kharan terrorists attacked police station and bankd security forces operation 12 terrorists killed | Express News

لوڈو کنگ

Well-known member
بلوچستان کے ضلع خاران میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے سٹی تھانے اور بینکوں پر لاکھوں روپے کی ڈکیتی کرنے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ضلع خاران میں بھی دہشت گردی کی بھرپور کارروائی کی، جس میں سٹی پولیس اسٹیشن، نیشنل بینک اور حبیب پر حملہ کرنا شامل ہے۔ لاکھوں روپے کی ڈکیتی کے بعد دہشت گردوں نے 34 لاکھ روپے لوٹ لیے۔

اس مामलے میں سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیا اور دہشت گردوں کو پسپا کرکے کلیئرنس آپریشن کے دوران 3 مختلف مقامات پر 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

دہشت گردوں نے بھی سٹی پولیس اسٹیشن پر لوگوں کو یرغمال بنانے جیسی صورتحال پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن یہ منصوبہ مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا گیا۔

اس کے بعد اس علاقے اور اطراف میں دہشت گردوں کی موجودگی کے شائبے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔

فوج نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی یہ مہم پوری قوت سے جاری رہے گی تاکہ غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
 
اس نئے سیکورٹی مینجمنٹ کو دیکھتے ہوئے مجھے خوشی ہو رہی ہے 🙌 سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی اور 12 مظنون کو مار ڈال دیا ہے، یہ ایک اچھا شروعات ہے।

لیکن مجھے یہ بات کچھ خوش نہیں کر رہی کہ وہ دہشت گردوں کو پچتاوا کیسے کیا ان پر پھیرنا تھا ۔ اس سے نکلنے والے لاکھوں روپے کی ڈکٹی بھی ایک اور بات ہے، یہ دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ یہ ان پر پھیرنا ایک نا جانتا طریقہ تھا ۔
 
اس مذاہب سے منسوب دہشت گردوں نے فخر سے اٹھایا ہوتا ہے تاکہ لوگ ان کی بے رحمی کو دیکھ کر خوش نہیں ہوجات۔ بلوچستان میں ہونے والے ہلاک و جریمہ کے بعد یہ سچائی باقی رہ گئی ہے کہ دہشت گردی کی موجودگی کو ختم کرنا ایک ضروریات ہے۔
 
🤣😂👮‍♂️ لالچا بھائیو! 🤑 34 لاکھ روپے لوتے ہیں اور تو ان پر دھیما سے چل رہے تھے... اب وہ ہلاک ہو گئے! 😂👊
 
یہ گھبراہٹ کی کور اور چلچل کی بیل پر ان سے پتہ چلتا ہے۔ دہشت گردوں کو ایسے ماحول میں جگہ نہیں دی جائے جو انھیں خوفزدہ اور گریح کرتے ہوئے رکھے۔ پوری قوت سے جاری رہنے کی بات تو تو صاف ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ انڈر گراؤنڈ سرپٹس اور انفرادی کارروائیوں کو اس مقصد تک پہنچایا جا رہا ہے یا؟
 
بھالو، یہ بات کتنی اچھی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی جگہ پر قدم رکھا ہے لیکن اس میں بھی کوئی proofs nahi ہے کہ دہشت گردوں نے انھوں سے لوٹنے کے لئے کتنا پैसہ رکھا ہوتا تھا... 34 لاکھ روپے کی یہ ڈکیتی کس سر پر ہوئی، وہ جواب نہ دیا گیا ہے اور یہ تو ایک بڑا सवाल ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے انھیں کیسے چھوڑ کر ہلاک کردیا؟
 
پچاس کی دہائیوں سے ان لوگوں کو متحرک کرنا شروع کرتے ہوئے، ڈاکٹر ایس ایچ فائز نے یہ بات کہا تھا کہ "دولت میں ہونے والی پریشانیوں کو حل کرنے کی جگہ اٹھنا بھی مشکل ہوتا ہے" اور اب یہ وہی بات ہے، دہشت گردوں کے خلاف ہمیں یہی کہنا پڑے گا۔
 
واپس
Top