سنھالی گلاسٹری میں ایک ہر کوٹ میں سے ایک، گل پلازہ کی عمارت کا اپروول پلان نہ ملنے پر انسداد قانونی ریوائز پلان جاری ہوا ہے، جہاں اصل مالک بھی لاپتہ ہے اور پرانے عمارت کے باقیہ حصے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس عمارت میں اس وقت تک نہیں ساتھ لینڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کا نیو سی ہوا ہے جبکہ عمارت کی بنیاد رکھنے والے شہر کا ایک حصہ کو چھت پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
غیر قانونی طور پر گل پلازہ کو 2005 میں کمپلیشن سsertیفکیٹ دے دیا گیا تھا جس کی بنیاد پرانے عمارت کے اپروول پلان کے بغیر رکھی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اس کو غیر قانونی طور پر ریوائز سٹیٹس مینٹ دیکھا گیا ہے۔
گل پلازہ عمارت کا اپروول پلان 1980 میں بنایا گیا تھا لیکن اسے حال ہی میں نہ مل سکا ہے، جبکہ عمارت کو ریوائز پلان کی اجازت دینی کی ضرورت پائی گئی ہے۔ اس عمارت کا پلاٹ 8 ہزار 128 اسکوائر یارڈ پر مشتمل ہے جس کی بنیاد 32، پریڈی کوارٹر کراچی پر رکھی گئی تھی لیکن اصل مالک کا نہیں اور ورثا کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
عمارت کی بنیاد رکھنے والے سابق ایس بی سی اے افسانوں نے عمارت میں راستوں پر اضافی دکانوں کی تعمیر پر آنکھیں بند کر دی ہیں جب کہ غیر قانونی طور پر بیسنٹ میں پارکنگ کی جگہ کو چھت پر منتقل کیا گیا ہے۔
اس عمارت میں لگنے والی آگ کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہو گئی ہے، جب کہ 85 تاحال لاپتہ ہیں۔
ایسا نہیں کہے یہ گل پلازہ عمارت کو ریوائز پلان میں شامل کرنا چاہئے، اس وقت تک ایسا نہیں کہ پرانے اور نئے حصوں میں ساتھ لینڈ اتھارٹی ہو جبکہ نئی عمارت کی بنیاد رکھنے والے شخص کو پہچانا نہیں جا سکتا، یہاں تک کہ اصل مالک کا نہیں اور ورثا کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہو جاتے تو اس پر کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہئے
اس گل پلازہ عمارت کو یہاں تک کہیں بھی نہ ملنا ایک بڑا پریشانی ہے، اور اس پر جاری ریوائز پلان تو بالکل عجیب ہے۔ یہ عمارت ابھی بھی لاپتہ مالک کے پاس ہے اور ان کا کوئی وارس نہیں ہے، لیکن اس پر ایسی صورتحال کی ضرورت پائی گئی ہے جو یقیناً کوئی اچھی بات نہیں ہوگی۔ عمارت میں جس نئی سیکیورٹی کا نیو سی لگایا گیا ہے وہ بھی ایک اچھی بات نہیڹی؟ اور اس پر چھت پر منتقل کردیا گیا عمارت کی ایک جگہ سے باقی حصے کو کیسے منتقلی کر دیا گیا ہے اس پر بھی کچھ بات نہیں ہو سکتی۔ اور غالباً یہ سب ایک ایسا معاملہ ہے جہاں قانون کے مطابق کوئی کام نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس پر ایک بھرپور مظالم کا پتہ چل رہا ہے۔
کیا یہ آپ کی بات نہیں تھی کہ گل پلازہ عمارت میں لگنے والی آگ کے بعد کیا کیا ہو رہا ہے؟ 27 افراد بحق اور بھی 85 لاپتہ، آپ کی نظر میں یہ سارے مظالم حل ہونے چاہیئے
اس گل پلازہ کی عمارت کو اپروول پلان نہ ملنا ایک بڑا معاملہ ہے، یہاں کھل کر بتایا جانا چاہیے کہ اچھی طرح سے منصوبہ بنایا گیا تو نہیں!
اس عمارت پر 1980 میں اپروول پلان بناتے Samjho to nahi hua, ab toh wajah kyun? اور انسداد قانونی ریوائز پلان jari hai, yeh toh galat faisle ki gai hai!
اس عمارت کا مالک lagega bhi na hai, aur waqt ke saath to fir se problem aa rahi hai! Aur kya baat hai, gharelu logon ko apne ghar ka plan banane ki zarurat nahi hai?
اس عمارت ko chunauti ki zindagi ki zarurat hai, kuchh sahi plan banana padega!
یہ یہاں تو کچھ بھی نہیں ہوتا، ایک دوسرے کے پاس مل کر کام کیا جائے تو نہیں؟ گل پلازہ عمارت کی صورت حال بھی اس طرح ہے جیسا کہ یہ بنایا گیا تھا، صرف ایک problem ہی ہے کہ کس سے مل کر حل کیا جائےga? عمارت کی بنیاد رکھنے والوں نے دوسروں پر بھار دالا، اب وہاں کا مالک پریشانیوں میں ڈوبناپھر دیکھ رہا ہے۔ اور اب یہ سڑک کی ساتھ لینے والی نئی حکومت اپنی پہلی جگہ بن گئی ہے!
گل پلازہ عمارت کو ریوائز پلان کی ضرورت پائی گئی ہے۔ یہاں کھانا پکایا جانا نہیں چاہیے۔ ساتھ لینڈ اتھارٹی اور دیگر اداروں کی نویسی بھی ضروری ہے۔ عمارت میں چھت پر رکھی جانے والے ایس پی اے کا مسئلہ، میرا خیال ہے یہی ہے جس کی وجہ سے انسانوں کو اس عمارت میں جانے سے منع کرنا پڑ رہا ہے۔
عجیز یہ عمارت ایسے نہیں بننے دے گیا جیسا اس کی بنیاد رکھنے والا چاہتا تھا... اپرویل پلان سے ہٹ جانے پر ایسا ہی ہوا ... اس عمارت میں نئے سی ہونے کے بعد بھی وہی پابندیاں جاری ہیں جو قبل سے تھیں... عمارت کو تبدیل کرنا ہمارے لیے ایک اچھا مौकہ ہوگا۔
ایسا لگتا ہے کہ اس عمارت کو تبدیل کرنا ایک معقلی problema ہے، لاکھوں روپئے میں لگا رہا ہے اور یہ اب بھی ساتھ لینڈ اتھارٹی کا نیو سی نہیں مل پائے ہیں، ایسا تو توہین عامProperty Rights پر چل رہی ہے جبکہ عمارت کی بنیاد رکھنے والے شخص کو لاپتہ کیا گیا ہو گا؟ اور ان لوگوں کو بھی کیسے ناکام قرار دیا جائے گا جو اس عمارت میں راستوں پر اضافی دکانوں کی تعمیر کر رہے تھے? ہمیں یہ بات یقینی بنانے کے لئے کام کرنا چاہیے کہ عمارت کی بنیاد رکھنے والے شخص کو بھی یوں ناکام قرار نہ دیا جائے؟
ایسا میرے لیے بھی چپکچا ہے کہ گل پلازہ کی عمارت میں ایسا نہ مل سکا ہے؟ یہ عمارتیں کتنے سالوں سے رکھی جا رہی ہیں، اور اب اس پر اپروول پلان ملنے پر انسداد قانونی ریوائز پلان جاری ہو گیا ہے؟ یہ بھی نائٹmarک کی توہین کے ساتھ ہوئی ہے، جبکہ عمارت کی بنیاد رکھنے والے لوگوں کو چھت پر منتقل کر دیا گیا ہے؟ اس کے علاوہ لگنے والی آگ میں 85 افراد لاپتہ ہیں، یہ تو میرے جھنکے کی بات ہے!
ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ گل پلازہ کی عمارت میں کچھ خرابیوں کا شکار ہو گیا ہے اور وہاں ایک آگ لگی جس سے لوگوں کو لاپتہ ملنے والی عمارتیں بنانے کی اور اس طرح کے ڈھांचوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت پائی گئی ہو۔
لیکن، یہ بات بھی سچ ہے کہ گل پلازہ کی عمارت میں ایک نیا ہر کوٹ بننا مشکل ہے، خاص طور پر جب اس وقت تک نہیں ملتا کہ اس شہر میں ساتھ لینڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی نیو سی ہو جائے اور عمارت کی بنیاد رکھنے والے لوگوں کو اپنی وجوہات پیش کرنے کی کوشش کرنا پڑے۔
میں ایسا سمجھتا ہوں کہ عمارتیں بنانے سے پہلے لوگوں کو اپنی جگہ اور عمارت کی تاریخ کو سمجھنا چاہیے، تاکہ وہ اپنے ڈیزائن میں ان کا احترام کر سکیں اور اس طرح ایک نئی عمارتیں بنانے کے لیے بہتر وہاں جگہ تلاش کریں۔
یہ واضح ہے کہ انسداد قانونی ریوائز پلان سے ہر کوٹ میں سے ایک کو نقصان پہنچنا نہیں چاہئیے، جب کہ عمارت کی بنیاد رکھنے والے شہر کا ایک حصہ چھت پر منتقل کر دیا گیا ہے تو یہ کیسے تاکف کیا گا؟ اور غلطی سے 2005 میں کمپلیشن سsertیفکیٹ دیا گیا، اس کے نتیجے میں ایسا پتا چلا ہے جبکہ غیر قانونی طور پر ریوائز سٹیٹس مینٹ کیا گیا ہے؟