لاہور، مین ہول سے آؤٹ فال تک داتا دربار سانحہ نے حفاظتی نظام پر سوال اٹھا دیے | Express News

جنگل کا راجا

Well-known member
داتا دربار میں ایک معصوم خاتون کی حادثے سے ہوئی پھانسی کے واقعے نے لاہور میں بھڑکمنے والا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اس حادثے نے حکومت، پولیس اور ریسکیو آپریشنز کے موٹے تنازعات کا منہ بول دیا ہے۔

مطالعہ کے مطابق مین ہول میں گرنے سے پہلے یہ حادثہ پیش آنے کی کوئی گارंटی نہیں ہے لیکن اس پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اس حادثے کے بعد مین ہول سے باہر اور لاہور کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری ہیں۔

لاہور کے داتا دربار میں ایک ترقیاتی منصوبے کے دوران حادثے سے پہلے معملی کھلے مین ہول کے درمیان گرنے کی جانب سے مبینہ طور پر یہ حادثہ پیش آیا تھا جس میں ایک معصوم خاتون کو دہانہ کی طرف ڈال دیا گیا تھا۔

جائے حادثے کے بعد اس خاتون کی لاش آؤٹ فیلڈ روڈ سے ملنے کے بعد ریسکیو آپریشن کو رات گئے روک دیا گیا تھا۔ وہیں دوسری جانب پالیس نے جارحانہ اقدامات کئے اور خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔

حکومتی ترجمان نے پہلے حادثے کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعہ پیش ہی نہیں آیا، لیکن بعد میں انہوں نے متوفی خاتون کے شوہر پر شدید تنازعات اور سنگین الزامات کا ذکر کیا جس سے یہ حادثہ مزید جھلک گیا ہے۔

پولیس نے متوفی خاتون کے شوہر کو ایک گھنٹے میں دو متضاد بیانات جاری کرنے پر انتہا ہوئی اور اس واقعے سے ان کے تناظر کی کارکردگی پر سنگین سوالات ہیں۔

تھیٹر ایکسپریس نے مطلع کیا کہ حکومت نے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر ٹیپا کو معطل کر دیا اور تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جو اپنی رپورٹ آج شام تک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو پیش کرے گی۔
 
یہ حادثہ لاکھوں لوگوں کی دماغی صحت کے لیے خطرناک ہے، اس واقعے سے یہ نکلتا ہے کہ انسداد وہبشی کے لیے کوئی کامیاب نہیں ہوا ہے... :-(
 
😱 یہ معصوم خاتون کی حادثے سے ہوئی پھانسی کا واقعہ انساف کرنے کے لیے ایک بڑا ماحول پیدا کر رہا ہے۔ مین ہول میں گرنے سے پہلے یہ حادثہ پیش آنے کی کوئی گارंटی نہیں تھی تو بھی اس پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ معصوم خاتون کے شوہر کو حراست میں لیا جانا ایک انتہائیSuspicious decision ہے۔ حکومت نے پہلے انہیں جھوٹ قرار دیا تھا تو اب وہیں اس کے متضاد بیانات جاری کرنے پر انتہا ہوئی ہے۔ یہ سارے واقعہ انساف کرنے کی ضرورت محسوس کر رہا ہے۔
 
یہ حادثہ وہاں کا نہیں تھا جس پر ہمارے لوگ سوچتے ہیں کہ ہر کوئی ایک منصوبے سے پہلے اپنے ساتھ لایا ہوا ہے۔ آج ان کے جھوٹے منظروں کی کھپت ہوئی ہے اور ان کو ایک ایسا واقعہ پیش ہو گیا ہے جو ان کے ہر منصوبے سے زیادہ دیر سے پچتا تھا۔ ڈیٹا دربار میں اسی طرح کی فیلڈ ٹیسٹ کرنا آسان نہیں ہے، یہ ایک ڈاتا انسائکلوپیڈیا ہے جس کے لئے آپ اپنے ذاتی تجربات کو بھر پور استعمال کرنا پڑتا ہے۔
 
یہ حادثہ بڑا بدقسمتی ہے اور معصوم خاتون کی جان کھو جانی ہے اور اس پر پوری حکومت اور پولیس کا بھرپور تعلق ہے، لیکن یہ سوال بنتا ہے کہ اس حادثے میں شامی کیا کردار تھا؟

کچھ لوگ اس سے لاکھوں روپیہ کی منصوبے کی دہائی پر چیلنج کر رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی حق ہے کہ جائے اس حادثے کے بعد ایسے معاملات کو گھبڑا نہیں دیا جائے۔

ہمیں بتایا گیا کہ اس خاتون کی لاش اتھوں سے ملنے کے بعد ہی ریسکیو آپریشن روک دیا گیا تھا، یہ بھی ایک حقیقی صورتحال ہے، لیکن اس پر پوری حکومت اور پولیس کی کارکردگی پر सवाल उठانے کا وقت آ گیا ہے،

پولیس نے جارحانہ اقدامات کیے تھے جو بے حوال ہیں، ان لوگوں کو حراست میں لیا جانا ضرورى ہے، لیکن اس پر بھی دھوکہ ماری کا تعلق ہو سکتا ہے؟
 
ایسا لگتا ہے کہ لاہور میں پھینسی ہوئی معصوم خاتون کی حادثے سے انساف کے بجائے مزید ٹنگل بھرنے کا ذمہ دار آئیں سے نکل رہے ہیں۔ پہلے پہل اس سے جب حادثہ پیش آیا تو حکومت اور پولیس نے ہر گھنٹا کیا میں ہول سے باہر اور لاہور میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ اب جسے انساف کی بات ہے وہ بھی انساف کے بجائے مزید ٹنگل ہو گیا ہے۔ سارے معاملے میں ایک ایسا لاحقہ ہے جو کوئی نہیں جھٹلاتا ہے؟
 
لگتا ہے کہ آج بھی یہ پوری بات ہی ایک چچرائی میں رہی ہو گی، کیونکہ حکومت نے ایسا ہی کہا تھا مگر بعد میں کیا کیا ہوا دیکھنا ہی ہو گا؟ 🤔
 
یہ تریخ پاکستان کے لیے بہت دarrarne waala hai. اچھی سے جائزہ لے لو گے تو پتا چلتا ہے کہ مین ہول میں گرنے سے پہلے یہ حادثہ پیش نہیں آیا، لیکن بعد میں پولیس کی جانب سے ایسا بتایا گیا جیسا کہ اس پر کوئی گارंटی نہیں ہے۔ وہیں حکومت نے بھی معطل کر دیا ہے کہ ایسے واقعات نہ ہوں، لیکن اب یہ بات صاف آ رہی ہے کہ ان میں کوئی گارंटی نہیں ہے.

یہ پوری صورتحال بہت خطرناک ہے، اور اب جب ریسکیو آپریشن ٹھیک کر دیا گیا ہے تو یہ بات کھل کر آئی ہے کہ اس حادثے میں ایک معصوم خاتون کو دہانہ کی طرف ڈال دیا گیا تھا اور اب اس جگہ پر تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جو بھی بالکل سچ نہیں ہے.

اس صورتحال کا یہ تجویز کرنا ہو گا کہ پوری تحقیقات کرنے اور حقیقت سامنے لینے کی ضرورت ہے، نہ یہ بتانا کہ حادثے سے پہلے ایسا کیا تھا یا نہیں۔
 
اس حادثے سے لے کر پوری صورتحال کا انہیں بھی ہٹنا چاہیے، کیونکہ یہ صرف ایک معصوم خاتون کی جان کو مظالم کے ساتھ جینا نہیں چاہیے। ریسکیو آپریشن میں دلاڑیاں پھیلانے والے پولیس نے بھی اپنی انصاف نہیں کی، خاتون کے شوہر کو حراست میں لیا جانا اور ان پر الزامات لگائے جانے سے یہ معاملہ مزید بدل گیا ہے۔
 
یہ بات واضح ہے کہ اس حادثے نے لاہور میں بھڑکمنے والا ماحول پیدا کر دیا ہے اور یہ ساتھ ہی ان پالیسیوں پر تنازعہ کے منہ بول رہے ہیں جن کو چلنا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے ایسے معصوم خاتون کی جان کو نقصان پہنچا دیا جو اس حادثے سے قبل مین ہول میں گرنے سے پہلے اس کھلے مین ہول کے درمیان گرنے کی جانب سے مبینہ طور پر اور یہ دوسری جانب پالیس نے جارحانہ اقدامات کیے ہیں جو بھی انتہائی غیر قابل قبول ہیں۔

ہمیں اس حادثے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے اپنی دیکھ بھال کی ضرورت ہے اور انہیں کافی احترام حاصل کرنا چاہیے۔
 
اس حادثے سے پہلے معملی کھلے مین ہول کے درمیان گرنے کی جانب سے مبینہ طور پر یہ حادثہ پیش آیا تھا، لیکن اب تک کوئی گارंटी نہیں ہے کہ یہ حادثہ اس طرح شروع ہوا تھا? پوری بات چیت کرنے والوں کی نظر سے لاکھوں افراد ہونگے جو ایسے واقعات میں شہید ہوتے ہیں جس کے لیے کوئی منصوبہ نہیں تھا اور اس پر کسی کے فائدے سے کام کرنا نہیں تھا؟
 
اس حادثے کا تعلق کتنے لوگ اور یہ کس طرح ہوا، پتا نہیں ہے، لہٰذا اچھی بات تو اس میں شام کو رات گئے روک دیا گیا تھا، اس پر بہت ساری سوال ہیں۔

مظالم زیادہ نہیں ہیں وہیں ایسے حالات میں جب سرچ آپریشن شروع ہوتا ہے تو پھر دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جیسے ہوا اور اس پر ان کی کارکردگی کیا تھی، ایسے حالات میں جب بھڑکمنے والا ماحول پیدا ہوتا ہے تو پھر چاروں طرف سے یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ واقعے وہیں کی گئی دھمکی ہی نہیں۔

اس حادثے کے بعد میں پوری حکومت پر سوسائٹی سے بھرپور تنقید کرنا چاہیے اور اس واقعے پر تحقیقات کرنی چاہیے، کیونکہ جیسے ہوا یہ حادثے نہ ہوتے تو کیا اس معصوم خاتون کو وہیں رکھ دیا جاتا؟
 
آج کے واقعات سے یہاں تک پہنچنا بہت مشکل ہے کہ حادثے سے قبل اس خاتون کی جانب سے کوئی انصاف اور مشورہ نہیں کیا گیا تھا؟ وہ جیسے اچانک گر گئی، یہ کیا ان کی جانچ پڑتال کی جاسکتी ہے؟
اس معصوم خاتون کو دہانہ کی طرف ڈال دیا گیا تھا اس بات پر پوری دنیا پر غور کرنا چاہیے اور ان کے بعد یہ ڈائریکٹر ٹیپا اور پراجیکٹ ڈائریکٹر معطل کئے جائیں گے؟
 
اس حادثے نے لاہور کا ایک نئی تاریکSide دکھایا ہے جو اس کے بعد کے دنوں میں بھی اٹھنا پڑے گا، یہاں تک کہ سرچ آپریشن کے دوران بھی ایسے واقعات ہونے کی سزا اور ان سے لپٹنے کی وہ قوت جو اسے جاری رکھتی ہے، اس وقت تک کہ لاہور میں ایسا منظر نہیں دیکھنا پڑگا۔
 
ارے یہ تو لاکھوں لوگوں کی جانت بھی ہوئی ہے اور اب وہ سب سوچ رہے ہیں کہ کیا ہوا ہوا تھا۔ داتا دربار میں ایسی سارے منصوبوں کی وجہ سے یہ حادثہ ہونے میں آسانی ہوئی، نہ ہونا چاہئیے تھی۔ یہ تو بھی واضح ہے کہ معصوم خاتون کی جان لگا دی گئی جس سے ہماری پورتی جانیں ڈو لگ رہی ہیں۔

اس حادثے نے واضح طور پر پتہ چلایا کہ جیسے جیسے یہ منصوبے اور ترقیاتی منصوبے شروع ہوتے رہتے ہیں، لاکھوں لوگوں کی زندگی میں بھی گہری تنازعات پیدا ہوتے چلتے ہیں۔

آج کی پھانسی کا واقعہ ہمیں ایک بات سیکھاتا ہے کہ وہ لوگ جو ہمیں دوسروں کو روکنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، وہی لوگ ہمیں توڑنے کے لئے بھی کھڑے ہوتے ہیں۔
 
یہ واقعہ ایسا نہیں لگ رہا جیسا کہ پہلے کہا گیا تھا! پہلی بار ہی اس طرح کی بات کی جارہی، اور اب بھی معصوم خاتون کو جان لیوا کر دیا گیا ہے؟ انہیں ایسا کیسے ہو سکا? اور یہ حادثہ پہلے تھی نہیں، تو کیا اس پر میرت واقفہ نہیں ہو سکا؟ اب یہ بات کبھی نہیں کہی جائے گی!
 
اس حادثے نے لاہور کی سماجی ملکیت کا ایک شدید نقصان ہوگیا ہے جو ابھی بھی بھڑک رہی ہے۔ مین ہول میں گرنے سے پہلے کے اس حادثے کی وضاحت دینے کی کوئی گارंटی نہیں ہو سکتی جو کوئی بھی معقول اور مقبول ذرائع بتا سکتا ہو۔

اس حادثے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ معملی مین ہول کے درمیان گرنے کی جانب سے مبینہ طور پر یہ حادثہ پیش آیا تھا، لیکن اس پر کیا پہلے انٹر ویو دیے گئے تھے؟ اس حادثے نے بہت سارے सवाल پیدا کیے ہیں جن کا جواب بتایا جانا ضروری ہے۔
 
اس حادثے سے لاحق دھارمک تباہی کا جوڑا ہی پورا پاکستان ہوا ہے, نہ صرف لاہور میں بلکہ تمام شہروں میں ماحولیات خراب ہو گئی ہیں.
[ :-( ]
اس حادثے سے پہلے کیسے تھا اس پر تحقیق کرنا ضروری ہے, معملی کھلے مین ہول میں گرنے کی جانب سے مبینہ طور پر یہ حادثہ پیش آیا تھا، لہذا ان تمام لوگوں کو جو اس میں شامل تھے کو جांچنا ضروری ہے.
[ :S ]
اس حادثے کے بعد سے لاہور میں بھڑکمنے والا ماحول پورے شہر میں موجود ہے، اس کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل رہے, اس کا ایک بڑا اثر و رسخ ہوگا.
[ :-O ]
اس حادثے کے بعد داتا دربار میں موجود تمام ترقیاتی منصوبوں کو موسم گرما میں ہی جاری رکھنا پڑے گا, اس کی وجہ سے ان منصوبوں پر نئی ٹیکسٹوریل پلاٹ فارم کا نिर्माण کرنا ضروری ہوگا.
[ :smile ]
اس حادثے میں متوفی خاتون کی لاش کو آؤٹ فیلڈ روڑ سے ملنے کے بعد ریسکیو آپریشن کو رات گئے روک دیا گیا تھا, اس سے اس حادثے میں شامل لوگوں کی جانچ کرنا ضروری ہوگا.
[ :-D ]
 
یہ تو ایک بد قیمتی واقعہ ہو گیا ہے۔ ایسے میں کیسے پھانسی ہوئی؟ یہ جاننا بھی مشکل ہو گا کہ حادثے سے پہلے کیا ہوا تھا یا نہیں؟ پولیس اور ریسکیو آپریشنز کو ایسا جوئے کے ان سے ملنے کا موقع بھی نہیں دیا گya، حالانکہ یہ پھر سے لگتا ہے کہ ہم سب کو ایسا اچھا نہیں ہو سکتا۔
 
اس حادثے نے لوگوں کو پھیلایا ہوگا اس سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ چالاکانہ حکومت کی جھوٹی باتوں کے علاوہ اچھی سے نہیں کچھ کر رہی ہے۔
 
واپس
Top