گل پلازہ: راکھ کے ڈھیر سے سوالات کی چنگاریاں | Express News

پھول عاشق

Well-known member
گل پلازہ میں آگ لگی تو وہ راکھ تھی جو آج بھی تھی، جو 40 انسانوں کی جان سے کچل کر سانس لے رہی تھی۔ اس نے ایک منظر پیش کیا جس سے تمام پاکستان میں دھاوا بنایا۔ اس نے پگھلنے والے 40 انسانوں کی شناخت ختم کر دی۔

اس راکھ نے لاپتا لوگوں کے معاشرے پر بھی دباؤ کیا اور ان کا Sinnat، معاشرت اور مستقبل کو تباہ کیا ہوا دیکھنا پڑا ۔ 40 انسانوں کی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ ایسے مظالم کی بھرپور رکاوٹ یہ نہیں ہوئی، جو کہ اپنے ڈھیر سے آتی ہیں۔ ان کی چیختی چنگاریں اور سوالات کی پھرمیوں نے بڑا تباہ کن اثر ڈالا۔

ان کے سوالات نے لوگوں کو بھاگتے ہوئے، گھروں میں رکھتے ہوئے اور مظلوموں کی جان کی طرف دیکھا۔ وہی کہا، یہ راکھ نہیں حادثہ تھا، بلکہ غفلت، دباؤ اور معاشی ہنگامی صورتحال کا نتیجہ۔ ان کی چیختی چالوں نے لوگوں کو سوالات سے بھرپور طور پر جھگڑنے پر مجبور کر دیا اور ان کے دل میں ایک ایسا سوال پیدا ہوا کہ کیا اس راکھ سے اٹھنے والی سوالات کی چنگاریں جلد بجھ جائیں گی؟

ان کے سوالات نے عمارتوں کو بھی تباہ کر دیا، جہاں قانون نہیں پڑتا۔ ان کے سوتے ہوئے سوال نے لوگوں کو اپنے جواب دہی اور معاشرتی انصاف کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور کر دیا۔

اس راکھ نے بے شمار سوالات کی چنگاریں اٹھائیں، جس سے پوری پاکستان میں دھاوا بن گئا۔ اس نے لاپتا لوگوں کو اپنے معاشرے کے مستقبل سے منسلک کر دیا اور ان کی جان کو خطرہ میں ڈالا۔ اس نے یہ حقیقت سامنے لگائی کہ قانون کاغذ پر ہے مگر عمل میں نہیں، جہاں جان کی قیمت کم سمجھی جاتی ہے اور عمارتوں کو بھی ٹال کر مٹھی گرم کردیا جاتا ہے۔
 
ایسے نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ ایک دوسرے پر دباؤ کرنے لگ ہوں، اس سے معاشرے میں بھڑक پڑتی ہی اور وہ لوٹپOT ہو جاتا ہے! وہاں پر دیکھو یہ کس طرح 40 انسان کی جان سے لے رہے تھے، اس سے پوری پاکستان میڰچھل اٹھی۔ ان لوگوں کو یقین دلائی جا سکتا ہے کہ یہ ایک حادثہ نہیں بلکہ غفلت کی وجہ سے بڑھی گئی دباؤ اور معاشی ہنگامی صورتحال نے اس راستے پر لے جانا تھا!
 
[عربي] 😱🚨 40 انسانوں کی جان سے کچل کر سنANS لی رہی تھی اور پوری پاکستان میں دھاوا بنایا... 🤯
 
یہ دیکھتے ہوئے کیوں نہ یہ کہنے کی تاخطہ نہیں کرے؟ ان 40 انسانوں کی جانوں پر غور करو اور انہیں کیسے ذمہ داری سے بھر دی جائے گی؟ یہ سوالات ایسے ہی ہیں جو لوگوں کو تباہ کرنے کی پھرمیوں سے لاری مچا رہی ہیں۔ انہیں ایک بار پھر ہم ایسے معاشرے کے مستقبل کو نظر انداز نہ کریں جو لوگوں کی جان اور معاشی استحالتیں پر بنتا ہے۔
 
🚨اس پریشانی سے نکلنا مشکل ہے جو انhum کے لئے آرہی ہے یہ تو حقیقت ہے کہ لوگ دھونڈتے رہتے ہیں جو مٹھی گرم ہو جائے وہی کم کر لیا جاتا ہے حالانکہ پوری چیختی چالوں کو دیکھنا پسند نہیں کیونکہ ان کا جواب ملنے پر کتنا مہنگا اور بھارپور وقت لگتا ہے!
 
اس راکھ کو دیکھتے ہوئے، میرا سوалہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس معاشی ہنگامی صورتحال میں اٹھنے کی کوئی پلیٹ فارم نہیں بنائے، جو لوگوں کو بھاگتے ہوئے، گھروں میں رکھتے ہوئے اور مظلوموں کی جان کی طرف دیکھاتا تھا۔ اس نے کسی ایسی پالیسی یا حل کو پیش کیا جو لوگوں کو اس معاشی ہنگامی صورتحال سے اٹھنے میں مدد فراہم کر سکے اور ان کی زندگی کو بچاسکے۔ اس نے کسی بھی ایسی رہنمائی یا پالیسی پر فہرست نہیں کی جو لوگوں کو معاشرے کے مستقبل میں Hope dilaske 🌟
 
اس گل پلازہ کی واقعیت کچھ نہ کچھ یہی ہے، اس طرح کی دھمپ اور سوالات سے انسان کو بے گناہ سمجھ کر بدترین حالات میں لانا ایک بڑا crime ہے۔

اس کے بعد لوگ اپنے معاشرے کا مستقبل جانتے ہوئے کیسے نکل سکتے ہیں اور اس سے بچ سکیں؟
 
اس حادثے سے پہلے کچھ لوگ اس راکھ کی جانب دیکھتے تھے، لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس نے اپنی منظر پیش سے تمام پاکستان میں دھاوا ہی نہیں بھرایا بلکہ لوگوں کی جان کو خطرہ میں ڈالا۔ اس نے کچھ لوگوں کو گھروں میں رکھتے ہوئے اور مظلوموں کی جان کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا، جس سے انہیں اپنی جان کی بچائی کے لیے جدوجہد کرنا پڑا.
 
اس روایتی دھمکاوے کے بعد میں توجہ دلانے کی اہمیت سے محروم نہیں ہو سکتے۔ یہ معاشرے کا ایک انتہائی مضر طریقہ ہے جس سے پوری ملک میں دھومری لہرے لگ رہی ہیں۔

اس نئی روایات کی وجہ سے اس وقت یہ بات سمجھنی مشکل ہو گئی ہے کہ قانون کتنا ہی اہم ہے، ایسا کہ لوگوں کو کسی بھی معاشی ہنگامی صورتحال میں بھی اپنی جان کی محفوظی کا احساس کرنا پڑ سکے۔ اور اس طرح یہ معاشرے پر مضر اثر پڑ رہا ہے۔

ہمیشہ لوگ سوچتے ہیں کہ دھمکیاں لگائے بے حدیث ہوتی ہیں، لیکن اس حقیقت کو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ معاشرے میں اچھائی اور برائی دونوں کی پرت و شاندار نما لگتی ہیں۔
 
**[دکھاؤ : ایک پگھلنے والا انسان]**
اس راکھ نے کیا بھرپور اثر رکھا ہو گیا تھا، اس کی چیختی چنگاریں اور سوالات نے لوگوں کو بھاگتے ہوئے گھروں میں رکھتے ہوئے، مظلوموں کی جان کی طرف دیکھا اور ان کے دل میں ایسے سوال پیدا کیے تھے جو کوئی بھرپور طور پر نہیں سچٹا۔ اس نے عمارتوں کو بھی ٹالا دیا ہو گیا تھا، جہاں قانون کاغذ پر ہی تھا لیکن عمل میں نہیں تھا۔

**[دکھاؤ : ایک سوالات کی چنگاری]**
اس راکھ نے اپنی چیختی چالوں سے لوگوں کو سوالات سے بھرپور طور پر جھگڑنے پر مجبور کر دیا تھا اور ان کے دل میں ایسا سوال پیدا ہوا تھا کہ کیا اس راکھ سے اٹھنے والی سوالات کی چنگاریں جلد بجھ جائیں گی?

**[دکھاؤ : ایک جواب دہا Mann]**
اس راکھ نے بے شمار سوالات کی چنگاریں اٹھائیں تھیں، جس سے پوری پاکستان میں دھاوا بن گیا تھا۔ اس نے لاپتا لوگوں کو اپنے معاشرے کے مستقبل سے منسلک کر دیا اور ان کی جان کو خطرہ میں ڈالا تھا۔
 
اس راکھ سے بھاگنا تو آسان ہے لیکن اس کے سوالات سے پھنسنے میں کام ہے? وہ چالوں نے لوگوں کو ایسا دیکھنے پر مجبور کیا ہے جو کہ اپنی جان جنت میں کچل کر سانس لیتے ہیں. لاپتے لوگ یہی نہیں پوچھتے کہ انہیں اس صورت حال سے کیسے نجات ملے گی؟ بلکہ وہ صرف سوالات کی چنگاریں اٹھا کر پہلی طور پر انہیں دھمکی دی جاتی ہے. عمارتوں کو بھی ٹال کر مٹھی گرم کردیا جا رہا ہے? وہی کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہے تھے؟ یہ راکھ کی بھرپور چال ہے!
 
اس راکھ کی چلن کا ایسا تباہ کن اثر ہوا ہے جو پوری دuniya کو دیکھنا پڑا، وہ چالوں سے اپنی جان کا استعمال کر رہی تھی اور لوگوں کی جذبات کو بھی ہلکے میں کیا جارہا تھا! پگھلنے والے 40 انسانوں کی شناخت ختم کر دی، یہ نہیں، ان لوگوں کا احترام کیا گیا؟

انہوں نے معاشرے کو تباہ کرنے کی لالچی میں پھنس رہی تھی، وہ سوالات کی چنگاریں اٹھائیں جس سے لوگوڰ کو دھاوا بنایا، وہ ان کے دل میں ایک ایسی چھپنا لگائی جو اس وقت تک ہلا کر نہیں سکتی تھی۔

اس کی چالوں سے پوری دuniya متاثر ہوئی، ان کے سوالات نے عمارتوں کو بھی ٹال دیا اور لوگوں کو اپنے جواب دہی پر مجبور کر دیا اور معاشرتی انصاف کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے یہ حقیقت سامنے لگائی کہ قانون صرف کاغذ پر ہی جھOMٹا ہوتا ہے، اور عمارتوں کو ٹال کر مٹھی گرم کردیا جاتا ہے، یہ ان کے لئے ایک نئی دنیا ہے! 😱
 
ایسے راکھوں کے لئے کبھی پھر بھی ایک منظر پیش کی ضرورت نہیں، وہ بھی اپنے معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں اور 40 انسانوں کی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ اس سے کہا جاسکتا ہے کہ قانون تو موجود ہے لیکن اسے ڈھیر سے آتا ہے اور وہ لوگ جو کاغذ پر نہیں، ان کو نافذ کرنے کی لگاتار کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا معاشی ہنگامی صورتحال سے بھی کوئی سلاپ نہیں۔ 🚨
 
یہ تو اچھی طرح سے سمجھنے کی بات ہے کہ اس گل پلازہ کے حادثے کے پیچھے کیا کھیل رہا تھا? یہ راکھ نے اپنی چیختی چالوں اور سوالات کی پھرمیوں سے لوگوں کو دھچکا دیا ہے اور اب تو لوگ ایسے سوالات کرتے ہوئے بھاگتے ہیں جیسے ان کی جان کے لیے کچھ نہ کچھ کرانا پڑے۔

اس میں کوئی غلطی نہیں ہوسکتی، یہ راکھ نے 40 انسانوں کی جان لینے سے قبل اسے اپنی طرف مائل کیا تھا اور پھر ان کی لاشوں کی شناخت ختم کر دی۔ ایسا کرتے ہوئے وہ لوگوں کو دھچکا ڈالتا گیا اور اب اس کے سوالات نے بھی تباہ کن اثر ڈالاہے۔
 
یہ تھا ایک حقیقت کا مظاہرہ، یہ دیکھنا پڑا ہو گا کہ آج بھی وہ لوگ 40 انسانوں کی جان سے بھوک رہے ہیں؟ ان لوگوں کو وہاں جان دے دیا جائے گا جو اس کا سامنا کرنے والے ہوں، یا پھر ان کی بات سنی لی جا رہی ہے؟ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے آگ لگا دی تھی اس پر جواب دینے میں آج تک کیوں دیر کر رہے ہیں؟
 
اس واقعے سے لگتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے معاشرے کو اس طرح کی ایک وادی میں لانے والی چلچلت جبکہ تباہ کر دیا ہو گا جہاں 40 انسانوں کی جان سے کچل کر مٹھی گرم کردیا جا رہا ہو۔ اس پر اور اس سے قبل کی حقیقت کے بارے میں کہتے ہوئے بھی اس کا جواب نہیں ہے، مگر ایسا دیکھنا مشکل ہے کہ وہ لوگ اپنے معاشرے میں یہ بات جانتے ہوں یا نہیں۔
 
اس راکھ کے سوا یہ سارے لوگ کہتے رہے تھے جو ابھی بھی دیکھ رہے ہیں وہ سب جھوٹے چلے آئے تھے اور ان کی بات کا کوئی معنی نہیں، پھر یہ سوالات تھے جو لوگوں پر دباؤ کر رہے ہیں اور وہ سب پوری پاکستان میں دھاوا بن گئے ہیں مگر جس وقت ان کے سوالات ختم کیے Jayeenge to ye sab dhoondhne lagegi 🤔
 
یہ دیکھنا کہ گل پلازہ میں سے ایک راکھ نے پاکستان کی زندگی تباہ کر دی، اس بات کو سمجھنا مشکل ہوگا کہ یہ واقعہ کیسے آیا اور اس پر پورا ملک دھاوا بن گیا۔ میری خیال میں، اس نے لوگوڤ کو ایسا محسوس کیا جیسے وہ اپنی زندگیوں کی کامیابیوں سے ہٹ کر پھر رہنے والی چیختی چالوں کو سمجھ لیتے۔

اس نے لوگوڈے دل میں ایک سوال پیدا کیا جس سے ان کی زندگی ہٹ گئی، یہ سوال تھا کہ پوری زندگی اس راکھ نے ساتھ لے رکھی اور اب وہ یہ سمجھنا کس وقت تک مشکل ہوگا کہ کیوں ان چالوں نے ان کی زندگی تباہ کر دی؟
 
اس راکھ نے ایسا دھماکہ لگایا جو دیکھنا پڑا کہ اس کی وجہ کے بارے میں لوگوں کو اچانک سوالات تھوڑے بھی ہی پوچھنے دیں! اس نے لاپتہ لوگ کو ایسا دھکا دیا کہ وہ اپنے معاشرے کے مستقبل کو اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ سوالات چھپنا نہیں پائینگی!

اس راکھ نے لاپتہ لوگوں کو اپنی جانوں کی قیمت سمجھانے میں کامیاب ہوئی، ان کا معاشرہ اب ایسی ہالٹ پر پڑ گیا ہے جس سے لوگ آٹھ سونے کے لئے نہیں گزرتے!

اس راکھ کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ اس کے سوالات نے پاکستان کا ایک بڑا حصہ وار کر دیا ہوگا!
 
🚨 اس راکھ کا عمل تھا اچھی نہیں، وہ لوگوں کو ایسا محسوس کرسکتی جو کہ ان کی زندگی سے ہلچل بنایا۔ اس نے پوری پاکستان میں دھاوا لگا دیا اور لوگوں کو اپنے معاشرے کے مستقبل کی طرف دیکھنا پڑا۔ وہ ایسے 40 انسانوں نے جو کہ وہ جلد سے جتھے بھی گئے ان کو پگھلنے والے کے طور پر اپنا پیغام دیتا رہا، اس طرح لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ اپنی زندگیوں کی قیمت کم سمجھ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو کہ اچھے نہیں ہوئے ان کو بھی یہ نتیجہ دیتا تھا جس سے معاشرے پر دباؤ پڑتا ہے۔ اس روپ کے ساتھ وہ لوگ جو کہ معاشی مٹھی گرم کردے رہے ان کو بھی اپنی زندگیوں کی قیمت کم سمجھنا پڑا۔
 
واپس
Top