فری فائر کنگ
Well-known member
اس وقت پاکستان کی ایک اہم مہنگی درآمدی گندم پوسٹ اسکوپ 22 ارب روپے نقصان کا اندیشہ دہ معاملہ بن گیا ہے جس پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ای سی سی کا اجلاس رہا تھا۔
اس گندم کا سٹاک اس وقت پاکستان میں پڑی 294,994 میٹرک ٹن درآمد کیا گیا تھا جو اب بھی پاسکو کے گوداموں میں رکھی ہوئی ہے۔ اس سٹاک کو مسابقتی بولی کے ذریعے نیلام کرنے کی منظوری دی گئی ہے جو فاضل ذخیرے کو ٹھکانے لگانے، ذخیرہ کرنے کے اخراجات کم کرنا، مقامی گندم مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام، فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا جیسے مقاصد سے منسلک ہے۔
انجھی مہنگی درآمدی گندم میں بھی 3 لاکھ ٹن شامل ہے جو کی چیٹ نیل میں سبسڈائزڈ نرخوں پر فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس سے خزانے کو 20.5 ارب سے لے کر22 ارب روپے کا مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔
آخری فیصلے میں ای سی سی نے گندم کیلیے مقامی مینٹ کو 4,400 روپے اور درآمدی گندم کیلئے4,070 روپے کی ریزرو قیمت کی منظوری دی جس سے اس کے اندر بہت سا نقصان پڑنے کا خاطہ ہوگا۔
ای سی سی کو بتایا گیا تھا کہ ایسے قیمتوں پر گندم کو فروخت کرنے سے خزانے کو 2,355 روپے فی چالیس کلو گرام کا نقصان برداشت کرنا پڑی گا اور اس مقصد کیلئے 5 لاکھ ٹن گندم کو ٹھکانے لگانے پر 20.5 ارب سے22 ارب روپے تک کی مالی خسارے کا اندیشہ ہے جس میں سالانہ لاگت 11 ارب روپے سے زیادہ ہے۔
اس گندم کا سٹاک اس وقت پاکستان میں پڑی 294,994 میٹرک ٹن درآمد کیا گیا تھا جو اب بھی پاسکو کے گوداموں میں رکھی ہوئی ہے۔ اس سٹاک کو مسابقتی بولی کے ذریعے نیلام کرنے کی منظوری دی گئی ہے جو فاضل ذخیرے کو ٹھکانے لگانے، ذخیرہ کرنے کے اخراجات کم کرنا، مقامی گندم مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام، فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا جیسے مقاصد سے منسلک ہے۔
انجھی مہنگی درآمدی گندم میں بھی 3 لاکھ ٹن شامل ہے جو کی چیٹ نیل میں سبسڈائزڈ نرخوں پر فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس سے خزانے کو 20.5 ارب سے لے کر22 ارب روپے کا مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔
آخری فیصلے میں ای سی سی نے گندم کیلیے مقامی مینٹ کو 4,400 روپے اور درآمدی گندم کیلئے4,070 روپے کی ریزرو قیمت کی منظوری دی جس سے اس کے اندر بہت سا نقصان پڑنے کا خاطہ ہوگا۔
ای سی سی کو بتایا گیا تھا کہ ایسے قیمتوں پر گندم کو فروخت کرنے سے خزانے کو 2,355 روپے فی چالیس کلو گرام کا نقصان برداشت کرنا پڑی گا اور اس مقصد کیلئے 5 لاکھ ٹن گندم کو ٹھکانے لگانے پر 20.5 ارب سے22 ارب روپے تک کی مالی خسارے کا اندیشہ ہے جس میں سالانہ لاگت 11 ارب روپے سے زیادہ ہے۔