لاہور: پولیس اہلکار کی بسم اللہ پڑھ کر ’رشوت‘ لیتے ہوئے ویڈیو وائرل

بطخ

Well-known member
پولیس اہلکار عبدالرحمن نے ایک شہری سے رشوت لینے کی کوشش کی، جس میں وہ بسم اللہ پڑھ کر پیسے وصول کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

انہوں نے رنگ روڈ پر شہری کو روک کر رشوت طلب کی، جس میں شہر کے لیے ایک ہزار روپے دینا تھا، لیکن اہلکار نے مزید پانچ سو روپے کا تقاضہ کیا۔

ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جس میں شہری کو تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ اسے آخر کس مجبوری کے تحت رشوت دینا پڑی اور یہ دن کی پہلی رشوت ہے جس کا آغاز بسم اللہ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "جتنا طاقت میں ہونے والی، وہ نوجوانوں کو بدسلوکیوں سے بچانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن یہی نہیں، یہ پورا نظام بدسلوکیوں پر مبنی ہے اور ہمیشہ ہی رشوت لینے کا مقصد ایسے اہلکار کو اپنی فیکٹری میں منتقل کرنا ہے۔"

دوسری جانب لاہور پولیس نے وائرل ویڈیو پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، "ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس سلسلے میں ایک اہلکار کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور اسے ملازمت سے برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ سخت محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔"

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا، "ایک اہلکار کا غلط فعل پوری پولیس فورس کی بدنامی کا باعث بنتا ہے، کرپشن اور اختیارات سے تجاوز پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور ایسے اہلکاروں کی لاہور پولیس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔"
 
[غصہ کا ایک ماحول]
🚨💥
پھر سے! اہلکاروں کو پچتاو! 🤯
[ایک شہری رشوت لینے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اہلکار نے ان کی روك سنی]
اس کا matlab یہ ہوگا کہ جو بھی طاقت وालا ہوتا ہے اس کو نوجوانوں کو بدسلوکیوں سے بچایا جاتا ہے
لیکن یہی نہیں! یہ پورا نظام بدسلوکیوں پر مبنی ہوتا ہے!
[رشوت لینے والے شہری کا ایک ماحول]
اس کا جواب یہ ہوگا کہ اہلکاروں کو پچتاؤ!
 
میں تو کہتا ہوں گا کہ یہ سارے شہری ایک دوسرے پر بھرکے دیتے ہیں اور کوئی بھی شہری اپنے ملک میں رشوت لینا چاہتا ہے، جس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے ایک اہلکار کو روک کر رشوت طلب کی لیکن بعد میں اسے پھر بھی اور بھی روکنا پڑا، یہ سچ ہے کہ شہریوں نے ان کے ساتھ بھرکت سے جواب دیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے ملک میں کچھ نہیں کر سکتے، جس کے لیے ہمیں ایک نئی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔
 
اس کا بھی تو حال ہی میں ہوا، ایک اہلکار نے شہری سے رشوت لینے کی کوشش کی اور شہر کو اس پر تنقید کرنے والا صارفین نے انہیں بدسلوکیوں کا شکار بنا دیا ہوگا۔ ایک اہلکار کیا کرتا ہے پھر اس پر تنقید کرتے ہوئے صارفین نے انہیں بدسمجھ دے دیا ہوگا؟

ابھی وائرل ویڈیو میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر اہلکار کو اپنی فیکٹری میں منتقل کرنا پڑتا ہے تو یہ سارے نظام بدسلوکیوں پر مبنی ہے۔ اس کے لئے کیوں رشوت لینا پڑتا ہے، اور کیوں شہری کو بدسمجھ دیا جائے گا؟
 
عجب کر دیا کیا پھر یہ لوگ ہی نہیں ہوتے جو شہری سے رشوت لینے کی کوشش کرتے ہیں؟ اور پھر ان پر سخت کارروائی کی جاتا ہے؟ یہ نہیں ہوتا، وہ جو مجرم ہوتے ہیں ان کو بھی بچایا جاتا ہے اور ان کا ساتھ دے دیا جاتا ہے? 🤔
 
ایسا تو یہ رشوت لینے کا مقصد کیا ہے? دیکھتے ہیں ایک اہلکار بسم اللہ کے ساتھ پیسے وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یہ تو بہت معقول نہیں! #رشوت_لینے_کا_ماقصد #کرپشن_کی_کامیابیوں
 
ایسا تو کچھ بات ہے اس پولیس اہلکار کو، وہ اپنی فیکٹری میں منتقل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا انھیں ایسی ملازمت نہ ملنی چاہتی thi? وہ انشعاب پر کیسے جاتے ہیں؟
 
اس واقعے سے بتایا گیا ہے کہ ان اہلکاروں پر ایسے لوگوں کی رشوت لینے کی کوشش کرنے کی ترغیب دےتی ہے جو شہر میں رہتے ہیں، اور اگر وہ ان کا ساتھ نہیں دیتے تو ان کے سامنے پھانسی دے دی جاتی ہے۔ یہ ایک بہت ہی خطرناک نظام ہے جس میں لوگ خود کو بدسلوکیوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس نے ان لوگوں کو بھی جو معزز ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو مندہ بناتے ہیں۔

اس کے علاوہ، پوری پولیس فورس میں کارروا کرتی ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بدسلوکیوں سے بچانا ہوتا ہے، لیکن یہی نہیں، اس نظام میں لوگ رشوت لینے کی قیمتیں چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی فیکٹری میں اہلکار کو منتقل کرنے کا مقصد ہے۔

اس سے ان لوگوں کو بھی متاثر ہوتا ہے جو معزز ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو مندہ بناتے ہیں، اس کے علاوہ اس سے پوری پولیس فورس کا ایمان دھکela بھی ہوتا ہے۔
 
اس وقت کچھ بھی رشوت لینے سے پہلے اس شہر کی زندگی کا انساف کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک اہلکار بھی ایک نوجوان کو گھر واپس لانے کے لیے 1000 روپے طلب کرتا ہے، اس میں سے پانچ سو روپے کی دوسرا 500 روپے ایک بسم اللہ سے ملنے والی کو لینا چاہتا ہے۔

اس وقت کے شہری نوجوانوں اور ان کی والدہیں پوری زندگی رشوت میں پھنستی ہے۔

ایسے لاکھ لاکھ لوگ شہر میں چلدے ہیں تاکہ وہ ان اہلکاروں کا ساتھ دیکھ سکیں، جیسے کہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ایک شہری کو پورے روپے میں 500 روپے دیتا ہے جو انہیں واپس گھر لے جاتا ہے۔
 
اس سے پہلے نہیں سنی تھی کہ انٹرنیشنل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (ایسٹ) پر وائرل ویڈیو لگ کر شہری کو رشوت دیکھا جاتا ہے، یہ ایک عجیب بات ہے جو پوری دنیا کو چیلنج کرتا ہے...
 
یہ بھی ہوا کیا نہیں؟ ایک اہلکار اس طرح سے شہری سے رشوت لینے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ بسم اللہ پڑھ کر پیسے وصول کر رہا ہے؟ یہ کوئی جگہ نہیں ہے، چلو کچھ ہوا نہیں!
 
بہت سا لوگ کہتے ہیں کہ پुलیس اہلکاروں کی انٹرنیشنل ایکٹ کو ہمیشہ اپلاڈ کریں اور کامیاب رہیں۔ لیکن واضح ہے کہ جو لوگ پوسٹ لگاتے ہیں انھوں نے اس کو جسمانی طور پر نہیں چولیا اور اس کی جھلک بھی نہیں ہوئی، واضح ہے کہ بے معاملے اور بدنسلوکیوں سے بچنے کے لیے پوسٹ لگائے جاتے ہیں اور اسے ہمیشہ ایک اچھا طریقہ سمجھتے ہیں لیکن پوری دنیا میں ایسا حال نہیں ہوا، بے نقصان کا ہر چیلنج ہمارے سامنے اٹھتا ہے اور اس کا حل ہمیشہ ایک آسان طریقہ نہیں ملتا ہے۔
 
اس دھچکے کا جو لاکھوں لوگوں پر اثر پڑ رہا ہے، اس سے بھی واضح ہوا ہے کہ شہری اہلکار کی جانب سے گزشتہ چند ماہوں میں رشوت لینے کے واقعات ہوئے ہیں، لیکن اس واقعے نے ہمیشہ سے موجود بھرپور کرپشن کی چھاڑ پکڑی ہے۔

اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر بہت سارے لوگ حیران رہے ہیں اور اس کے بعد تو واضح ہوا ہے کہ یہ اہلکار اپنی جانب سے کیا جا رہا تھا۔

اب ان کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے، بہت زیادہ نوجوان اس معاملے میں سوشل میڈیا پر اپنی آواز اٹھانے لگے ہیں اور ان کی جانب سے حریت کا اظہار کیا جارہا ہے، واضح رہ گیا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف ایک اہلکار کے غلط فعل کے ساتھ ساتھ سڑک پر ہونے والی بدسلوکیوں کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔
 
یہ کیا بھائی، پھر سے رشوت لینا اور اس پر مجبور کرنا؟ یہ تو ہمیشہ ہی دیکھتے آئے ہیں۔ کون سے اہلکار ان سے پیسے وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب تک کہ وہ دیکھتے نہیں کہ لوگ بسم اللہ پڑھ کر اسے دینا چاہتے ہیں۔
 
اس معاملے میں پوری دنیا کا دیکھ بھال ہوا ہے اور یہ واقعہ ان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گيا ہے جہاں لوگ اس کے بارے میں تنقید کر رہے ہیں اور اہلکار کی ایسی کارکردگی سے ان پر غضبہ اٹھایا جا رہا ہے۔

اب یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ جتنے بھی شہری اپنے دائرہ اختیار کے اندر فیکٹری میں کام کر رہے ہوں، ان سب کو ایسی اہلکاروں سے مواصلت نہیں کرنی چاہئے جو ہمیشہ شہروں کے لیے رشوت لینے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بات سب کو سمجھنی چاہئے کہ جب بھی ہم ان اہلکاروں سے ووٹنگ یا رشوت لگائیں تو وہ اس معاملے کی نتیجہ وغیرہ کو دیکھ کر یہی کرتے ہیں۔
 
واپس
Top