لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو محفوظ بسنت کا انعقاد، دفعہ 144 نافذ

مینا

Well-known member
پنجاب کی حکومت نے دفعہ 144 کی پیروی میں، لاهور میں 6 اور 7 فروری کو ایک محفوظ بسنت کا انعقاد کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے امن و امان برقرار رکھا جائے گا اور مذہبی جذبات کا احترام کیا جائے گا۔

اس دفعہ کے تحت کسی بھی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے، سیاسی یا مذہبی علامات اور نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی ہوگی لیکن شہریاں بغیر تصویر، سادہ یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

حکومت نے بھی دھاتی تار اور نائلون ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی ہے جس میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کرکے انڈین ایف پی سی اور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ بسنت کے حوالے سے جاری کردہ قواعد و ضوابط پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر گاڑیوں کی سخت چیکنگ اور اسکیننگ کی ہدایات جاری کی جا سکیں۔
 
پنجاب کی حکومت کی پوری بات سچم بھلے ہیں! ایک سادہ بسنت کا منع نہیں، لاکھ لاکھ ہدایات اور پابندیاں کیسے چلائیں گئیں؟ اب یہ بات سچم ہے کہ شہر بھر میں آکسیجن کی کمی ہوگی، پھونک فون سے بھرپور دباؤ ہوگا اور جسٹیڈسٹی ہوگی! 🙄
 
میری نظر یہ دفعہ کو باہم تھپک دینے کا بھانپن نہیں ہے بلکہ امن و امان برقرار رکھنے کی کوشش کرنا ہے، یہ دفعہ شہریوں کو ایسے حالات میں بھی آرام سے رہنے کی اجازت دیتا ہے جب وہ اپنی پتنگ استعمال کرنے کا موقع ملا۔ لاکھوں لوگوں کو یہ بات شکر و ثناء کی طور پر ملے گی کہ حکومت نے اس کی پیروی میں بھی ایسا ہی کیا ہے۔
 
میں یہ سب تھوڑا بھی رچ کر کے دیکھتا ہوں ، ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے 144 کو ایک معاملے میں بدل دیا ہے جس سے شہر کے رہنے والوں کی زندگی بھی آسان ہوجائے گی۔ میرے خیال میں یہ ایک اچھا فیصلہ ہے ، بسنت میں سادہ گودّا استعمال کرنا ہی نہیں تو دیکھنے پر ایسا بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ لوگ آپسی میں منٹ کی بات کرتے ہیں اور مٹھی تھوڑی بھری ہوئی چمچ برتاتے ہیں .
 
بہت بھارپور ہوئی یہ بات ہے کہ لاهور میں ایسا ایک محفوظ بسنت منعقد ہونے والا ہے جو امن و امان کو برقرار رکھے گا اور تمام مذہبی جذبات کو محترم سمجھے جائیں گے۔ یہ ایک بہت ہی اچھی بات ہے کہ حکومت نے دفعہ 144 کی پیروی میں اس بات پر عملدرآمد کیا ہے۔

اس بیسنت کے دوران شہر بھر میں تمام سیاسی جھنڈے اور علامات غیر لازمی ہو گیں گے اور لوگ ایسی پتنگ استعمال کر سکیں گے جن پر صرف ایک رنگ ہوگا، یہ بھی ایک بہت ہی حاسلہ خیز بات ہے کہ حکومت نے شہریوں کو دھاتی تار اور نائلون ڈور استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔

میں ان تمام جگہوں میں سے ایک سے جاتا ہوا ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو اپنے وطن کے امن اور امن کی حقیقی معشوقی بنتے رہنے پائے گئے
 
تھانڈے، یہ دفعہ کیا نہیں، پتنگوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے؟ وہ لوگ جو تھانڈوں پر بھی اچھا لگاتے ہیں ان کو ہمیں تو ناقد نہیں کرنا چاہئیے، بس اس دفعہ کے تحت یہ پابندی کیا نہیں؟ میرے خیال میں پتنگوں کو پھیلانا اور ٹیکسٹائل استعمال کرنا بھی ایک احترام کا معاملہ ہے، کیونکہ یہ لوگ جو دفعہ 144 نہیں لیتے ان کو ایسی پابندی کیا جانی چاہئیے کہ وہ محنت کر سکیں اور اپنے معاشرے کی زندگی میں بھی احترام برقرار رکھیں۔
 
مگر یہ بات کوئی بھی بات کرتے ہوئے نہ دے سکتی کہ دفعہ 144 نہیں چلے گا اور شہر میں امن و امان برقرار رہے گا؟ یہ سچمے کیا ہو گا یا نہیں؟ دھاتی تار اور نائلون ڈور کی پابندی کو لگتے ہوئے، شہر میں کسی بھی قسم کی پتنگ یا گُڈّا استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہوگی لیکن یہ سچمے کیا ہو گا؟
 
سچمبا ایسے دنوں کو محفوظ بسنت کا انعقاد کرنے سے زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے جہاں دفعہ 144 نافذ ہونے سے قبل بھی شہر کی ایک آدھی کوشش کی گئی ہو۔ یہ دن ایسا ہونا چاہیے جہاں امن و امان اس لئے محفوظ رہے ہوں کہ اسے یقینی بنایا جا سکے کہ شہر میں مختلف مذہبوں کی جماعتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور سمجھ کے ساتھ رہنا بھی ایک جوش مچانے والا ہو۔
 
اس دفعہ کو لازمی نہیں بنانا چاہئے بلکھ کہ اس کی پابندی کا احترام کرنا چاہئے، انسائیکلوپڈیا میں ہمیشہ کہہ دیا گیا ہے کہ دفعہ 144 کو ایک ذاتی آزادی کا معاملہ نہیں بلکھ ایک سماجی اور سیاسی معاملہ ہے، اس پر احترام کرنا چاہئے اور اس کی پابندی کا احترام کریں لیکن ایسا بھی کوئی ماحول نہیں ہے جہاں دفعہ 144 سے بچنے کے لیے کسی کو اپنی آزادی دی جا سکے
 
یہ بہت ممتاز بات ہے لاهوریوں کو ایسا کھانے والا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان سے انٹرنیٹ پر بھی نہیں چلتی یہ بات، یہ پورا شہر امن و امان کے لیے ایک گیند کی طرح سستایا گیا ہے۔ دفعہ 144 کے تحت ایسے لوگ جو توڑنا چاہتے ہیں ان پر بھی پابندی کیاجائے گئی اور پھر بھی شہر میں دھمکیاں نہیں چل سکتیں۔
 
😊 یہ بات تو بہت اچھی ہے کہ لاهور میں ایک محفوظ بسنت منعقد کرنے والا اعلان آیا ہے جس سے امن و امان برقرار رہے گا اور مذہبی جذبات کو احترام دیا جائے گا।

دفعہ 144 کی پیروی میں ہونے کے نتیجے میں ایسا منظر دیکھنا بہت اچھا ہوگا جہاں سب کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا پڑے گا۔

لیکن اس سے قبل کے واقعات میں بھی یہ بات قابل فخر ہے کہ لوگ مختلف قسم کی پتنگوں، چلنوں اور دھاتی تاروں کا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں جو اس خطے میں یقیناً لوگوں کو ایک ساتھ لانے والی بات ہے۔

اسٹریٹجیز اور پبلک ایمپائیس مینٹننس پر توجہ دینا ضروری ہوگا، خاص طور پر اس خطے کے لیے جہاں سیاسی جماعتوں اور مذہبی گروہوں کی موجودگی زیادہ ہوتی ہے۔
 
اس بسی دفعہ کو لے کر میں تو کہتا ہوں گا کہ یہ ایک نئی آگ ہے جو پاکستان کے شہروں میں پھیل رہی ہے، اس سے پہلے کچھ لوگ تین ہرپارتیوں پر اٹھتے تھے، اب یہ دفعہ ایک نئا رواج بن گیا ہے جس سے شہر میں امن و امان برقرار رہے گا اور لوگ اپنی مذہبی جذبات کو لازمی طور پر ظاہر کرتے ہیں۔

میں یہ بھی کہتا ہوں گا کہ اس دفعہ کی پابندی کیسے پوری کی جا سکتی ہے؟ شہریاں کو اپنی نژامیوں کو لازمی طور پر ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اس سے دھوکہ پھیلانے والے لوگ چالाक کھیلنے اور دوسروں کے جذبات کو متاثر کرنے سے بچتے ہیں۔
 
واپس
Top