لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں ہولناک آگ، شہر بھر کی فائر بریگیڈ طلب، رینجرز اور واٹر کارپوریشن بھی متحرک

طبلہ نواز

Well-known member
کراچی کے صنعتی علاقے لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے شہر بھر پر شدت فراہم کی۔ اس فیکٹری میں ایک اچانک لگنے والی آگ کے باعث گہری تباہی ہوئی، جس کے بعد شہر بھر سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب کر لی گئیں۔

اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا اور امدادی اداروں کو متحرک کیا جس سے فائر بریگیڈ حکام نے اسنارکلز اور گاڑیاں روانہ کر دیں، جو آگ پر قابو پانے کی کوشش میں حصہ ڈال رہی ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خود ایکسپورٹ پروسیسنگ زون پہنچ کر ریسکیو آپریشن کی نگرانی شروع کر دی۔ انھوں نے بتایا کہ مختلف شاہراہوں پر جاری احتجاج کے باعث فائر بریگیڈ کی آمدورفت میں مشکلات پیش آئیں، تاہم ادارے مکمل تعاون کے ساتھ آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور آگ پر مکمل قابو پانے تک سپلائی جاری رہے گی۔

اس سے قبل سندھ رینجرز بھی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، جس سے متاثرہ عمارت کے اطراف کارڈن قائم کرکے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
 
اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فائر برگڈ کی کارروائیوں پر اچھی طرح پابندی نہیں ہے، جس سے سارے شہر پر اثر پڑتا ہے اور وہاں کے لوگ ایسے واقعات میں متعین رکھنے کو نہیں دیتے۔ اس کے باوجود جب فائر بریگیڈ آگ پر قابو پانے لگے تو وہاں کے لوگوں کو محفوظ رکھنے کی پابندی نہیں تھی، جس سے ان کی توجہ ایسے واقعات میں جمع کرنی ہوتی ہے جو اس مقام پر ہوتے ہیں۔ اور اب جب وہاں کے لوگ خود کو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے سامنے پہنچتے ہیں تو انہیں اس بات سے حیرانگی پڑتی ہے کہ انہیں یہاں تک کے کیس کی تفصیلات نہیں پڑتے، جو اس صورتحال کو بھی بڑھا رہا ہے۔
 
اس واقعے سے یہ سوچنا مشکل ہے کہ ابھی تک انصاف اور پابندیوں کے بغیر کسی چیز کو نہیں کیا جاتا، اب ہم تباہی اور ناکارkeit کی چپٹی میں گزر رہتے ہیں۔ مینے بھی سوچا کہ فائر بریگیڈ کو پانی ملے گا اس طرح آگ کو کنٹرول کر لیا جا سکتا، مگر اب نہیں۔

پہلی بار سمجھنے میں میرے لئے یہ بات کہ اس واقعے کی پوری جانت بھی نہیں مل سکی، اور ادارے کی ایسی وضاحت کی بھی نہیں کی جس سے ہمیں سمجھنے کے لیے کچھ اور کچھ کہنا چاہئے، اور پھر یہ بات بھی کہ انصاف اور پابندیوں کی وضاحت ہمیں نہیں مل سکتی، تو یہ تو کوئی چیت تھی یا اس میں کچھ رہसیمے کا بھی ہاتھ تھا۔
 
یہ واقعہ کراچی میں بہت خطرناک لگ رہا ہے، فیکٹری میں ایک اچانک لگنے والی آگ کے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں سب سے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن محفوظ رہنے کے لیے وہاں سے نکلنا بھی اچانک ہوا، ایسے میں آگ اس حد تک پھیل گئی ہے جو اسے برقرار رکھنے کے لیے باہم توجہ کی ضرورت ہے۔
 
agar woh factory ka owner tha pehle se wo nahi janta tha ki unki ffactory mein kuch bhi ho sakta hai. aaj ke incident ke baad wo kya chalega?

mera yeh socha hai ki usne apni ffactory ko chunaav ke din pehle hi banaya tha, kyunki wah ek successful businessman hai. lakin ab uska business to hell aa gaya!

koi bhi logon ka shakaal hone ki aasani thi ki wo apni ffactory mein kuch nahi hoga. agar wo thoda serious hote toh is tarah ka incident ho nahi sakta.

woh factory ka owner ab uski company ko ek big problem banaya hai!
 
مرحلة یہ تو پوری کارلیپت تھی! لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد شہر بھر پر شدت فراہم ہوئی. یہ واقعہ تو خوف و ہراس پھیلایا اور امدادی اداروں کو متحرک کیا. فائر بریگیڈ کی گاڑیاں شہر بھر سے طلب کی گئیں اور انھوں نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں.

دوسری جانب ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون پہنچ کر ریسکیو آپریشن کی نگرانی شروع کر دی. انھوں نے بتایا کہ مختلف شاہراہوں پر جاری احتجاج کے باعث فائر بریگیڈ کی آمدورفت میں مشکلات پیش آئیں، تاہم ادارے مکمل تعاون کے ساتھ آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں.

ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعہ سب کو محتاط بناکر رکھ دیتا ہے. فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور آگ پر مکمل قابو پانے تک سپلائی جاری رہے گی. سندھ رینجرز نے بھی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی ہے.
 
اس دuniya mein aage badhna easy nahi hai, jab tak hum logon ka samman nahi karte, toh yeh sahi jagah par nahi chalta. Kisi bhi industry mein fire ko rokne ke liye safety precautions lena zaroori hai, aur agar nahi to phir se aisa incident hota to... 😨

Ab Karachi ki industrial area me fire ka incident hua tha, jisne shahar whole pe shock diya. Lakin yeh bhi sahi hai ki firi brigade ko speed se pata chalta, aur unhone apni job ko poora kar liya.

Dusri baat, yeh kaisi achi baat hai ki deputy mayor Salman Abdullah Merad ne apne post par aage badhkar apni responsibility suni. Woh sirf kuch words karte ke bhi kafi kuch kaam karte hain. Aur yeh to suna ja raha hai ki sindh Rangers ne bhi location pe pahunch karke situation ko control kiya.

Fire brigade ko pani diya jaa rahe hai, aur woh apni work pe chal rhe hain. Lekin humein apne safety precautions mein zaroor thoda aage badhna padega. 😊
 
یہ واقعہ لانڈھی میں ہوا تو شہر میں پورے لوگ اچھا محسوس کر رہے ہیں...اس کے بعد یہ سیکڑوں گز کی ایک لڑائی، یہی تو کہیں ایسا نہ ہوا کہ وہاں سے نکلنے والا ہر جگہ پھنس کر بیٹھ جاتا...اس کے بعد یہ شہری زندگی کے حوالے سے ایک بدقسمتی کی پہلی میں تبدیل ہوا...

یوں تو ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد کو وہاں جانا اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنا بے مثال کوشش تھی...اس کے بعد شہر میں آگ پر قابو پانے کی کوشش میں ہزاروں لوگوں نے کوشش کی...اس سے ان سے پہلے بھی محسوس ہوتا رہا کہ جب کسی ایسی صورتحال پر گزرنا پڑتا ہے تو وہاں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں...تھوڑا سا پانی بھی مل گئے...

اس صورتحال نے یہ بات بھی ظاہر کر دی ہے کہ شہر کی ایسی ایک حد تک سیکھی جائی چکی ہے...جب لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اس کو پھنکنا یقینی نہیں...اس لیے اچھے اور غلط دونوں میں حد تک محبت کرنا ضروری ہوتا ہے...اس سے جسے بھی شہر کے لوگ پہنچتا وہ سب کو ساتھ لیتا ہے...

پانی کی فراہمی اور آگ پر مکمل قابو پانے تک سپلائی جاری رہے گی...یہ تو ایک نئی بات نہیں، لیکن اس میں یہ سب کچھ شامل ہوتا ہے...اس سے دیکھتے ہیں کہ شہر کی محبت اور ایک دوسرے کی مدد کرنا سب پر بھی پڑ جاتا ہے...ہمیشہ کچھ نئی بات سیکھنا ہوتی ہے...

پریس کا جو لکھتا ہے وہ ہمیں دکھانے کا یہ سب کچھ بھی...شہر کی پوری زندگی جاری رہے...اس سے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ شہر میں ایسا ایک محبت تھی جو اور نہیں آئے گی.
 
بہت دیر سے لانڈھی انڈسٹریل ایکسپورٹ زون میں ہمیشہ کوئی اچھا نہیں رہا، پہلی بار وہ ناواقف مظالم سے ہٹ گئے تھے تو، اب وہ چور چوری کر رہے ہیں، پھر ان کے باوجود بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا جو اچانک لگنے والی آگ کی طرح چومنیوں پر نئی زبردستی لگ رہی ہے، میرے خیال میں یہ واقعات تو ایسے ہیں جو شہر کے ذہن سے باہر ہوتے ہیں، ہم پچھلے دنوں کی طرح دیکھ رہے ہیں تو ہمیں ناڈت اور پکڑت کا احساس ہوتا ہے۔
 
آگ لگی ہوئی فیکٹری سے ڈرپ ہو کر دوسرے شہر بھی نکل پڑ رہا ہے۔ اچانک لگنے والی آگ کی وجہ سے ابھار کے ذریعے فائر بریگیڈ کو ہٹانا پڑ رہا ہے جس کی وہی تلاش کر رہے ہیں اور ابھار سے اس میں ہمت نہیں کمانڈرز کو موثر طریقے سے فائر برگیڈ پر رکاوٹ پانے کی کوشش کرتے دیکھتے ہیں۔
 
اس سے قبل ہم نے پتہ چلا تھا کہ یہ ایسا وقت آتا ہے جب اس کی پیشن گوئی کی ضرورت نہیں اور پوری دuniya کو بھگٹانے والا ایک ایسا فیکٹری لگ جاتا ہے، ایسا کہ شہر بھر میں چلنے کی صورت میں بھی اچانک لگنے والی آگ کیسے نہ آئے؟
مگر اب یہ سائنسی وغیرہ کا واقعہ ہو رہا ہے، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون پر پھیریں گی، اچھا تو پانی بھی فراہم کیا جا رہا ہے، چل اور؟
 
تoba کا یہ واقعہ ہی نہیں، بلکہ پانی کی کمی ہی سے ہر کس کا دماغ تھا! لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں ایک اچانک لگنے والی آگ کا واقعہ ہوا، جس کی وجہ سے شہر بھر پر شدت پڑی۔ فائر بریگیڈ نے جلد ہی اس علاقے میں پہنچ کر کوشش کی کہ وہ آگ پر قابو پائیں۔

اس واقعے سے بعد والا کام یہ ہے کہ اس زون کے لوگوں کو ایک نئی پلاٹ فارم بنانے میں مدد ملے اور انھوں نے اپنی اپنی تجریبات کا شعبہ بنایا ہے۔ اس سے فائر بریگیڈ کے لوگ بھی بہت پہلے سے کوشिश کر رہے تھے اور اب ان کو بھی مہارت حاصل ہو چکی ہے!

اس کے علاوہ، اس واقعے نے لوگوں کی جانب سے ایک پہلی پلاٹ فارم کی تجربہ کرنے کی ترغیب دی ہے جس پر ایک مائیکرو بلاک ایچ آئی وے کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے لوگ اپنے شہر میں فائر بریگیڈ کے سامنے جو محفوظ رہتے ہیں ان کی مدد کو یقینی بنانے کے لیے اپنی اپنی پلاٹ فارم تیار کرنے لگے ہیں۔
 
اس واقعے پر بات کر رہے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں ہونے والی آگ کا سبب بھی یہی نہیں بلکہ ان فیکٹریوں کی اچھی سی منصوبہ بندی نہیں کہی گئی تھی۔ پانی کو اچھی طرح ذخیرہ نہیں کیا گیا، جس سے آگ فوری طور پر ہو گئی۔
 
اس واقعے نے کراچی میں شدت پیدا کر دی ہے، لیکن پچھلے روز اس فیکٹری میں ایک لگنے والی آگ کی گئی تھی جس کا نتیجہ اچانک لگنے والی آگ کی ہو سکتی ہے، لیکن ہمارے قریبی ریکارڈ دکھاتے ہیں کہ فائر بریگیڈ نے جب اس پورے واقعے کو سامنا کیا تو انھوں نے بہت ہی صممت اور قیمتی کارروائی کی، اگر یہ فیکٹری میں کسی تھرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کا واقعہ ہوتا تو ایسا کرنے والے شخص کو ہمارے شہر میں بھی گھبراہٹ اور خوف و ہراس پھیلانے سے بچایا جا سکتا تھا!
 
اس واقعے سے قبل یہ بھی بات تھی کہ اس فیکٹری میں ایسی صورتحال کی可能性 ہی نہیں تھی؟ اب کیا حالات بنے پھر کئی گاڑیاں روانہ ہوئیں? یہ صرف واضح کرنا ہے کہ شہر بھر میں اس واقعے سے متعلق کوئی ایسی پوری جानकारیت نہیں دی گئی تھی؟

اس واقعے سے با پہلے ڈپٹی میئر کے پاس ایسا کوئی فوری نوٹس نہیں تھا کہ انھوں نے خود اس جگہ پہنچ کر ریسکیو آپریشن کی نگرانی شروع کر دی? یہ سارے کام کیا چولہے پر بھی ہوسکتے تھے؟

اس واقعے نے شہر میں شدت فراہم کی، لیکن ڈپٹی میئر اور فائر بریگیڈ کے لیے اس سے قبل کیا کام کیا تھا؟ انھوں نے اس واقعے سے قبل ہی یہ بات بتائی ہوتی کہ اس جگہ پر ایسا واقعہ پھیلنا مشکل ہے?
 
کیا یہ واقعہ ایسا ہی ہوا جو ہر وقت توقع کیا جاتا تھا! لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں آگ کی لگن نالوں پر رہی ہوگی تو یہ سچ جانتے پھر! اب شہر بھر پر ہمیشہ کی طرح گھبراہٹ کا ماحول رہ گیا ہے اور دھماکوں کا نیا تذکرہ ہونے پر شہریوں نے بھی سڑکوں پر لگنے والی آگ کی واقعت کو تسلی بخش نہ سمجھا۔ اب ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں ہونے والے یہ واقعات کے بعد ان شہروں میں جسمانی اور ذہنی تباہی کی پھرک نکل رہی ہے جو اب تک ایسا بھی نہیں ہوا تھا.
مگر ان کے باوجود، اس واقعے کے بعد فائر بریگیڈ کی جانب سے دھماکہ پھوگنے کا یہ کوشش ہمارے شہر کو واپس چلا آئے گا.
 
یہ واقعہ کراچی کے صنعتی علاقے لانڈھی میں ہوا، جس سے شہر بھر پرShockwaves پہنچ گئے!

اک اچانک لگنے والی آگ نے فیکٹری کو تباہ کر دیا اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب ہوئیں۔ اس کے بعد ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اپنے ہاتھوں ریسکیو آپریشن کی نگرانی شروع کر دی!

لیکن یہ بات یقینی بنا دیر ہوگئی کہ مختلف شاہراہوں پر جاری احتجاج کے باعث فائر بریگیڈ کی آمدورفت میں مشکلات پیش آئیں، تاہم ادارے مکمل تعاون کے ساتھ آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں

اج کل فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور آگ پر مکمل قابو پانے تک سپلائی جاری رہے گی!
 
واپس
Top