karachi student passes o level exam at age 13 help chat gpt | Express News

سنٹی پیڈ

Well-known member
کراچی سے تعلق رکھنے والی 13 سال کی ایsiڈ محمد عبیر نے کوئی ٹیوشن لینے کے بجائے چیٹ جی پی ٹی اور ووڈیو لیںڈ پر اسکول کی پڑھائی کا فوائد اچھے ساتھ گزاریوں. عبیر نے کیمبرج یونیورسٹی کے او ایول امتحان میں انتہائی کم عمری میں اے گریڈ حاصل کرکے کراچی اور سندھ کا پہلا طالب علم بن گئے.

سید محمد عبیر کو 13 سال کی عمر میں کیمبرج یونیورسٹی کے او ایول امتحان میں اے گریڈ حاصل کرکے سب سے پہلے اسی علاقے سے تعلق رکھنے والا طالب علم بنایا گیا ہے.

عبیر نے اسلامیات اور کمپیوٹر سائنس کے دونوں مضامین میں اے گریڈ حاصل کیا اور ایسی عجائب کو دیکھتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں یونیورسٹی آف کیمبرج کی سند مل گئی ہے.

اس کامیابی پر والدین نے Allah کا شکر ادا کیا اور ابھی تو عبیر کے لیے تعلیم میں مزید کامیابی کے لیے دعا کی جا رہی ہے.

وہ ایک چار سال تک اسکول سے اٹھا کر گھر میں پڑھائی کرتے رہتے ہیں اور بعد ازاں چوتھی جماعت میں داخل ہوگئے تاکہ وہ اسکول کی پڑھائی کا فوائد اپنے بیٹے کو دیکھ سکیں.

عبیر کی والدہ نے گھر میں پابندی اور پڑھانے کاSchedule بنایا تھا، حالانکہ اس نے کچھ عرصے کی پیداوار کے بعد بیٹے کو اپنے بیٹے کا تعلیم کا آدھا حصہ دیکھنے کا موقع دیا تھا۔

ان کے مطابق اس کامیابی پر ان کا سب سے زیادہ کریڈٹ اسی نے ہی جاتا ہے۔

عبیر کی والدہ اور والد ان کو اپنے بیٹے کو یونیورسٹی کے او ایول امتحان میں شرکت کرنے کے لیے بھی رہنمائی دیتے ہیں اور ان کی نالیوں میں ایک واضح پہلو ہے جس سے ان کو یونیورسٹی کے او ایول امتحانات میں شرکت کرنے میں مدد ملتی ہے.

ان کا مشورہ ہے کہ اس عمل کو تقلید کرکے اپنے بچوں کو یونیورسٹی کے او ایول امتحانات میں شامل کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف اخراجات کم ہوگئے بلکہ کامیابی بھی مل سکتی ہے.
 
اس طالب علم کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے میں تو خوش ہو گیا ہوں اور اس کے والدین کی صبر و مشرت سے بھی تمھارے دل کو جیت لیا ہے 💪🏽. اس کی کامیابی ایسی ہے جو کسی کے اپنے پتے پر نہیں لگتی بلکہ اس کی مدد اور حمایت سے ہی مل سکتی ہے. اگر آپ کا بیٹا بھی ایسی صورت حال میں آئے تو اس کے لیے کافی توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی.
 
عجیز! یہ کراچی سے تعلق رکھنے والا 13 سال کی ایسیڈ محمد عبیر تو ہی ہے جو جسمان و آزادیت میں بہت صاف ہے، لیکن ان کے درمیان تعلیم کو دیکھنا۔ اس نے Cambridge University کی او ایول امتحان میں انتہائی کم عمری میں اے گریڈ حاصل کرکے سب سے پہلے اس علاقے کا طالب علم بنایا ہے، یوں یہ ہوا کہ وہ چار سال تک اسکول سے اٹھا کر گھر میں پڑھائی کرتے رہتے ہیں اور پھر بھی اپنے بیٹے کو تعلیم کا فوائد دیکھ سکتے ہیں۔

میں یہ بھی سوچta ہوں کہ اس نے کس طرح اپنی قوتوں کو آگے بڑھایا، کیونکہ اس نے اپنے والدین کے مشورے سے آپریٹنگ سسٹم کو دیکھنا شروع کیا تاکہ وہ اپنے بیٹے کو تعلیم کا فوائد دے سکے، یہی نہیں بلکہ اس نے اسلامیات اور کمپیوٹر سائنس دونوں میں اے گریڈ حاصل کیے اور اسی لیے Uni of Cambridge کی سند حاصل ہوئی۔

ایسا کیا ہوا ہے؟ آج کا وقت اتنی تیز ہے جو آپ کو پڑھائی کو آسان بناتا ہے لیکن وہی ہے جو آپ کے لئے زیادہ مشکل نہیں۔
 
اس سچائی کو یقین دلایا گیا ہے، ایسا تو چالاکت اور شجاعت کی بات ہوگی 🤔۔ لکھا گیا ہے کہ اس نے Cambridge University ka Owen's امتحان میں A-grade حاصل کر کے karachi aur sindh ka پہلا طالب علم بن گئے، اور یہ بات بھی چالاکت کی ہے کہ وہ اس کے لिए پڑھائی کاSchedule بنا کر gharelu padihai karta raha, abhi to unki usi takat ka fayda uthaya ja raha hai 🤓
 
مگر یہ کہانی ایسی ہی ہے جس میں کوئی نہ کوئی لاکھ پینس لگا رہتا ہے۔ اس 13 سال کی چیٹ جی پی ٹ اور ووڈیو لیڈ کے باوجود یہ بھی ایک حقیقی کہانی ہے۔ سچ کی بات یہ ہے کہ تعلیم میں وقت اور پرورتی ضروری ہے۔ تاہم، ابھی تک اس بات پر بات چیت نہیں کی گئی ہے کہ تعلیم کو کیسے اپنائیں، جس سے دوسری نسل کے بچوں کو بھی اسی فائدے سے لافازا ہو سکے۔
 
یہ واضح طور پر دیکھنے کو میں آ رہا ہے کہ اس نوجوان کے والدین کی ایسی پالسی سے ان کے بیٹے کی تعلیم کی آگ بھی اُرتا ہے اور وہ اپنے بیٹے کو یونیورسٹی میں شامل کرکے کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ جب تک والدین اپنی پالیسی پر کadam rakhte hain, tabhi aisa hi kalam chalta hai.
 
ياallah! ایسی طاقت کو دیکھ کر میرا دिल ٹوٹ جاتا ہے! یہ 13 سال کی بچی اسکول سے اٹھ کر پڑھائی کرتے رہتی ہے تو وہ آگے چل کر کیمبرج میں اے گریڈ حاصل کرلی جاتی ہے! مینے انسAF کی ایسی فنس لائن کھوجی ہوں جو اس کی طرف بھی لے جائیں تو پوری دुनیا بھر میں ان کی شان ہو جائے! 😍💖
 
یہ کامیاب کہانی تو دل کو چور کی، یہ بچہ پڑھائی میں اسٹریٹجیک ایکٹ کر رہا ہے، مگر وہ آسمانوں تک چل سکا ہے؟ کیا ان کی والدین نے اس کو اسکول جانے سے روکیا ہے یا اس کی ذیانت رکھنے میں مدد کی ہے؟
 
اس طالب علم کی کامیابی سے کوئی بات بدلی نہیں، لیکن یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اس طرح کے آپریشن کو وکالت کیا جائے گا؟ ان کے والدین کی واضح پہلو اور غم کا محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ کبھی بھی اپنے دائرے سے باہر نہیں جاتا। ایسی صورتحال کو انحصار اور انتہائی معقولیت سے منظر بنایا جا سکتا ہے، حالانکہ اس کے پیچھے کئی سوال اٹھتے ہیں۔
 
عبیر کی آرزو کو دیکھتے ہیں تو یہ سچ لگتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی ناکامیت پر مایوس نہیں رہا، ان سے ملنے والی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو یونیورسٹی میں داخل کرائے جاسکے تو وہ اپنی زندگی میں بھی اس طرح کی کامیابی حاصل کر لگے گا ، مجھے ہمیشہ انکی آرزو کا درجہ چپکتا رہا ہے.
 
عجب کرتی ہوئی ، اس طالب علم کی کامیابی کو دیکھتے رہتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس نے کیسے حاصل کیا؟ اس کے بعد اچھا سوال یہ ہوتا ہے کہ تعلیم کی پوری فہم کیسے حاصل کرنی ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ طالب علم اپنے والدین اور اسکول کی توجہ سے پڑھائی کا فوائد اپناتا رہا اور یہی کامیابی کا سبب ہوا
 
واپس
Top