karachi super highway truck hit motorcycle youth killed | Express News

شیر

Well-known member
کراچی کے سپر ہائی وے پر ایک ٹرک نے موٹرسائیکل سوار 28 سالہ عبدالشکور کو جاں بحق کر دیا۔ حادثہ کھانے والے خان صاحب ریسٹورنٹ کی طرف سے کئی پیسے کے قریب ٹرک نے موٹرسائیکل سوار نوجوان کو جاں بحق کر دیا تھا جس پر اس وقت فری ہیڈ لگائی جارہی تھی۔

حوالے کے مطابق، ٹرک کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔ اس حادثے پر شہید اسپتال لایا گیا جس میں اس کی لاش چھیپا کے رضا کاروں نے بطور ضابطہ کارروائی کے لیے بھیجا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ متوفی نوجوان موٹر سائیکل پر سوار تھا اور حادثہ ٹرک کی ٹکر سے پیش آیا تھا۔ جب تک انھے جاں بحق ہوئے تھے تو شہید اسپتال میں لایا گیا تھا اور اب اس کے بعد بھی ضابطہ کارروائی کے لیے اس کی لاش کی پہچان ہونگے۔

اس حادثے پر پولیس نے بتایا کہ ٹرک کے ڈریور موقع سے فرار ہوگیا تھا اور اس وقت تک وہ شہرت نہیں حاصل کر سکے گئے تھے جب تک وہ ضابطہ کارروائی کا حال نہیں بتایا تھا۔

اس حادثے پر پولیس نے بھی آزاد ہونے والے ٹرک کو قبضے میں لے لیا ہے اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری رہتا ہے۔
 
Wow! 🚨😱 ایسے نوجوان کی جان گئی تو آج بھی ہر کسی کی منزلیں لٹ گئی ہیں. اس ٹرک کا ڈریور تو ایسی صورتحال میں فرار ہو گیا تھا جس کو پھنکیا جا سکتا تھا اور اب یہ سب کچھ کبھر گئے جانا چاہیے..police ko abhi bhi transport ko register karna chahiye, toh woh hi saaf rahega. police ne woh transport ko giraavat mein liya hai jisse aapko pata chale ga 🚔
 
تھوڑا سا ہی نوجوان کی جان گئی تو پھر بھی ہمیں ٹرک کی ایسی دیکھنے کے حوالے سے متاثرہ ہونا چاہیے. یہ نوجوان ہماری لچک اور صحت کو دیکھ رہا ہے کہ ان کی جان کیسے بنے رہے. مگر یہ بھی ٹرک کی ایسی نہیں تھی جس کے بعد اس کی ٹکر سے کوئی نوجوان جاں بحق ہو جائے.

اس حادثے سے یہ بھی سکھائیا جائے گا کہ ٹرک کی ایسی نہیں تھی اور اس پر فری ہیڈ لگائی جارہی تھی. پھر کیا اس نوجوان کو بھی فری ہیڈ مل سکتی? یہ حادثے کی ایسی نہیں بتے جو لچک اور صحت کا سنجے زحم کر رہے.
 
اس دuniya mein kuch bhi safar par nahi hai, sabko apne safar ke liye josh karna padta hai. aur ab Karachi ki super highway par traffic police ka koi bhi aadar nahin raha. bas wo bhi khud ko alag-alag category mein divide karke apni zindagi mehsoos karta hai, pehle traffic police ke liye, phir transporters ke liye. yaar ab toh yeh bhi kaam hua hai kya? 🚨😡
 
یہ بہت غلط ہے، انھوں نے ایک نوجوان کو ماڑی دی اور ان کی لاش کو پکڑنے کا دباؤ پھیلایا۔ ٹرک کے ڈریور کے پاس جہالت ہو گی یا وہ ایسا نہیں چاہتے تھا؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ انھیں موٹر سائیکل پر سوار نوجوان کو لاپٹنے کے لیے ایسا کیے جا سکتے تھے؟

اس حادثے سے پہلے بھی نیند کے مابین وہیں رکھے جاتے تھے، اور یہ وہی شہر ہے جہاں لوگ نیند کے مابین ایسے بھی دیکھتے ہیں۔ سڑکوں پر انھوں نے کوئی اچھی طرح توازن نہیں بھی دیا، اس لیے یہ حادثہ ہو گیا جس سے پہلے بھی اس شہر میں بہت سی ایسی حالات دیکھے جا چکے ہیں۔

حال کی صورت حال میں لینے کے لیے، اگر سڑکوں پر انھیں اس طرح کوئی اچھی طرح توازن نہ دیا گیا تو وہ ہی گارڈن کے بعد بھی دیکھتے رہیں گے۔
 
اس حادثے پر دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ ٹرک کی کتنے بڑے بنے ہیں اور وہ بھی ہی ایسے ہیں جو جتنی دیر روک کر کھانے والے خان صاحب ریسٹورنٹ کی طرف آئے تو وہاں کے ٹرک نے موٹرسائیکل سوار کو جاں بحق کر دیا ہوگا! یہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر میں اسی طرح کی غلطیوں کا جواب دہ ہوا جائے گا؟ 🚗😡
 
یہ تو بھی کچھ نہیں ہو گا ، ایسے ہیں ٹرک پر چلنے والی سافٹ وئیر کی لگائی نہیں رہی تو کیسے ہوا اس حادثے کو انٹرنیٹ پر پڑھ کر متھوں آ پگلیا تھا۔ جب سے ٹرک میں نہیں رہتی وہاں بھی نہ ہونے کی وجہ سے ہی یہ حادثے ہوتے تھے۔
 
یہ ایسا بات چیت نہیں ہوتا کہ آپ کو ایک ہائی وے پر ٹرک سے موٹرسائیکل کھون لینے کی ہمت ہو سکتی ہے! کیا آپ کو پتہ نہیں ہوتا کہ یہ ایسا کاروبار نہیں جو آپ بھائیوں کی زندگی کو ختم کر دیتا ہے؟ اس ٹرک کے ڈریور کا جہل و غفلت اور ایسا ماحول جس میں لوگ اپنی جان لے جاتے ہیں، یہ سب ایک سڑک کی تاریخ کا حصہ بنتا ہے جو ہمیں آپسی رिशت کی بات نہیں کرتے دیتی!
 
واپس
Top