سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر موجود لاکھوں اونٹوں کو پاسپورٹ دی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ملک کی قیمتی اونٹوں کے ریوڑوں کا بہتر انتظام کرنا ہے۔
وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے بتایا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں پیداواری صلاحیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور اونٹوں سے متعلق ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس تیار کی جا سکے گئی۔
اس پاسپورٹ کا مقاصت یہ نہیں تھا کہ وہ اونٹوں کو اس کے دوالتوں پر پونچھ دیکھ سکیں، بلکہ وہ ان کی کارکردگی اور صحت کا احاطہ کر سکے گئے۔
دولت نے ملک میں موجود لاکھوں اونٹوں کے لیے ایسے پاسپورٹ تیار کرنے کی تجویز پر اکتفائی نہیں کی ہے، بلکہ ان کی تعداد کا احاطہ بھی کیا جا رہا ہے۔
وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے مطابق ملک میں موجود لاکھوں اونٹوں کی تعداد تقریباً 22 لاکھ ہیں، جس سے ان کے احاطے میں کچھ اضافہ بھی ہوا گا۔
یہPasport کب اور کس نے دیا؟
اونٹ صدیوں سے عرب دنیا میں نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں، جبکہ یہ جانور اپنے مالکان کے لیے وقار اور سماجی حیثیت کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔
مغرب میں یہ روایت اب تک پزیر نہیں ہوئی ہے، جہاں اپنے جانوروں کا احاطہ کرنا کھوج میں لگتا ہے۔
سعودی عرب میں ہر سال منعقد ہونے والے تہواروں کے دوران اونٹوں کے حُسن کے مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں شوقین افراد اپنے اونٹوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔
تاہم بعض بددیانت افراد غیر قانونی طریقوں سے برتری حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن اس طرح کی گہری دائمی پوزیشن کو جب تک سہولت ملائے گا وہ ہر دن سہارے لگنے والا رہے گا۔
وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے بتایا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں پیداواری صلاحیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور اونٹوں سے متعلق ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس تیار کی جا سکے گئی۔
اس پاسپورٹ کا مقاصت یہ نہیں تھا کہ وہ اونٹوں کو اس کے دوالتوں پر پونچھ دیکھ سکیں، بلکہ وہ ان کی کارکردگی اور صحت کا احاطہ کر سکے گئے۔
دولت نے ملک میں موجود لاکھوں اونٹوں کے لیے ایسے پاسپورٹ تیار کرنے کی تجویز پر اکتفائی نہیں کی ہے، بلکہ ان کی تعداد کا احاطہ بھی کیا جا رہا ہے۔
وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے مطابق ملک میں موجود لاکھوں اونٹوں کی تعداد تقریباً 22 لاکھ ہیں، جس سے ان کے احاطے میں کچھ اضافہ بھی ہوا گا۔
یہPasport کب اور کس نے دیا؟
اونٹ صدیوں سے عرب دنیا میں نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں، جبکہ یہ جانور اپنے مالکان کے لیے وقار اور سماجی حیثیت کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔
مغرب میں یہ روایت اب تک پزیر نہیں ہوئی ہے، جہاں اپنے جانوروں کا احاطہ کرنا کھوج میں لگتا ہے۔
سعودی عرب میں ہر سال منعقد ہونے والے تہواروں کے دوران اونٹوں کے حُسن کے مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں شوقین افراد اپنے اونٹوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔
تاہم بعض بددیانت افراد غیر قانونی طریقوں سے برتری حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن اس طرح کی گہری دائمی پوزیشن کو جب تک سہولت ملائے گا وہ ہر دن سہارے لگنے والا رہے گا۔