یکم فروری سے پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان

ہاتھی

Well-known member
انبیا میں یہ بات سامنے آئی کہ یکم فروری سے پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد پٹرولیم ڈویژن نے ابتدائی ورکنگ تیار کرلی ہے جس میں اس بات کی واضح تجویز کی گئی ہے کہ یکم فروری سے ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافے کا امکان ہے جس سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یکم فروری سے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں کمی کا امکان ہے جس سے شہریوں کو نئی hope ملی ہے۔ تاہم مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے جو شہریوں کو مزید problem سے دوچکھا دے گی۔

وزیراعظم کی منظوری کے بعد پٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کا باقاعدہ اعلان کرنے کا اعلان کیا ہے جو یکم فروری سے لگ بھگ 15 فروری تک نافذ العمل رہیں گی۔
 
ایسے میں ہی، ایک اور بڑا حیرت کا مسئلہ سامنے آتا ہے جس سے شہروں میں رہائش گزاروں کو Problem سے دوچکھا پہنا پڑے گا، یہ بات کہ پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ پڑھایے گا!

لیکن، یہ بات بھی کوئی نہ کوئی خوشگوار ہے کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں کمی کا امکان ہے، جو شہریوں کو نئی hope دیے گی! مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا بھی خطرہ ہے لیکن، یہ بات بھی کوئی نہ کوئی سچائی ہے کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے جو شہریوں کو مزید Problem سے دوچکھا دے گی!

اب، یہ بات صرف ایک بات ہے کہ 15 فروری تک نافذ عمل رہنے والی نئی قیمتوں پر توجہ دینا، شہروں میں شگفہ اور Problem سے دوچکھا پڑنے کا خطرہ ہو گا!
 
ایسا مینے دیکھا ہے کہ اگر پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں کمی آئے تو یہ بہت بہتر ہوگا ، لیکن اس پر ایکCondition ہے کہ مٹی کا تیل کی قیمت کوControl کرنا پڑے گا اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے ، یہ سارے Things کچھ ہی مشوروں کے ساتھ آ رہے ہیں ، لگتا ہے کہ یہ 1 فروری سے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں کمی آئے گا لیکن مٹی کا تیل کی قیمت کوControl کرنا پڑے گا اور شہریوں کو ایسا بھیHope ملے گا کہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید دباؤ نہ پڑے
 
ایسے میں کیوں؟ پٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان ہے، لیکن تو سب جانتے ہیں کہ یہ سستائی نہیں ہو گی۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد پٹرولیم ڈویژن نے بھی ایسی ہی رائے دی جس میں ڈیزل کی قیمت میں اضافے اور پٹرول کی قیمت میں کمی ہونے کا امکان ہے۔ یہ دوسری بار سے آ رہا ہے کہ اس کسے فائدہ اٹھائے گا؟ شہریوں کو نئی hope ملی ہے، لیکن یہHope کیا ہے? تو صرف ایک بھرو کرنا ہے، پتلی تیل کی قیمت میں اضافے سے شہریوں کو Problem ڈالنا ہی اور دوسرے کا ناکام بنانا ہی پٹرولیم ڈویژن کا مقصد ہے۔ 15 فروری تک ان ہی نئی قیمتوں کو لگایا جانے والا ہے، لیکن یہ بھی ایک ڈرامہ ہے کہ کیا یہ قیمتوں کو لگانے میں کامیاب ہو گئے؟
 
کیا یہ ایک گھنٹے کی خواہش ہے کہ شہریوں کو اس وقت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی مل سکے؟ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر ہو رہا ہے، اس سے ہمیں فائدہ پہنچنا چاہئے؟ آج کی نئی قیمتوں میں شہریوں کے لیے کوئی معقولیت کیسے رکھی جائے? یہ بات صرف وزیراعظم کی منظوری پر ہونے والے نئے نظام سے محفوظ ہو سکتی ہے نہیں؟ 😬
 
ایسے میں اور بھی پٹرول کی قیمتوں پر دباؤ پڑنے کا خوف ہوتا ہے، یوں تو ایک طرف سے شہریوں کو رینج میں کمی ملتی ہے اور دوسری طرف ڈیزل کی قیمت وچ اضافے کا خوف رہتا ہے، مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہوتا ہے، اور شہروں کی ٹرانسپورٹ سسٹم پر مزید دباؤ پڑنا تو نہیں چاہیے، یوں ایک سال سے زیادہ عرصے سے آزما میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خوف رہتا ہے، میرے لئے یہ بات خوشی ہے کہ ایک بار پھر 15 فروری تک قیمتوں پر پابند رہنے کی تجویز کی گئی ہے تو آسانی سے نافذ عمل ہوسکتا ہے، لیکن یوں بھی ایسا ہونے کا خوف رہتا ہے کہ اس میں آگے کو کوئی تبدیلی نہیں آئے گا؟
 
یہ بات کی وحشت ہوگی کہ وزیراعظم نے فی لیٹر قیمت میں اضافے کی تجویز کی ہو اور ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہو . شہریوں کے لئے یہ بھی حیرانی جو کی جاسکتی ہے کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا خوف اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں اضافے کی تجویز بھی پائی گئی ہے .

لوگ کیا یہ ان کی فیکٹریوں سے ٹیکس کم کرنے والا کہیں رہا ہے؟ یہ نہ تو شہر میں آئندہ موسم میں گھروں کو تیل بھرتے ہیں، نہ ہی ٹرانسپورٹ میں تیز رفتار ڈیزل اور نہ ہی ایسی چیزوں کی خریداری ہوتی ہے جس کے لیے لوگ اپنے دائمی مصنوعات کو چاہتے ہیں. یہ سچی بات ہے کہ اس میں کھوہ۔
 
میں بتایا tha ki پترولیم ڈویژن نے ایک بار फिर اپنے شہر میں گینز کھیل دیا ہوگا اور اب ڈیزل کی قیمت میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے، مگر وہ کہتے رہنے گے کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی ہوگی اور پٹرول کے برعکس، یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شہری مٹی کا تیل خریدنے لگن گے اور جس کی قیمت میں اضافہ کر رہا ہو، وہ بھی نہیں دیکھتے ہیں، اور اب انہوں نے لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہوگا، یہ ایسی چیز ہے جو شہری کو ڈر کے ساتھ نکل دیتی ہے، اور اب انہیں پترولیم ڈویژن نے بتایا ہوگا کہ نئی قیمتوں کا اعلان ایک ماہ تک رہے گا، جس کے بعد بھی انہیں شocker ملنے والی باتوں سے نکلنا پڑega 😏
 
یے تو پٹرولیم کی قیمتوں میں بہت چیلنج آ رہا ہے! یہ بات کوئی بھی نظر نہیں سکتا، ایک طرف پٹرول سستا ہونا اور دوسری طرف ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان ہے؟ یہ تو شہروں میں سے نکل کر گلاہی چل رہا ہے!

جب یہ بات سامنے آئی کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں کمی کا امکان ہے تو میرے لئے یہ ایک بہت نیک نیوٹ سنیٹلا ہے! لیکن پھر اور پھر، مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا خیال تو نہیں آتا ۔ یہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا باعث بھی ہو سکتا ہے!

لائیٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں اضافے کی تجویز تو تو ناکام ہونے والی ہے! یہ شہروں کے لئے ایک بھارپور problem ہوگا!
 
میں سوچتا ہوں کہ اگر یہ بات سامنے آئے کہ پٹرول سستا ہونے اور ڈیزل مہنگا ہونا یقینی ہو جائے تو اس پر زبانی سرگرمی نہیں کی جائے گی۔ آپ کتنی چھٹکنی کی بھی ہو، اگر ٹرانسپورٹ اور اشیاء ضروریہ کے prices بھی زیادہ ہوجائیں تو یہ کتنے لوگوں کو problem پر دیکھے گا?
 
میری بات یہ ہے کہ petrol اورDiesel کی قیمتوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافے کا امکان ہے۔ اس سے نکلنے کا ایک طریقہ یہ ہوگا کہ وزیراعظم کو اپنی عہدت کے دوران بہت سے کاروباری اور سماجی ماحول کی problems کی حل کرتے رہنے کا اعلان کریں۔


پٹرولیم ڈویژن کی نئی قیمتوں پر توجہ دینا بھی ضروری ہے، اگر ان کے ساتھ ساتھ شہریوں کو کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے تو یہ بہت اچھا ہوگا۔

 
واضح طور پر یہ بات سامنے آئی کہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد پٹرولیم ڈویژن نے ابتدائی ورکنگ تیار کی ہے لیکن مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے شہریوں کو اچھی نئی hope مل سکتی ہے لیکن اس کی واضح تجویز نہیں کی گئی ہے۔

ایک دوسرے طرف، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ بھی ظاہر ہے جس سے شہریوں کو تقلب کرنا پڑے گا لیکن یہ بات کرتے ہوئے کہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد پٹرولیم ڈویژن نے ابتدائی ورکنگ تیار کی ہے تو واضح طور پر اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ پوری صورتحال کو انسaf karna چاہئے۔

میں یہ بتانا چاہonga کہ یہ بات کی واضح تجویز نہیں کی گئی ہے جس سے شہریوں کو اچھی hope ملی ہے لیکن اس بات پر اور ان لوگوں پر غور کرنا چاہئے جو نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
 
واپس
Top