چین میں ایک بچے نے اپنی ناک میں ایسا ڈھکنا پھنستا تھا کہ وہ کمبینیشن پیڈ لاک جیسے تالا کے ساتھ دیکھنا پڑتا تھا۔ اس بچے نے اپنی ناک میں یہ ڈھکنا لگایا تاکہ وہ ایک کردار ’بُل ڈیمون کنگ‘ جیسے دیکھے جائیں۔
اس بچے کو پھنسنا پڑا تھا اور اس نے اپنے والدین سے مدد طلب کی لیکن وہ ناکام رہے۔ آخر کار انہوں نے مقامی فائر ڈیپارٹمنٹ سے مدد طلب کرنی پڑی لیکن اس معاملے کو حل کرنے کا راستہ بھی ٹھیک نہ آیا۔
فائر فائٹرز نے تالوں کا معائنہ کیا اور ان کی مدد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسے ڈھکنوں کو کھینچنا یا زور ڈالنا تو تکلیف کا باعث بن سکتا ہے اور ناک کی درمیانی ہڈی میں سراخ کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
اس معاملے کو حل کرنے کے لئے فائر فائٹرز نے اس بچے کی مدد کی اور اسے تکلیف سے نکالا۔
یہ چینی بچے کا واقعہ خوفناک ہے! وہ اپنی ناک میں ایسا ڈھکنا پھینستا تھا جیسا کمبینیشن پیڈ لاک سے دیکھنا پڑتا ہے... یہ کتنی تکلیف دہ واضح ہو گی!
اس کا معاملہ حل کرنے کی کوشش کرنے والی فائر ڈپارٹمنٹ نے ایسا بتایا کہ اگرچہ اس ڈھکن کو کھینچنا یا زور دالنا تکلیف دہ ہو سکتا ہے لیکن وہ بچے کو ابھی تک ماحول میں سے نکلانے کی اجازت نہ دی گئی۔
اس معاملے کے حل کے لئے فائر ڈپارٹمنٹ نے اس بچے کو مدد کی اور اسے تکلیف سے نکالا... یہ ایک دوسرا نامہ ہو گا!
ایسا ڈھکنہ پھنسنا پڑتا ہے تو یہ وہی کھڑے رہتے ہیں جو دیکھنے میں تالا لگتے ہیں… یہ بچا اچھا ہوا نہیں تو اس کی مدد کرو ایسے بچوں کو بھی ضرور دیکھنا پڑتا ہے جو ان تالوں میں چلنے سے منع رکھے جاتے ہیں…
یہ بچا کیا ہوتا ہے؟ ایک بچا جو اپنی ناک میں ڈھکنا پھنستا ہے اور وہ اس طرح دیکھنا چاہتا ہے جو ایک کردار 'بُل ڈیمون کنگ' جیسا دیکھے جائیں تو یہ وہ ہی ہوتا ہے جس پر اسے تکلیف پہنچاتی ہے؟ اس کی مدد کی لئے آنے والے فائر فائٹرز نے اس کے پاس ایک ٹیالوں سے کھیلنے کا ایک مقصد دियا جو اس کی تکلیف کو حل کر سکتا ہے... لیکن آس پاس لئے بھی یہ انچ نہیں آ سکتی?
یہ تو باقیوم کیا ہوا… ایسا لگتا ہے کہ ان فائر فائٹرز کو صرف ذمہ داری پھیلانے کی اور بچے کو تکلیف دینے کی ضرورت تھی! اب یہ تو کیا اس بچے کو فوری آپریشن میں لے کر گئے اور اس کی مدد کی? نہ ہی وہ پہلے اپنے والدین سے مدد طلب کر سکتے تھے اور نہ ہی فائر فائٹرز کو یہ بات بتا دی جاتی کہ اس بچے کو تکلیف ہو رہی ہے! یہ تو ایک اور معاملہ ہے کہ وہ بچے کو کیسے مدد کی گئی؟
اس ڈھکنے والے بچے کو دیکھتے ہی مجھے لگتا ہے کہ ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے جو اس سے تالوں کے بعد بھی دکھائی دیتا ہے۔ اپنی مدد کی طلب کرنے کے لئے وہاں جائیں تو ناکام رہتے ہیں اور آخر کار فائر ڈپٹی میں جانے پڑتے ہیں۔ مگر مجھے اس بات سے انسAF کا ہونے کا لگتا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے میں فائر فائٹرز نے کچھ اچھی گالری کی ہے
یہ بھی تو دیکھنا پڑتا ہے کہ دنیا میں ایسا بھی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ناک کو اس طرح ڈھکنا پھنستا ہے اور خود کو دوسروں سے نظر نہیں آتا، جیسے کہ یہ بچا جو تالوں کی ایک شہرت رکھنے والی پوزیشن پر چاہتا تھا...
یہ ایک واضح تعلق ہے کہ چینیوں کو تالے کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے! اس ناک میں ڈھکنے والے بچے کو فائر فائٹرز نے ایسا تو ہی نہ ہو سکتا تھا، ابھی تالے کی پریشانی کا سامنا کرنے والے لوگوں کو یہ سب کچھ معلوم ہوتا ہے! لگتا ہے کہ ڈھکنے والے بچے نے اپنی کوشش کے لیے جانب سے مدد طلب کی لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوا اور اب وہ فائر فائٹرز کی مدد لینا پڑا! یہ معاملہ لوگوں کے لئے ایک تعلیم دیتا ہے کہ تالے کی پریشانی سے نافذ ہونے والی قانون کی بھی کوئی عادی نہیں!
یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جیسا کہ نہیں سمجھیں! یہ بچا اچھا نہ ہو سکا تو وہی تالوں میں گریوٹی کی پہچان دیتا ہے اور اچھا ہونے والا اسے بھی کوئی مدد نہیں کرتا!
آج یہ معاملہ وہی ایسا ہو گیا ہے جیسا کہ کبھی ہوا تھی کہ لوگ بھرے اور گریوٹی کی پہچان دیتے تھے تو اب وہی اچھے کے لئے نہیں بلکہ مضر کے لئے کام کرتے ہیں!
اور یہ سارے معاملے پر حکومت کا جواب ہوا تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے صحت کی پلیٹ فارم کو بھی بدل دیا ہے!
بچہ کی یہ پوزیشن تو دیکھ کر ہی دل تھوکیا، لگتا ہے کہ وہ ڈاکٹر یا ماڈل کے ساتھ گئا ہو۔
آج کی نئی پینسائل ٹیکنالوجی نے اس بچے کو اور دیگر افراد کو یہ عجوبت چھुपانے میں مدد کی ہوگی، تو اب اس سے کیا محفوظ رہے گئے؟
اس معاملے نے میرا suyال بھی اٹھایا کہ ماشوہرین کو اپنی پوسٹر یا انسٹاگرام پر بھی یہ بتانا چاہیے کہ اگر آپ کی ناک میں ڈھکنا لگ جائے تو اس سے آپ کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
اس معاملے کو حل کرنے پر فائر فائٹرز کی جانب سے بڑی سہولت کی پائی گئی، لیکن اس سے قبل اس کا حل لگاتار سالوں میں تلاش ہوتا رہا...
اس کے بعد میرا suyال یہ ہو گیا کہ ناک میں ڈھکنا لگائے تو آپ کا کیا محفوظ رہے گئے؟ اور انٹرنیٹ پر اس بارے میں کیونکر بات کرتے رہے؟
اس کا ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے جس پر ڈھیل مٹائی دیتے ہیں اور پھر جو لگتا ہے وہ لگتا رہتا ہے
کوئی بھی کھیل یا ایکٹ کو کرنے سے پہلے اس کے نتیجے پر فہم حاصل کرنا چاہیے۔ یہی ڈرپ ڈاپ بن گیا ہو گا اور ایسا ہی سلوک ہوتا جائے گا کہ لوگ اسے ہاضم کر لیں گے
لڑکیوں کو بھی اپنے ماحول کے ساتھ اپنی صلاحیتوں پر عمل کرنا چاہیے، نہ تو ان کی مدد ملنے دے کے انہیں ایسا ہی رہنا پڑتا جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے میں ناکام رہ جائیں، نہ یہ کہ انہیں اور ان کی والدین کو ایسی صورت حال ہونے پر بھگتانا پڑے
عجीब عجائب ہیں جس پر ہمیں ملتا ہے! ایک بچا تھا، جو اپنی ناک میں ایسا ڈھکنا پھنستا تھا کہ وہ کمبینیشن پیڈ لاک جیسے تالا دیکھ لیتا تھا . اچانک ان کی یہ ناکوں میں لگی ڈھکنے نے انہیں ایک کردار ’بُل ڈیمون کنگ‘ جیسا دیکھنے والا چھو گئے!
لیکن یہ بچا ہمیں اس معاملے کی اہمیت سے آگاہ نہیں کر رہا تھا! جب انہوں نے اپنے والدین سے مدد طلب کی تو وہ ناکام ہو گئے... اور اس کے بعد بچے کو فائر ڈیپارٹمنٹ سے مدد طلب کرنی پڑی!
لکیر وارنٹ کا ایسا معاملہ، جس میں ان کی مدد کے لئے پہلی بار فائر فائٹرز سے بات چیت کروائی گئی... اور اس کے نتیجے میں وہ بھی تکلیف سے نکالے گئے!
اس معاملے کی اہمیت کے لئے ہمیں تھوڑا ٹھیک کرنا پڈتا ہے! اس کی واضح بات یہ ہو گی کہ ایسے ڈھکنوں کو کھینچنا یا زور ڈالنا، تکلیف کا باعث بن سکتا ہے اور ناک کی درمیانی ہڈی میں سراخ کرنا بھی مشکل ہو سکتی ہے!
ایسا دیکھنا پڑتا ہے کہ چینیوں میں بھی بچوں کے لئے پیداوار کی پلیٹ فارم پر اپنی ناکوں کو ایسے انداز میں استعمال کرنا پڑتا ہے جیسے لوگ تالا کا حقدار ہیں…
کھیلوں اور تالوں سے لے کر ناکوں کی دیکھ بھال تک پوری دنیا میں یہ بات پڑتی ہے کہ کیسے لینے والا اور لینے والی دونوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں…
اس معاملے سے ایک بات یقینی ہے جس طرح تالا کے ساتھ کھیلتے ہیں، وہی طاقت ایک بچے کی ناک پر بھی استعمال کرنے میں نہاں دیتے…
اس معاملے میں کیا ہوا ہے وہاں ایک بچے نے اپنی ناک میں ایسا ڈھکنا پھنستا تھا جیسے وہ تالا سے دیکھتے ہیں اور اس کے والدین نے اسے مدد طلب کرنی بھلائی نہ کی وہاں بچے کو مقامی فائر ڈیپارٹمنٹ سے مدد طلب کرنا پڑا لیکن اس معاملے کو حل کرنے کے لئے فائر فائٹرز نے اسے تکلیف سے نکالا
اس طرح ایسے ڈھکنوں کو کھینچنا یا زور ڈالنا تو تکلیف کا باعث بن سکتا ہے اور ناک کی درمیانی ہڈی میں سراخ کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے یہ ایک خطرناک معاملہ ہے جس کے لئے فائر فائٹرز کو اقدامات پر آنا پڑتا ہے
ایسا تو ہزاروں بار ہوا ہے، بچوں کے ساتھ وہ کیا کرنا پڑتا ہے؟ ان کی تکلیف کو نہیں سمجھتے اور جب وہ مدد طلب کرتے ہیں تو بچوں کو ان کی مدد سے بھی تکلیف ہوتی ہے! تالے ساتھ دیکھنا ہو گا تو آئے، اور یہ کیا ڈھکنا لگایا، ایک کردار بنانا چاہتا ہے؟ لاجت بھی کر لیے!
یہ عجیب ہے، ایک بچے کو تالوں کا معائنہ کرنا پڑتا ہے! تو اسے یہ بات پتہ چلتھی کہ انہیں ڈھکنا پھنستاتھا؟ اور اس نے اپنی ماں باپ سے مدد طلب کی لیکن وہ کچھ نہیں کیا! یہ عجیب ہے، فائر فائٹرز کو بچے کی مدد کرنا پڑی اور اس میں یہ بات لگتی ہے کہ لوگ آپنے آپ پر کھڑے نہیں رہتے!
میری رائے میں یہ بات یقینی ہے کہ ایسے ڈھکنوں کو چھونے یا لگا کرنے کی پابندی بڑی ضروری ہے، خاص طور پر اس سے پہلے کہ اس کی مدد کیا جائے۔ اس کے لیے میرے خیال میں کوئی بھی کھینچتے ہوئے ڈھکنوں سے محفوظ پوسٹنگ یا ماڈل بنائی جانی چاہیے تاکہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ ان کو ہلچل میں لانا اور اس کے علاوہ کچھ نہیں کرنا ہو، اور اگر کسی بچے یا کوئی شخص اس کی مدد طلب کرتا ہے تو اسے انہی پوسٹنگس سے محفوظ لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ ایک دوسرے سے ہٹ کر گھر آنا مشکل ہو گیا ہے، ناک میں یہ ڈھکنا پھنستا ہے تو تکلیف کیسے نہ ہوگی؟ بچے نے اپنی مدد طلب کی لیکن والدین ناکام رہے، یہ معاملہ حل نہیں ہوا اور پھر انہوں نے فائر ڈیپارٹمنٹ سے مدد طلب کرنی پڑی۔ اگلی بار بھی تو چنگا نہیں آگیا، لاک دیکھنا کوئی دوسرا کیسے دیکھے؟
یہ ایک اچھا ماجا ہے، میں سوچتا تھا کہ لوگ آپنے والدین سے مدد طلب کرنی چاہتے ہیں تاہم اس بچے کو اپنے والدین نے مدد نہیں کی تو یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کا راستہ ٹھیک نہیں آیا اور فائر فائٹرز نے ایسا کیا ہو سکتا ہے۔
یہ ٹپک دیا ہوا معاملہ تو بہت گھنڈا ہے، لگتا ہے کہ وہ بچہ جس نے ڈھکنے کا کوشش کی تھی ان کو پوری دیکھنا مुश्कل ہو گیا ہے اور اس کی مدد کے لئے والدین نے ناکام رہے، یہ تو گالہ ہے۔
کچھ سے دنوں پہلے میں ہی ایسا معاملہ آیا تھا جب ایک بچے نے اپنے ہاتھ پر چرواہی کی تلاوی کر دی تھی اور اس کے والدین نے اسے مدد طلب کرنی پڑی تھی، مگر وہ بھی ناکام رہے۔
اس معاملے کو حل کرنے کے لئے فائر فائٹرز کی جانب سے مدد ملنا چاہیے اور اس بات پر غور کرنا ہونا چاہیے کہ وہ بچوں کو ہر صورتحال میں مدد پہنچائیں، خاص طور پر ان لوگوں کی مدد جس نے اپنی مدد طلب کرنے سے پہلے اس کا کوشش بھی کیا ہو۔