لاہور: یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، معاملہ پسند کی شادی کا نکلا

ایک نجی یونیورسٹی میں تعلیمی دورے کے دوران ایک 21 سالہ طالبہ نے اپنے گلا سے سوزا دھماکہ کی کوشش کی تھی جس کے بعد وہ فوری طور پر اسپتال منتقل کر دی گئی تھی جہاں اس کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔

اس معاملے میں یونیورسٹی کے چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم نے بتایا ہے کہ طالبہ اب خود سانس لے رہی ہے تاہم آکسیجن کی مدد سے اس کے ساتھ دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبہ کے ہیموڈائنامکس مستحکم ہیں اور وہ مکمل ہوش میں آ چکی ہے جس سے اس کے ایک گلاسگو کومہ اسکیل 14/15 ریکارڈ کیے گئے تھے۔

پولیس کی تحقیقات سے بات چیت کرنے والی طالبہ نے اپنی پسند کی شادی میں بھی زور دیا تھا تاہم اس رشتے پر اہل خانہ کا رضامند ہونا نہ تھا، جس کے بعد طالبہ کو دلبرداشت ہوئی اور وہ خودکشی کی کوشش کی۔

اس معاملے میں یونیورسٹی کے سربراہی نے بتایا تھا کہ اس واقعے کے بعد جامعہ کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں اور ابکلاسز کے لیے آن لائن نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس سے اس کا مقصد طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اور صورتحال کا مکمل جائزہ لینا ہے۔
 
یہ تو ایک بڑا چاقو تھا جس نے کسی طالبہ کی زندگی کو ٹک کر دیا تھا 🤯 ایسی صورت حالوں سے بچنے کے لیے ہمارے تعلیماتی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے، اس بات پر بات نہیں کرنی چاہئے جب تک اس کے پھیلے ہوئے لچک کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
 
مادنیت کیا دھماکہ کر رہی ہو کے بھی دھماکہ نہیں کر سکتے 🤣 یہ طالبہ تو ہمیشہ ایسا ہی تھی جیسا ہمیں اب بھی ملتی ہے، مگر یہ تو ایک ایسا مواقع پر اچھی طرح پہچان آئی کہ وہ اس میں کچھ بھی نہ کر سکی۔ جس ہمیں دلے دلوں کو لگتا ہے، یہ تو اس بات کو بھی سمجھ آئی کہ اچھے تعلیمی دوروں میں ایسے مواقع بھی پڑتے ہیں جب پرگٹ نہیں ہوتا، مگر یہ تو اس کی اور نہیں!
 
یہ معاملہ تو بہت گھبراہٹ فیلا دیتا ہے، یہ ایک طالبہ تھی جس کے ساتھ بات چیت کرنے والے نے کہا کہ وہ اپنی شادی میں تھی، لیکن اہل خانہ کا رضامند ہونا نہیں تھا، یہ بہت متاثر کن باتوں سے لے کر ایک طالبہ کے دل کو ٹوٹا دیتا ہے جو پھر خودکشی کی کوشش کرنا پڑتی ہے، یہی نہیں بلکہ یونیورسٹی کے سربراہی کو بھی اس جسمانی حالت میں دیکھنا پڑتا ہے۔
 
یہ معاملہ ایک بڑی سوسائٹی کو دھमकاؤں سے گھیر رہا ہے، یونیورسٹی کی taraf سے طلبہ کی حفاظت کی کوشش کو نظر انداز کرنا یہ تو نہیں چاہئے اور دوسری طرف وہ اس معاملے میں حقیقت کی جانب مڑنے سے بھگت جائے۔ فوری طور پر اسپتال میں منتقل ہونے کے باوجود یہی انسائیس کو حل نہیں کر سکتی، یہاں تک کہ اس کے ایک گلاسگو کومہ اسکیل 14/15 ریکارڈ کیے جائیں، اس سے بھی یہ معاملہ ٹھہر نہیں پائے گا۔
 
یہ کیا بات ہے، ایک نجی یونیورسٹی میں بھی آکسیجن کی مدد سے خودکشی کرنے والی ایک طالبہ کو فوری طور پر اسپتال لے جاتا ہے، اس کے بعد بھی وہ اپنی تعلیم میں دلچسپی نہیں رکھتی؟ اور یونیورسٹی نے اب تو اپنے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں، اس سے بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ اس کے لیے اچھی جگہ بنانے کا مقصد رکھ رہا ہے؟
 
واپس
Top