟ آرے تو اس جگہ پر ایس ایچ او عوامی کالونی عامر ملک کیسے ہوسکتا ہے؟
 
واپس
Top