lahore mother and daughter incident torture action against police officers | Express News

طالب علم

Well-known member
لاہور کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی پر مظالم کی جانب سے کارروائی جاری، خاتون اور بچی کی ہلاکت پر پھیلے ہوئے دھام

اللہ تعالیٰ، یہ واقعہ ایسے واقعات میں شمار ہوتا ہے جو پاکستان کے ذہن کو اٹھانے سے باہر ہیں۔ لاہور کے شہر میں ایک مین ہول میں سے ایک گٹر میں ایک خاتون اور بچی دھواڑ کر گر گئیں جس نے ان دونوں کی جان کو کٹا دیا۔ اس واقعے پر پریشانی اور دھمکہ میں آگئے، جس کی وجہ سے کچھ فوجی افسرز اپنے گروپ کے ساتھ ایک فوجی گٹر میں لپیھے ہوئے تھے جنہوں نے اس واقعے کو دیکھا اور انہیں پریشانی ہوئی۔ اس واقعے کے بعد فوج نے اس کے ساتھ ایک دوسرا واقعہ شپڈ کیا جس میں ایک پولیس افسر کو گیند کھیل دی گئی۔

اس واقعے پر مظالم کی جانب سے کارروائی جاری ہے اور انہوں نے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سے معطل کردیا ہے اور اظہار وجہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اس واقعے کی جانب سے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے خلاف کارروائی جاری ہے، لیکن وہ اس پر تینوں جانب سے یقین دلاتے ہیں اور اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی کارروائی جاری ہوگی۔

اس واقعے کی جانب سے ایس پی کو اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے، انہوں نے اسے کہا ہے کہ یہ ان کے لیے ایک ایسا موقع ہے جس پر ان کی ذمہ دارییوں کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو ظاہر کیا جا سکتا ہے۔

اب ایس پی کے پاس اپنی جانب سے کارروائی جاری کرنے کا ایک نئا موقع ہے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد تحقیقات مکمل کریں اور اس واقعے کے بارے میں ایک مستحکم judgement دیں تاکہ ان کے ساتھ بھی کارروائی جاری ہوگا۔

اب ایس پی کو اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کرنے کی پوری کوشش کرنی ہوگی، اور یہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ ان کے ساتھ بھی کارروائی جاری رہے گا۔
 
ایس پی نے کچھ بات کہنی ہوگی، یہ واقعہ ایک عجیب بات ہے، اس میں کیسے شپڈ کیا گیا اور پھر فوج نے جو کارروائی کی، وہ تو کچھ دیکھ کر ہوا تھی، لیکن یہ کہا نہیں کہ اس واقعے پر ان کے پاس کیا شپڈ کرنے کا منصوبہ تھا، ایس پی کو بھی اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کرنا ہوگا اور یقین نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اس پر کارروائی کریں گے۔
 
یہ واقعہ بھی دیکھنا پریشان کن ہے، پاکستان میں ایسے واقعات زیادہ ہوئے ہیں جس سے دھمکے اور پریشانی کا دور چلتا رہتا ہے۔ ایس پی کو ان کے خلاف کارروائی کرنا یقینی بنانے کی ضرورت ہے، لیکن وہی وعدہ بھی نہیں سکتے جو ان کی جانب سے دیا گیا ہے۔ اب کچھ نئے قدم رکھنے کی ضرورت ہے، ایس پی کو اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کرنا چاہیے اور ان کی صلاحیتوں کو ظاہر کرانا چاہیے۔ 🤕
 
میں بتاؤں کہ یہ واقعہ پوری تھر نہیں ہوگا، اس کے بعد ملک میں ہمیشہ سے موجود دھام کا ایسا موڑ آ گئا ہے جس سے اس پر قابو پانے میں مشکل ہوگا। پریشانی کی وجہ سے فوج نے خود کو تیز کر دیا ہے، حالانکہ یہ بھی یقینی نہیں کہ ان کا عمل موثر ہوگا یا نہیں? اور وہ جو کہتا ہے کہ اس واقعے کو دیکھ کر انہیں پریشانی ہوئی، وہ کیونکر یقینی کرتا ہے کہ انہوں نے اپنی جان بچائی?
 
یہ واقعہ ہندسائی حالات میں ہونے والی سب سے بدترین حادثوں میں سے ایک ہے، اس کی وجہ سے لاکھوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے جو نتیجے میں پوری ملک میں دھمکہ مچا گئا ہے۔ اس واقعے کی جانب سے ایس پی اور SHO کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے، لیکن یہ بات یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس واقعے سے نتیجہ نکالنا بھی مشکل ہے، لیکن یہ بات اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ان کے ساتھ بھی کارروائی جاری رہے گا۔ یہ سب کو ایک ایسا موقع بنانے کے لئے ہے جس پر ان کی ذمہ داریوں کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو ظاہر کیا جا سکتا ہے۔

اس واقعے کے بعد پوری ملک میں سوشل میڈیا پر بھی دھام مچ گیا ہے، لوگ اس واقعے کو دیکھتے ہوئے تیز ناکام ہو رہے ہیں اور اس واقعے کے خلاف تیز کارروائی جاری ہے۔
 
اس واقعے نے ہمیشہ سے سونے والی سڑکوں پر سدیم دھوئیں پھیلانے کی ایسی چال اٹھائی ہے جو ہمیں سانس لینے پر مجبور کر رہی ہے۔ میرے خیال میں یہ واقعہ ہمیشہ کے لیے ایک زبانی حقیقت بن گیا ہے، جس نے ہمیں اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمیں ان لوگوں کی جانب سے محبت اور احترام کا مطالعہ کرنا چاہیے جو اس حقیقت کو نہیں جان پاتے۔

اس واقعے پر ہمیشہ سے مظالم کی جانب سے کارروائی جاری رہی ہے، اور اب بھی ان کا مطالبہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کریں۔ میرے خیال میں یہ واقعہ ہمیں ایسا ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اس حقیقت کو کبھی بھی نہیں دیکھا۔
 
ایس پی اور شہر میں ایک مین ہول میں دھواڑ کر گرنے کی صورت حال پر توجہ نہ دیا جا سکتا ہے، اس نے بچوں اور خواتین کے لیے safest شہر بنانے کی ڈی ایس پی کی ذمہ داری کو چیلنج کر دیا ہے۔

اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ڈی ایس پی اور شہر کے منصوبوں پر دھمکہ پڑ رہا ہے، اور یہ بات تھی کہ شہر میں safest بنانے کی ڈی ایس پی کی ذمہ داری کو اس صورتحال سے باہر نہ لینا چاہیے۔

اس واقعے پر مظالم کی جانب سے کارروائی جاری ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ بھی کارروائی جاری ہوگی۔
 
اس واقعے پر سोचتے ہوئے، میں سمجھतا ہوں کہ اس کی پوری وجہ فوج اور پولیس کی ایسی ترقی ہی ہوگئی ہے جو لوگوں کو خطرہ محسوس کرائی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فوج اور پولیس کو اپنی فرائض کی جگہ یہ سیکھنا چاہیے کہ وہ لوگوں کے سامنے ایسے ماحول بنائیں جو انہیں خوفزدہ نہیں کریں بلکہ اسے ایک سیکھنے والا ماحول بنائیں۔
 
ایس پی کو ان ڈھیرے دھندلوں پر جو ہوا دے رہے ہیں ان کا مقابلہ کرنا چاہیے تو یہ صرف ایک مین ہول میں ٹرولنگ کے کیس میں نہیں آ سکتا بلکہ اس کھلے بھंडارے ڈاکٹروں پر بھی ہونا چاہیے جس پر انہوں نے اپنی پھرٹی اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
 
لاہور میں ہونے والے ایسے واقعات نے مجھے بہت دھمکے دئیا ہے جو کچھ رہنما اور ماہرین کی جانب سے یہی نہیں بلکہ عوام کی جانب سے بھی کارروائی جاری ہے۔ مظالم کی جانب سے ایس پی کو بھی اس طرح کا معاملہ کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ بات تو یقین ہے کہ وہ اس پر تینوں جانب سے کارروائی جاری رکھنے میں کامیاب ہو گی۔ ان لوگوں کو ایسا نہیں چاہیے کی یہ معاملہ حل ہو جائے اور وہ اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کئے رہنے کی پوری کوشش کریں گے۔ 🤕
 
بڑی بدنی ہوئی وہ واقعہ جس پر مظالم کی جانب سے کارروائی جاری ہے اور ان کے خلاف ایس پی کو چیلنج کرنا ہوگا، اس کی وجہ واضح نہیں ہے تو اس پر کچھ بات کرتے ہیں... یہ واقعہ ایک عجیب سائنسی فلم جیسا لگتا ہے، اور اس کی وجہ سے پوری ایس پی نے اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کرنے کا وعدہ کیا ہے... حالانکہ یہ واقعہ بھی اس طرح سے رات کو ٹل کی جاتی ہے جیسا کہ کچھ افراد نے بتایا ہے، لیکن یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ اس واقعے کے پیچھے کوئی سائنسی وجہ نہیں ہے...
 
🤕 یہ واقعہ بہت ہی دکھدار ہے، ایسے واقعات ہوتے ہیں جو لگتا ہے کہ پورے پاکستان میں ایک گھنٹا سے ہے۔ مظالم کی جانب سے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی پر کارروائی کرنا بے معاف نہیں ہے، لیکن اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

جب پریشانی میں آتے ہیں تو ہم کبھی بھی جانتے نہیں کہ کیوں اور کیسے گزرنا ہوگا۔ لگتا ہے کہ اب ایس پی کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا ایک موقع ملا ہوا ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ان کی کارروائیوں میں سے کیسے سہی اور سہارہ ہے۔
 
![ایک پریشانی کا biểu]

مظالم کی جانب سے ہوا ہوئی دھمکی کو نئے مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ یہ معاملہ اساتذہ کو بھی متاثر کرتا ہے جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

![ایک گٹر کا biểu]

اس واقعے پر پریشانی اور دھمکے میں آگئے، جس نے فوجی افسرز کو ایک خطرناک منظر دکھایا جو انہیں پریشانی ہوئی۔

![ایک گیند کا biểu]

اس واقعے پر سے ایس پی اور فوج نے ایک دوسرے پر retaliation کی، جس میں ایک پولیس افسر کو گیند کھیل دی گئی تھی۔

![ایک وعدہ کا biểu]

اس واقعے کی جانب سے سے ایس پی کو اپنی ذمہ داریوں پر چیلنج کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، انہیں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ان کی ذمہ داریاں اپنی جانب سے چیلنج کی جا سکتی ہیں۔
 
یہ واقعہ تو ایسے صورت حالوں میں شمار ہوتا ہے جو پاکستان کے سیاسی معاشیات کی زندگی کو آگے بڑھانے سے باہر ہیں۔ اور یہ بات تو نہیوں سا ہے کہ ایس پی پر مظالم کے زریعے کارروائی جاری ہے، پھر بھی اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ اور اس واقعے میں گیند کھیلنا ایس پی کا کوئی حقیقی ذمہ داری نہیوں، تو وہ صرف اس بات پر توجہ مرکوز کر رہا ہے کہ اس واقعے سے ان کی بھرپور معیار کو یقینی بنایا جا سکے گا اور ان کی جڑی ہوئی صلاحیتوں کو ظاہر کیا جا سکے گا۔
 
اس واقعے پر پریشانی میں آگئی ہے جو لاہور کی ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو کبھی نہیں بھیج رہی تھی، اب اس کے ساتھ دوسرا واقعہ آیا ہے جس سے پریشانی میں آگئے ہیں، یہ واقعے ایسی ہیں جو پاکستان کے ذہن کو اٹھانے سے باہر ہیں، انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ جلد از جلد تحقیقات مکمل کریں اور ایک مستحکم judgement دیں
 
واپس
Top