KU Syndicate Teachers | Express News

کہکشاں

Well-known member
جامعہ کراچی کی سینڈیکیشن میں چار نشستوں پر منعقدہ انتخابات کے نتائج آفیشل ہو کر سامنے آئے ہیں جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اساتذہ کی تحریک کو ڈیٹھائیسیٹ اور پریٹیگ دونوں شعبے میں برتری حاصل کرلی ہے۔

پروفیسر انیلا امبر ملک نے آزاد حیثیت سے پروفیسر کی نشست پر امیدوار کے طور پر مقابلہ کیا لیکن انہیں صرف 31 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس کا مقابلہ حارث شعیب نے کئی وضھت سے کیا لیکن ان کے مقابلے میں صرف چار ووٹ لیئے گئے۔

اسسٹنٹ پروفیسر کی نشست پر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے موجودہ صدر غفران عالم 135 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور اس طرح انہیں ٹیگ جیت سکی ہے۔ دوسری طرف ایسوسی ایٹ پروفیسر کی نشست پر محسن علی 67 ووٹ لے کر جیت گئے لیکن یہ واحد نشست ہے جو ٹیگ جیت سکی ہے۔

لیکچرر کی نشست پر شمائلہ صمد خان نے 32 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں اور ان کا مقابلہ کاشف ریاض اور نصیر اختر سے تھا لیکن ان کے مقابلے میں صرف 16 اور 12 ووٹ لیئے گئے۔
 
ارے وہ Elections ہوئیں، Senatorship me election ka netaj achi side par chal gaya hai, Prof Anila Embrey ko 31 vote milne se pehle professor ki post pe koi nahi tha, woh Professor ki place pe hi competition rahi. Harsha Sheikh bhi bahut competition me the, lekin unka koi vote na mile.

Dean Prof Ghfran Alam ko 135 vote milne se university main president banane ka maza ayega, dean ka competition Assosiate Professor Mahsun Ali ke saath tha, woh bhi ek single seat win kar gaya hai. Lekin Dean ka competition baki sab se zyada thik raha.

Lekhakar Shamilah Samad Khan ko 32 vote milne se university main vice president banane ka maza ayega, lekin woh Professor ki place pe hi competition rahi, kashf Riaz aur Naser Akitr ke saath thik competition tha. Lekin unka competition zyada thik nahi raha.
 
ایسے تو لگتا ہے جیسے اساتذہ کی تحریک کو ایک چھوٹی جھنکی کے طور پر دیکھنا تھا کہ وہ ٹیگ جیت سکتے ہیں لیکن یہ بھی واضح ہے کہ ان کی پوری جدوجہد میں کچھ معقولیت نہیں رہی ۔ 135 ووٹ لینا تو بہت کم ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسی کے مقابلے میں کوئی معقول امیدوار نہیں تھا... 😐
 
یے تو یہ بات بھی آئی ہوئی ہے کہ اساتذہ کی تحریک ایسے ہونے والے انتخابات سے ملازمین کے قریب رہ گئی ہوں گی، اور یہ کہ تمام منصوبے میں ان کے نام لگے ہوئے تھے، یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ وہاں ایسے اور بھی منصوبے بنائے جائیں گے جس سے وہ اپنی جماعت کو زیادہ مضبوط بنا سکیں، اور یہ وہ ہوگی کہ دوسری جماعتوں کی موجودگی سے انھیں کوئی فائدہ نہ milega
 
ایسے مضمون کو لکھنا تھا بہت مشکل، عموما یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیے جانے والے انتخابات میں جو لوگ سچائی اور برتری کے لیے لڑتے ہیں وہ کتنے فائدے حاصل کرلیں گے؟ یہ بات کو یہاں تک پہنچانے میں مشکل ہے کہ اساتذہ کی تحریک کو ٹیگ میں بھرپور فائدہ ہوا ہے اور ان تمام ایسی اشاعتوں پر ماضی میں توجہ دی گئی تھی جو یہ بات لگا کرتی ہے کہ اساتذہ کی تحریک کو بھرپور ترجیح دی جاتی ہے۔

اس سے ان کے منظر عام پر ایسی پوزیشنز تھیں جو ٹیگ جیتنے کا باعث بن گئیں اور اب یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس سے نتیجہ کیا ہو گا؟
 
چاہے اساتذہ کی تحریک کو یا ٹیگ جیتنے والے، یہ بات واضح ہے کہ یہ انتخابات کراچی میں حقیقی طور پر ہوئے نہیں ۔ میرا خیال ہے کہ یہ صرف ایک مقبول تھرڈ پارٹی کا معاملہ ہے جس کا مقصد ٹیگ کے حوالے سے ووٹز چلانے کا ہے، اور اس نے اپنے مقاصد کو حاصل کر لیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جو تحرک کی طرف سے ووٹز چلائی جاتی ہیں، ان میں سے اکثر اپنی پارٹی کو منافقت میں نہیں لیتے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ اساتذہ کی تحریک نے جیتا ہے لیکن کوئی بات یہ نہیں تھی کہ وہ سستائیں بھی آئیں گے؟ پروفیسر انیلا امبر کو صرف 31 ووٹ میلا تو اس کا مقابلہ حارث شعیب جیت گیا اور 67 ووٹ لے کر محسن علی نے جीतا 135 ووٹ کے ساتھ صدر غفران عالم کو جیتایا ہے یہ تو کیا دیکھنا?! 😐
 
ایسے ماحول میں اپنی بیٹی کو کالج جانے والی ہے تو اس کی جبچلی بھی انہیں یہی دیکھتی ہو گی کہ کون سے لڑاکے اپنے شعبے میں چارٹر وین پر بیٹھ کر نہیں اٹھتے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اساتذہ کو جگہ کی پیداوار کے لیے جواب دینے کا ایک مناسب طریقہ نہیں مل رہا۔
 
ایسے لگتا ہے کہ اساتذہ کی تحریک نے ٹیج جیت کر ایک بھرپور موڈ کا آغاز کیا ہوں گے اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس شعبے میں اب سے ایسے لے آئیں گے جو کہ حالات کو نظر انداز کر رہے ہیں…
 
اس معاملے پر غلطیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، چار نشستوں میں سے یہ بات کہ ساتھ دائیں اور پریٹیگی کو برتری حاصل کرلیا ہے تو لگتا ہے کہ معاونین کی تحریک کو بہت ہی کم ووٹ میں جیت لی گئی ہے، یہ ایسا نہیں لگ رہا کہ اساتذہ کی تحریک کو بہت زیادہ ووٹ میں جیت لی گئی ہے۔

آپ صدر عالم کی ٹیگ جیت سکنی نہیں دھونک رہے، آپ اپنی بھائی دوسرے کا ساتھ دیا ہوا ہو گا اور یہ بات واضح ہے کہ اس کراچی کی جامعہ میں ایسی چیٹھیوں کی پہل نہیں لگی ہے۔

آپ کچھ شخصیات کو ٹیگ جیت سکنی دھونک رہے ہیں، آپ یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ اس معاملے میں ناکاموں کی جانب بھی کچھ نظر رہا ہے۔
 
انہیانتاز کی بات ہے کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کو ٹیگ جیتنے میں کامیابی ملی، لیکن اس سے قبل اس نے صرف 67 ووٹ حاصل کیے جو بہت کم ہیں۔ یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کو ٹیگ جیتنے سے پہلے اس نے بہت کم ووٹ حاصل کیئے تو بھی انھیں یہ جीत ہوئی… ہر سال یہ بات ہم سے کہلی رہتی ہے کہ اساتذہ کی تحریک کو برتری حاصل کرنے میں مشکل کا سامنا کیا جاتا رہتا ہے، لیکن ابھی اچھی نہیں…
 
ایک بڑی بات آگے چلی گئی، اساتذہ کی تحریک کتنی اچھی ہوئی تو دیکھو، اب یہ پورے ٹیگ جیت کر کے سامنے ہیں...اس سے ہمیں ایک بات یاد رہے کہ اساتذہ کی تحریک کے اچھائیوں کو بھی اپنی جگہ دی جانی چاہئے نہ تو یہ صرف ایک بھارتیہ وٹ ہے...۔
 
ایسے میں تو یہ بہت آسان اچھا نتیجہ آیا ہے یہ بات تھی کہ اساتذہ کی تحریک ان کا فائدہ اٹھائے گا لیکن میرے لئے یہ نتیجہ کچھ واضح ہوتا ہے جو ان سارے کاموں کو کس پر برتب کر رہا ہے۔ میں سوچتا تھا کہ یہ نتیجے ان اساتذہ کی تحریک کو بڑھانے اور ان کی آواز کو سماجہ میں لانا چاہتا تھا لیکن اب جب دیکھتے ہیں تو یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ میرے خیالات کا کوئی مفید نتیجہ نہیں نکلا ہے 😐
 
سنت کی بات یہ ہے کہ اساتذہ کی تحریک نے ایسی صورتحال بنائی ہے جس سے یہ واضع ہو گیا ہے کہ اس وقت کے شعبے میں انھیں برتری حاصل کرنا چاہیے #شعبہ_میں_برتری #اساتذہکی_تحریک. پروفیسر انیلاء کو صرف 31 ووٹ ملیں، یہ بھی یقین دہانی ہے کہ ایک بار انھیں کوئی موقع ملتا ہے تو انھیں ٹگ جیتنا چاہیے #سفری_چلن۔ اساتذہ کی تحریک کو یہ بھی ادراک ہو گیا ہے کہ ٹیگ کیسے جیتا جائے، کیا انھیں کوئی مواقع مل رہے ہیں #ٹیگ_جیتنا.
 
میں خیال کرتا ہوں کہ اس انتخابات میں پوری ٹیم نے آگے بڑھنے کی لچک دیکھی ہے، واضح یہ بات ہے کہ اساتذہ کی تحریک کو ابھار کر سکا ہے اور اس نے دو شعبوں میں بھی اپنی چمک دیکھی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جماعت کی پوری طاقت ان تحریکوں کو سامنے لاتی ہے جو اس وقت نئے دور میں آ رہی ہے۔
 
یہ بات کچھ دیر سے لگ رہی ہے کہ اساتذہ کی تحریک کے حوالے سے یہ فتوحات ایسے بھی آئیں جن کا اثر دیکھنا مुशکل ہو گا! دوسری طرف، یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اساتذہ کی تحریک کے رکنوں میں بھی ایسے مٹھکے پھیل گئے ہیں جن سے یہ نتیجہ ملتا ہے کہ وہ ایسی منافقت کی وجہ سے اپنے حلف کا تجاوز کر رہے ہیں!
 
اس بات کو صریح طور پر کرنا چاہیے کہ اساتذہ کی تحریک کی جیت ایک بڑا سا فैसलہ ہے، جو اس کی طاقت اور جماعتی کی محنتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے. اس میں پریٹیگ شعبہ میں برتری حاصل کرنا ایک بڑا پیروکار ہے، اور اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ انہیں اچھی طرح پہچانا جائے گا. دوسری طرف، محسنی شعبہ میں برتری حاصل کرنے کے لیے بھی ایک عظیم کارنامہ ہے، جو اس کی طاقت کو اور جماعتی کی محنتوں کی مدد دیتا ہے. یہ ایک بڑا مہم جس میں تمام رکنیں شامل ہیں.
 
یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ اساتذہ کی تحریک کا جہاں منفی توجہ مرکوز کی جارہی ہے وہی سے بھرپور تشدد بھی کیا جا رہا ہے۔ 135 ووٹ اور 67 ووٹ ان کی جانشین بنے ہیں جو کہ تو ڈیٹھائیسیٹ اور پریٹیگی دونوں کی بہت بھرپور نمائندگی کر رہے ہیں لیکن یہ بات کچھ گناہدار ہے۔ اسکول کی پیداوار کو ہمیشہ سراہنے اور اس نئے نظام میں بھی ان سے اپنی ترجیح لینے والوں کو کچھ بھی بات نہیں۔
 
[Image of a person getting embarrassed by their own lack of votes 😂]

اس کیا نچاتا ہے؟ اساتذہ کی تحریک کو ٹیگ جیت کر دیکھتے ہیں ووٹز کی تعداد کم ہیں تو عجیب بات نہیں… [Image of a person throwing away votes by accident 🤦‍♂️]
 
واپس
Top