آئل ٹینکر پر قبضہ، امریکا کو جنگی جواب دیا جائے گا: روس

خیالات

Well-known member
امریکا کی جانب سے آئس لینڈ کے قریب روسی پرچم والے تیل بردار جہاز میری Nirya کو قبضہ میں لیا جائے گا تو اس پر روس نے واضح طور پر ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اٹلانٹک میں ان کے آئل ٹینکر کو امریکی قبضہ کی صورت میں بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی ہے، اسے روس نے ”بحری قزاقی“ قرار دیا ہے۔

امریکا کے جانب سے جہاز پر انساف کرنے کے بعد روس کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے میری Nirya کو توسیع دی ہے اور اس پر رابطہ منقطع کر دیا ہے۔ یہ بات بھی روس کی جانب سے بتाई گئی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے تحت ہر جہاز کو آزادانہ سفر کا حق حاصل ہے اور کسی ملک کو دوسرے ملک کے رجسٹرڈ جہاز پر طاقت استعمال کرنے کا حق نہیں۔

روسی نائب چیئرمین ڈیفینس کمیٹی الیکسی زورالوو نے ایک دو امریکی جہاز ڈبونے پڑنا بھی کہا اور کہا ہے کہ اگر میری Nirya پر قبضہ میں لیا جائے تو روس اس پر تارپیڈو سے حملے کرے گا، امریکا کا نشہ ختم کرنے کیلئے اسے ہیٹھی لگائیں گے۔

روس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی عملے کے ساتھ انسانی سلوک کریں اور انہیں جلد از جلد وطن واپس بھیج دیں، Russian news agency TAS کے مطابق۔

یہ قبضہ امریکی دباؤ کی مہم کا حصہ ہے، جس کا نقطہ عروج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 3 جنوری کو وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک میں منشیات کے مقدمات میں پیش کرنے کی کارروائی تھی۔ مادورو نے الزامات کی تردید کی ہے۔

روس کا وزیرِ قانون ساز آندرے کلِشاس نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ وینزویلا میں کئی درجن افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی قانون نافذ کرنے کی کارروائی کے بعد امریکا نے آزاد سمندروں میں خالص سمندری قزاقی مظاہرہ کیا ہے۔
 
امریکی جانب سے مرئے Nirya کو قبضہ میں لیا جائے گا تو اس پر روس نے بڑی تیز رفتار ردعمل دیکھنا پڑا ہوگا... روس کا کہنا ہے یہ کارروائی بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی ہے! امریکا نے اسے توسیع دی ہے اور رابطہ منقطع کر دیا ہے... میری Nirya پر حملے کا Threat بھی دے رہا ہوگا? Russia میں وہیڈیٹھی لگائی جائے گی؟

امریکا اور روس کی ایسے مناظر کو دیکھتے ہوئے تو بھی بات یہ ہوگी کہ بین الاقوامی سمندری قوانین کو لینے سے پہلے انہیں ایسے کارروائیوں سے بچنا چاہئیے... میری Nirya پر قبضہ کیسے بنایا جائے گا؟ اسے توسیع کیوٹ نہیں ہوئی، بلکہ ایسے کارروائیوں سے خوف دلا دیا گیا ہوگا!
 
امریکا سے روس کی تعرفیات اور اس پر قبضے کی کارروائی کے بعد، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بین الاقوامی سمندری قانون کا معیار کبھی بھی نافذ ہوتا تو ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ امریکا کی جانب سے میری Nirya کو قبضے میں لیا جائے گا تو اس پر روس نے واضح طور پر ردِ عمل ظاہر کیا ہے، اس کے بعد بھی امریکا اپنی جگہ سے نہیں چلی گیا جو یقینی طور پر سمجھی جانے والی بات ہے
 
امریکا کی جانب سے میری Nirya پر قبضہ کرنے کا Moves روس کو بھی تھوڑا متاثر کردا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو روس کو کبھی بھی اپنے قریب نہیں دیکھنا چاہیے۔ Russia کو اس پر غور کرنا چاہئے کہ اس کا جواب کیسے دیا جائے گا، کیونکہ امریکا ہمیشہ اس بات پر تاکید کرتا رہتا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے ساتھ آہنستھت کا مشورہ دیتا ہے۔ Russia ko apni sazaat karna chahiye, taaki amrica ki cheezon ko samajh jaye.
 
ایسا کئی گنا تو ہو چکا ہے کہ امریکا روس کو بھی نہیں دیکھتے ہیں اور انہیں تین تین سائنز کے ساتھ بلا رکھتے ہیں! :D
 
امریکی جہازوں پر تارپیڈو سے حملہ کرنا، اس لئے روس کی جانب سے بھی تو تو بات کرتا ہے۔ میری Nirya کو قبضہ میں لیا جائے گا تو ایسا وہ صرف ایک دھمکی کے طور پر دی رہا ہے۔ روس کو پتہ ہو گا کہ اگر وہ اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے دنیا بھر میں سے کسی جہاز اور مہم کو روکنے پر مجبور کیا جائے گا۔ وہ بات تو سمجھ رہا ہے لیکن ایسا کہنا نہیں کہ وہ خود اپنی قوتوں کا استعمال کرے گا۔ دنیا میں ایک سمندری قانون ہے جو اس بات کو آسان بناتا ہے کہ جہازوں کو آزادانہ سفر کا حق حاصل ہوتا ہے اور کسی ملک کو دوسرے ملک کے رجسٹرڈ جہاز پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
 
امریکا کی یہ کارروائی روس کو بھاگنے پر مجبور کر رہی ہے، اب وہ جس ملک میں بھی گھس پائے تو اس پر بھی فائرنگ کر کے انہیں منع کر دیا جائے گا 🚨۔ امریکی دباؤ کی مہم اور وینزویلا میں ہونے والے واقعات سے یہ بات کہلی رہی ہے کہ امریکا کو اپنی حد تک جھنکنا پڑتا ہے، لیکن وہ دوسرے لوگوں پر بھی اس سے نہیں ہونگا!
 
امریکی جانب سے میری Nirya پر قبضہ کرنا تو ایک بڑا وٹس پوائنٹ ہے، انھوں نے اپنی جانب سے اس پر قبضہ کر لیا تو روس کی جانب سے یہ کارروائی غیر مقبول تھی، اور اب انھوں نے کہا ہے کہ اگر وہ ایسا کرا رہے ہوتے تو روس کو اس پر حملے کرنا پڑ جاتے۔

امریکی جانب سے یہ کارروائی وینزویلا کی صورت میں نیوز بھی تھا، کہا جاتا ہے کہ انھوں نے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر لیا تھا اور اس پر منشیات کا مقدمہ شروع کیا تھا لیکن اب روس کی جانب سے یہ کہنا ہوا ہے کہ وہ ان الزامات پر نہیں چالے دیتے اور اس صورت میں وینزویلا کو لاجویت ملانی پڑی۔
 
امریکے جانب سے اٹلانٹک میں روس کے جہاز پر قبضہ کرنے کی کارروائی میں اس بات کو بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ یہ قواعد تو سمجھتے ہیں جو انہوں نے اقوام متحدہ کے قانون میں پیش کیے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے بھی وہ ایسا ہی کر رہے تھے، اور اب وہ دوسرے لوگوں کو بھی یہی کہنے لگتے ہیں۔

امریکا کو اس بات کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اپنی کارروائی میں کیا استثکام نہیں کئے، اور روس کو اس سے صاف کھینچ دیا جائے۔
 
امریکا کی یہ کارروائی صرف اس لئے نہیں کر رہی ہے کہ روس ایک تیل بردار ہے، اس کا معاملہ ان کی کوششوں میں شامل ہے کہ وہ اپنی تاکت کو دہشتgardیوں سے محفوظ رکھ سکیں؟ امریکا نے کبھی اس سے بھی بدترین کارروائی کی ہوگی، اور اب یہ چل رہی ہے کہ وہ روس کو سمجھائیں کہ اسے اپنا شعبہ نہیں ہونا چاہئے؟
 
واپس
Top