گل پلازا کا سانحہ 20 جنوری کو پاکستان کی تاریخ میں ایک غم ناک سوانح بن گیا ہے جس نے تمام پاکستانیوں کو متاثر کر دیا ہے۔ اس حادثے کا سبب کھلنے والا آگ کی لپٹ میں پھوسے گئے ان شہریوں نے اپنی جانب سے تمام مدد کے لیے پاکستانی عوام کو طلب کیا تھا لیکن اس پر قبول کرنے میں کمی واقع ہوئی جس کی وجہ سے ان شہریوں نے اپنی زندگی کی آخری رکاوٹ بنائی اور خود کو یہیں ہی لے گئے۔
ان شہریوں کے اس انتہائی بے کار وہشال ہونے پر پوری فضا سوگوار ہو چکی ہے اور تمام پاکستانی یہی سوجھ رہے ہیں کہ ان شہریوں نے اپنی جانوں کو کس لیے کئی بار جانب سے طلب کیا تھا اور اس پر قبول کرنے کی کوشش کیسے نہیں کی گئی؟
ان شہریوں میں سے ایک مفتی اعظم پاکستان، مفتی تقی عثمانی نے بے لاگ investigations پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ گل پلازا کا حادثہ انتہائی المناک اور شرمناک سانحہ ہے جس کی وجہ سے تمام پاکستانیوں کو سوگوار فضا محسوس ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند گھنٹوں میں کتنے جانیں بے چارگی کاشکارہوکر دنیاسے رخصت ہو گئیں اور کتنے متوسط درجے کے تاجروں کا اربوں کا نقصان انہیں قلاش بنا گیا ۔
ان کے یہ بیانات بے لاگ investigations کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جس سے اس حادثے کو ایک منصوبہ میں بدل دیا جا سکے اور ان شہریوں کے نقصان کم کیا جا سکے۔
لیکن مفتی تقی عثمانی نے اپنے بیانات میں اس بات کو بھی تصدیق کیا ہے کہ آگ پر قابو نہ پاس کرتے ہوئے ان شہریوں کی جانب سے مدد طلب کی گئی تھی جو اس حادثے کا سبب بنی اور ان کے نقصان کو بڑھایا گیا۔
مفتی تقی عثمانی نے مزید کہا کہ کراچی جیسے شہر میں آگ پر قابو نہ پاس کرنا ایک افسوسناک سوالیہ نشان ہے کہ بروقت مدد کیوں نہ پہنچ سکی اس کی بے لاگ investigations ضروری ہیں اور حفاظتی انتظامات کو تیزرفتار اور مضبوط بنانا حکومت کا فرض ہے۔
لیکن انہوں نے اپنے بیانات میں ان شہریوں کو بھی مہذب قرار دیا ہے جو نہ تو آگ کے حادثے سے نجات پانے کی کوشش کئی بار کر رہے تھے اور نہ ہی انہوں نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی تھی، بلکہ آخر کار انہوں نے اپنی زندگی کو یہیں ہی رکھ دیا تھا۔
ان شہریوں کے اس انتہائی بے کار وہشال ہونے پر پوری فضا سوگوار ہو چکی ہے اور تمام پاکستانی یہی سوجھ رہے ہیں کہ ان شہریوں نے اپنی جانوں کو کس لیے کئی بار جانب سے طلب کیا تھا اور اس پر قبول کرنے کی کوشش کیسے نہیں کی گئی؟
ان شہریوں میں سے ایک مفتی اعظم پاکستان، مفتی تقی عثمانی نے بے لاگ investigations پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ گل پلازا کا حادثہ انتہائی المناک اور شرمناک سانحہ ہے جس کی وجہ سے تمام پاکستانیوں کو سوگوار فضا محسوس ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند گھنٹوں میں کتنے جانیں بے چارگی کاشکارہوکر دنیاسے رخصت ہو گئیں اور کتنے متوسط درجے کے تاجروں کا اربوں کا نقصان انہیں قلاش بنا گیا ۔
ان کے یہ بیانات بے لاگ investigations کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جس سے اس حادثے کو ایک منصوبہ میں بدل دیا جا سکے اور ان شہریوں کے نقصان کم کیا جا سکے۔
لیکن مفتی تقی عثمانی نے اپنے بیانات میں اس بات کو بھی تصدیق کیا ہے کہ آگ پر قابو نہ پاس کرتے ہوئے ان شہریوں کی جانب سے مدد طلب کی گئی تھی جو اس حادثے کا سبب بنی اور ان کے نقصان کو بڑھایا گیا۔
مفتی تقی عثمانی نے مزید کہا کہ کراچی جیسے شہر میں آگ پر قابو نہ پاس کرنا ایک افسوسناک سوالیہ نشان ہے کہ بروقت مدد کیوں نہ پہنچ سکی اس کی بے لاگ investigations ضروری ہیں اور حفاظتی انتظامات کو تیزرفتار اور مضبوط بنانا حکومت کا فرض ہے۔
لیکن انہوں نے اپنے بیانات میں ان شہریوں کو بھی مہذب قرار دیا ہے جو نہ تو آگ کے حادثے سے نجات پانے کی کوشش کئی بار کر رہے تھے اور نہ ہی انہوں نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی تھی، بلکہ آخر کار انہوں نے اپنی زندگی کو یہیں ہی رکھ دیا تھا۔