برطانیہ میں ایک واضح خطرہ کی صورت حال میں آئی جب برطانوی ائیر لائن کا ایک طیارہ نیواڈا ائیرپورٹ سے لینڈ کرنے اڑتا تھا۔ اس وिमانے پر اچانک پہیہ ٹوٹ جاتا ہوا جو نیچے گر گیا۔
اس حادثے کا مظاہر یہ تھا کہ ویمنز سے لندن جانے والے اس طیارے پر پہلے ایک پہیہ ٹوٹ گیا جس سے وہ نیچے گر گئا۔ اس حادثے کے بعد توڑے ہوئے پہلے پہلو کی وجہ سے یہ بات سامنے نہیں آئی کہ وہ پہیہ ٹوٹ کر ویمنز کے لینڈنگ پر اترا تھا یا نہیں، اس حادثے کی ایک بھی نائکائی نہیں ہوئی۔
اس حادثے میں پرواز کی ساتھ ہی یہ بات سامنے آئی کہ پیلٹ نے محنت کے بغیر اور ٹیک آف کے دوران اس پہلے پہلو کی وجہ سے توڑے ہوئے ویمنز کو نیچے جانے دیتے ہوئے پہلے پہلو کو ٹھیک کرکے بحفاظت لندن اترا تھا۔ اس کی وجہ سے پرواز جاری رہی اور ایسے کہا گیا کہ یہ 27 منٹ قبل سے لینڈ ہو چکا تھا، لیکن یہ حقیقت یہ تھی کہ ویمنز کو نیچے جانے دیتے ہوئے اس پہلو کی وجہ سے انھیں لینڈ کرنے پر پھنسایا گیا تھا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ بھی 27 منٹ قبل سے نیچے اتر چکے ہیں۔
اب تک اس حادثے کی ایک بھی نائکائی نہیں ہوئی۔ تحقیقات جاری ہیں۔
اس حادثے کا مظاہر یہ تھا کہ ویمنز سے لندن جانے والے اس طیارے پر پہلے ایک پہیہ ٹوٹ گیا جس سے وہ نیچے گر گئا۔ اس حادثے کے بعد توڑے ہوئے پہلے پہلو کی وجہ سے یہ بات سامنے نہیں آئی کہ وہ پہیہ ٹوٹ کر ویمنز کے لینڈنگ پر اترا تھا یا نہیں، اس حادثے کی ایک بھی نائکائی نہیں ہوئی۔
اس حادثے میں پرواز کی ساتھ ہی یہ بات سامنے آئی کہ پیلٹ نے محنت کے بغیر اور ٹیک آف کے دوران اس پہلے پہلو کی وجہ سے توڑے ہوئے ویمنز کو نیچے جانے دیتے ہوئے پہلے پہلو کو ٹھیک کرکے بحفاظت لندن اترا تھا۔ اس کی وجہ سے پرواز جاری رہی اور ایسے کہا گیا کہ یہ 27 منٹ قبل سے لینڈ ہو چکا تھا، لیکن یہ حقیقت یہ تھی کہ ویمنز کو نیچے جانے دیتے ہوئے اس پہلو کی وجہ سے انھیں لینڈ کرنے پر پھنسایا گیا تھا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ بھی 27 منٹ قبل سے نیچے اتر چکے ہیں۔
اب تک اس حادثے کی ایک بھی نائکائی نہیں ہوئی۔ تحقیقات جاری ہیں۔