امریکی پاپ سenger ٹیلر سوئفٹ کی دیرینہ دوست بلیک لائیولی نے ایسے پیغامات منظر عام پر دیے ہیں جس کے بعد دوستی میں ایسی دراڑ پائی گئی ہے جو بے نقاب ہوگئی ہے۔
جسٹن بالڈونی کی جسٹن بالڈونی کے خلاف جاری مقدمے میں حال ہی میں سامنے آنے والی قانونی دستاویزات منظرِ عام پر آئیں اور دونوں دوستوں کے درمیان ہونے والے مبینہ ٹیکسٹ پیغامات شامل ہیں۔
ایک پیغام میں بلیک لائیولی نے یہ لکھا ہے کہ ’پوچھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں، لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ مجھے پوچھ لینا چاہیے‘۔ اس سے بعد میں ٹیلر سوئفٹ نے پیغام کا جواب دیا اور کہا کہ ’مجھے پچھلے چند مہینوں سے یہ محسوس کر رہی تھی کہ تمہارا مجھ سے بات کرنے کا انداز بدل رہا ہے‘۔
اس پیغام میں بلیک لائیولی نے مزید یہ کہا کہ ’مجھے بس اپنی وہی ہنس مکھ، قدرے تلخ مزاح رکھنے والی، سادہ انداز میں بات کرنے والی دوست یاد آتی ہے جو مجھ سے بات کرتی تھی‘۔
اس سے بعد ٹیلر سوئفٹ نے مزید کہا کہ ’مجھے بس اپنی وہی ہنس مکھ، قدرے تلخ مزاح رکھنے والی، سادہ انداز میں بات کرنے والی دوست یاد آتی ہے جو مجھ سے بات کرتی تھی‘۔
اس پیغامات نے دوستی میں ایسی دراڑ پائی گئی ہے جس کے بعد دونوں دوستوں کے درمیان ایک فاصلہ آ گیا ہے۔ بلیک لائیولی نے ٹیلر سوئفٹ کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے مانا کہ وہ خود کو غلط سمجھے جانے کے احساس کی وجہ سے سادہ باتوں کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کررہی تھیں۔
جسٹن بالڈونی کی جسٹن بالڈونی کے خلاف جاری مقدمے میں حال ہی میں سامنے آنے والی قانونی دستاویزات منظرِ عام پر آئیں اور دونوں دوستوں کے درمیان ہونے والے مبینہ ٹیکسٹ پیغامات شامل ہیں۔
ایک پیغام میں بلیک لائیولی نے یہ لکھا ہے کہ ’پوچھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں، لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ مجھے پوچھ لینا چاہیے‘۔ اس سے بعد میں ٹیلر سوئفٹ نے پیغام کا جواب دیا اور کہا کہ ’مجھے پچھلے چند مہینوں سے یہ محسوس کر رہی تھی کہ تمہارا مجھ سے بات کرنے کا انداز بدل رہا ہے‘۔
اس پیغام میں بلیک لائیولی نے مزید یہ کہا کہ ’مجھے بس اپنی وہی ہنس مکھ، قدرے تلخ مزاح رکھنے والی، سادہ انداز میں بات کرنے والی دوست یاد آتی ہے جو مجھ سے بات کرتی تھی‘۔
اس سے بعد ٹیلر سوئفٹ نے مزید کہا کہ ’مجھے بس اپنی وہی ہنس مکھ، قدرے تلخ مزاح رکھنے والی، سادہ انداز میں بات کرنے والی دوست یاد آتی ہے جو مجھ سے بات کرتی تھی‘۔
اس پیغامات نے دوستی میں ایسی دراڑ پائی گئی ہے جس کے بعد دونوں دوستوں کے درمیان ایک فاصلہ آ گیا ہے۔ بلیک لائیولی نے ٹیلر سوئفٹ کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے مانا کہ وہ خود کو غلط سمجھے جانے کے احساس کی وجہ سے سادہ باتوں کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کررہی تھیں۔