لیجنڈری کرکٹر ویوین رچرڈز آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ پر برس پڑے

الو

Well-known member
بنیادی کرکٹ کی زندگی میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کرکٹ کو دنیا بھر میں اپنے عروج پر لے جاتے ہیں اور اس کے لیے کامیابی کی پوزیشن کو مستحکم بناتے ہیں۔ ان کا ڈرامائی کیریئر بھی ان کے حوالے سے ایک خاص بات ہوتی ہے جو انہیں دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ ٹیموں میں شمار کرتی ہے۔

سر ویوین رچرڈز جس پوزیشن پر آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی بھارت میں عالمی کرکٹ کے لیے ایک مثالی ملک نہیں دیکھا جاسکتا اور آج اسے ہی اس طرح دیکھ رہا ہے جو خطرناک ہے۔

سر ویVEN رچرڈز نے کہا کہ بھارتی کرکٹ کا حال پہلے ایسا نہیں تھا جیسا آج ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آئی سی سی کو کرکٹ ورلڈ کپ ایسی ملکو میں منعقد کرنا چاہیے جس کی تمام ممالک بلا کسی اعتراض کے قبول کر سکیں۔

سر ویون رچرڈز نے کہا ہے کہ اگر آئی سی سی نے politics سے پاک کرنا نہیں چاہتا تو کرکٹ دو حصوں میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ بھارت میں ان ٹیمیں یہاں کھیلنے سے واقف ہو نہیں ہیں۔

سر ویون رچرڈز کو کرکٹ کی زندگی میں ایسی لوگوں کی پوزیشن میں جانا پریشان کن لگ رہا ہے جو کرکٹ کا کھیل ان سب شریک ممالکو میں ہار جاتا ہے جو politics سے پاک نہیں بنتے۔

سر ویون رچرڈز نے اور بھی زور دیا کہ کرکٹ کو ایسی ملکو میں منعقد کیا جائے جس میں تمام ممالک اپنے علاوہ ہر شریک ممالک کو اس کے ساتھ بلا کسی اعتراض کے قابل قبول ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھی پاکستان میں اپنا لگام رکھا اور کہا کہ وہ طویل عرصے سے پی ایس ایل کے لیے وہیں آ رہے ہیں جہاں کرکٹ سے سچ کی محبت ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس میں ایسی ماحولیت بنتی ہے جو مجھ کو پھر سے یہاں آتے ہوئے لے جاتے ہیں۔
 
بھارتی کرکٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے، مجھے لگتا ہے کہ کچھ لوگ انہیں دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ ٹیموں میں شمار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن سر ویون رچرڈز کی بات کا خیال ہے کہ ایسے ماحول میں کھیلنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے جہاں سیاسی اختلافات موجود ہیں۔
 
🤔 بھارت کے لیے کرکٹ کی یہ نئی ریلوے مچنے کی بات اور سر ویون رچرڈز کی ایسا خیال لگتا ہے جیسے وہ چاہتے ہیں کہ بھارت اپنی سیاسی صورتحال سے نکل کر ایک اور مقام پر آئے۔ پھر تو اگر پاکستان میں پی ایس ایل اور بنگلہ دیش میں کرکٹ بورڈ ہی کھیل رہا ہوتا تو یہ بات لگتے تھی کہ بھارت بھی ایسی صورتحال میں آ گیا ہے جس سے وہ اپنے لیے کامیاب ہو نہیں سکا۔
 
بھارتی کرکٹ کا حال اور سر ویون رچرڈز کی باتوں پر دیکھنا ایسا ہے جیسے کسی بھی پی پی شاپنگ مہم میں دیکھنے کے جگہ ایک چوری کا درجہ۔ پہلے یہ کہ کہتے ہیں بھارت میں عالمی کرکٹ کے لیے ایک مثالی ملک نہیں تھا اور آج وہ ہے جو خوفناک ہے...خوشखویص!
 
ارے ابھی تو بھارت کے کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ جیت لیا تھا تو اس پر اس چہرے پر یہ بات کیوں اٹھائی؟ سر ویون رچرڈز کو اچھی طرح سمجھ آئے گے لیکن اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ ان्हوں نے اچھی جگہ پر کیا رکھنا ہے؟
 
سرب ویون رچرڈز کی ووائس میں ایک اہم بات آ رہی ہے جس پر ہمارا توجہ مرکوز کرنا چاہیے، بھارت میں عالمی کرکٹ کے لیے آئندہ ورلڈ کپ کی میزبانی سے جڑی پریشانی اور اس نے ان کے دل کو تباہ کر دیا ہوگا۔

بھارتی کرکٹ کا حال پہلے ایسا نہیں تھا جیسا آج ہے، یہ بات سرفراز ہے اور اس پر صاف فैसलہ دیا جاتا ہے کہ کرکٹ کو ایسی ملکو میں منعقد کیا جائے جو politics سے پاک نہیں بنتا۔

اس پر سر ویون رچرڈز کی یہ بات بھی اہم ہے کہ ان ٹیمیں جس ملک میں کرکٹ منعقد ہوتی ہے وہاں سے واقف نہیں ہوتے، یہ بات بھی چالaki ہے کہ اچھی طرح سمجھ لی جائے کیونکہ اگر politics سے پاک نہیں بنتی تو کرکٹ دو حصوں میں تقسیم ہوسکتی ہے۔
 
بھارتی کرکٹ ٹیم کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں اپنی سست پشتی پر آجاز مانی جانا پڑے گا، ایسا ہونے میں اس وقت کو ہم بھاگتے ہیں۔ سر ویون رچرڈز کی بات سے اس بات کا یقین کرنا مشکل ہوگا کہ اس کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کو دوسری ٹیموں کے سامنے ایسا مقابلہ دینا پڑے گا جیسا آج نہیں دیکھا گیا، ہمارے لئے یہ ایک اچھا سے براہ راست مواقع کی فراہمی کرتا ہے۔
 
عجीब نہیں کہ سر ویون رچرڈز کرکٹ کو ایسی پوزیشن میں جانا پریشان کن لگ رہا ہے جو ہم سب کی محبت ہے! انہوں نے بھی بتایا ہے کہ کرکٹ کو ایسی ملکو میں منعقد کیا جانا چاہیے جس میں تمام ممالک اپنے علاوہ ہر شریک ممالک کو اس کے ساتھ بلا کسی اعتراض کے قابل قبول ہو۔ مجھے یہ بات بھی اچھی لگ رہی ہے کہ وہ پاکستان میں لگام رکھنے والے پی ایس ایل ٹیمیں ایسی ہیں جو مجھے بھی دل سے بھرتی ہیں!
 
ایسا نہیں سمجھ سکتا کہ اچھا بھارت کیسے کرکٹ کی دنیا میں رہا۔ سر ویون رچرڈز کو یہ بات بہت پریشان لگ رہی ہے تاکہ وہ کرکٹ کے لیے politics سے پاک رہے اور اس کا حقدار رہے۔ ایسی ماحولیت بننی چاہئی جس میں تمام ممالک کو سب کے ساتھ بلا کسی اعتراض قبول ہو۔
 
بھارتی کرکٹ کا حال اور اس کے بھیال میں ایسی تبدیلیوں کی بات اور سر ویون رچرڈز کے خیالات سے میرا خیال یہ ہے کہ اس کا پہلوا کیریئر دیکھتے ہی نا بھوہو اور ڈرامائی تھا؟ آج بھی وہ ایسی صورتحال میں ہیں جس سے ان کی زندگی میڹنجہ پریشان ہوئی ہے.

اس کے علاوہ اس بات پر زور دیا کہ کرکٹ کو ایسی ملکو میں منعقد کیا جانا چاہیے جس کی تمام ممالک بھرے سے آدھر لگتے ہیں اور اس کے لیے کوئیPolitics پر مبنی اعتراض نہیں رکھتے.

اس میں 2019 و ورلڈ کرکٹ کی تیز رفتار گिरنے میں بھی ایسی تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں جس سے میرا خیال یہ ہے کہ پچاس لاکھ سے زائد افراد کو انٹرنیٹ پر شائع کرنا اور اس میں سے دیکھا جوڈاہوا دیکھتے ہوئے بھی ایسی سر و پہچانی ملتی ہے کہ جس کی واضح وجہ نہیں پاتی.

اس وقت ہر شریک ممالک میں کرکٹ کے شائقین کی تعداد زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے حوالے ایسی اچھی ماحولیت ہو رہی ہے کہ جس میں ہر شریک ممالک کو بھی کرکٹ کی دنیا میں ایسی اپنی صلاحیت دیکھنا پڑے گی.
 
سر ویون رچرڈز نے کہا کہ بھارتی کرکٹ کو کامیابی دلانا ایسی گیم بھی ہے جو انہیں بھی فاتح بناتی ہے …🤣
 
مرئی کچھ ہو رہا ہے کرکٹ پر اس ٹورنامنٹ سے پہلے اور اس کے بعد کی کیا پانے والا نتیجہ ہو گا؟ ان میں بھی ایسا ایک ممالک سے بات کرنا ہے جو اپنے سیاسی حالات سے پاک ہونے پر یقین کرتا ہے لेकن یہاں کسی کوPolitics کا منظر نہیں دکھائی دے سکا۔ مجھے یہ سوچنے پر اور ایک پریشان کن بات ہے، اس ٹورنامنٹ میں شامل ممالک کیسے ایسا بنتے ہیں جو Politics سے پاک ہو جائیں؟
 
سر ویون رچرڈز کی وضاحت پر میرا خیال ہے کہ بھارت نے کرکٹ میں ایسی تبدیلی کروائی ہے جس سے ٹیموں کو کامیابی حاصل ہوسکتی ہے لیکن اس پوزیشن پر آتے ہیں انہیں یقین نہیں کہ بھارت کرکٹ کی زندگی میں ایسا کردار ادا کرسکتا ہے جس سے دنیا بھر میں اسے اپنا عروج لینے میں مدد مل سکتی ہے? :s
 
یہاں تک کہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کرکٹ کو دنیا بھر میں اپنے عروج پر لاتے ہیں، اور ان کی پوزیشن کا اس پر زور لگتا ہے کہ وہ کبھی کسی بھی ملک میں کرکٹ کو ہارنا نہ دیکھ سکیں۔ سر ویوین رچرڈز کی بات سے یہ بات نکلتی ہے کہ بھارت میں کرکٹ کی زندگی حالات اچھی نہیں ہیں، اور وہ اس طرح کے ملکوں میں منعقد کرنا چاہتے ہیں جس میں تمام ممالک بلا کوئی اعتراض قبول کریں۔ یہ بات بھی توپ میں پڑ رہی ہے کہ وہ کرکٹ کی زندگی میں ایسی لوگ نہیں ہوتے جو اس کے لیے ہار جاتے ہیں۔ اور اب یہ بات بھی توپ پڑ رہی ہے کہ ان کی پوزیشن میں جانا کرکٹ کی زندگی کو خطرناک بنا دیتا ہے!
 
تمام کرکٹ کپ میں بھارت کو دھماکہ دیا گیا تو ایسے نہیں ہوا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ ٹیموں میں شمار نہیں ہو جائیں۔ اب آج کرکٹ کو دنیا بھر میں اپنے عروج پر لے رہا ہے اور اس کے لیے کامیابی کی پوزیشن مستحکم ہو گئی ہے۔

اس کا شکر یہی کہ بھارت میں ایک بار پھر کرکٹ کا دھماکہ دیا گیا اور اس نے دنیا کو دیکھنا تھوڑا اچھا لگا کہ ہمیں اپنے ملک کی یہی صلاحیت بھی جاننی چاہئیے۔

ایسے میچ کے نتیجے کا مقصد یہی کہ دنیا کو دیکھنا اور اسے ڈرامائی کیریئر پر لے کر دکھانا۔

اس سے پہلے بھی بھارت میں کرکٹ ایسا ہی تھا جو اب کھیلنے والی ٹیمیں اس میں آئی نہیں کی جا سکتیں۔

آج اسے اور politics سے پاک رکھنا پوری دنیا میں ہوگا تو کرکٹ دو حصوں میں تقسیم ہوسکی گی۔

اس سے پہلے بھی کرکٹ کا دھماکہ دیا گیا اور اس کے نتیجے کا مقصد یہی کہ دنیا کو دیکھنا اور اسے ڈرامائی کیریئر پر لے کر دکھانا۔

دنیا میں کسی بھی ملک کے لیے ایسا ہی کھیل ہونا چاہیے جو اس کی صلاحیتوں کے مطابق ہو اور اس سے سچ کی محبت لگ جائے۔
 
سرفراز، سر ویون رچرڈز کی بات کا معینہ نہیں کہیں بتایا گئے تو یہ ایک ایسی بات ہے جو میرے لئے بھی پریشان کن لگ رہی ہے۔ آج کرکٹ کھیل میں ایسے شریک ممالکو کی شرکت نہیں دیکھنی چاہیے جس کو politics سے وابستہ لینا پڑتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کرکٹ ایک اچھیSport ہے جو تمام ممالک کو ایک ساتھ لانے کی جگہ دیتا ہے، لیکن Politics ایسی بات نہیں ہے جو اس میں رونق آنے سے روکتی ہو۔
 
بنیادی طور پر یہ بات بہت اچھی ہے کہ سر ویون رچرڈز نے کرکٹ کی زندگی میں اس کی پوزیشن کو دیکھا ہو اور کہا ہے کہ یہ خطرناک ہے۔ لگتا ہے وہ ایسی ملکو میں کرکٹ ورلڈ کپ منعقد کرنا چاہیں جس میں سب تمام ممالک اپنے علاوہ بھی اس کو قبول کر سکیں۔ یہ ایک اچھا تجربہ ہوگا جب کرکٹ کو ایسی ملکو میں منعقد کیا جائے جو politics سے پاک نہیں۔
 
"خواہش کی گاہ میں دل کا راستہ نہیں ہوتا، تاہم اگر اس راستے پر قدم رکھو تو سچ کے نتیجے پائو گے" 🙏
 
واپس
Top