پی ٹی آئی رہنماTimur Salim Jhagra نے دعویٰ کیا ہے کہ 1 لاکھ 49 ہزار 782 ووٹ شہرناز عمر ایوب کو ملے، جبکہ 1 لاکھ 24 ہزار 686 ووٹ بابر نواز کو ملے، لیکن انہوں نے ایسی بات کو ظاہر کیا ہے جو یہ پتہ چلتا ہے کہ الیکشن میں بھی کچھ اچھی طرح مخفی رکھے گئے تھے۔
اس्लام آباد میں ایک پریس کانفرنس پر انہوں نے کہا، "انصاف کی پارٹی کے اس حوالے سے 600 فارم لکھے تھے اور ان کی ووٹوں میں ایک کتاب بھی رکھی گئی تھی جس میں نتیجہ یہی تھا کہ شہرناز عمر ایوب کو 1 لاکھ 49 ہزار 782 ووٹ ملے اور بابر نواز کو 1 لاکھ 24 ہزار 686 ووٹ ملے۔"اس وقت انہیں یہ بات بتا دی گئی کہ انصاف کی پارٹی نے اس الیکشن میں 25 ہزار ووٹ لیا ہے جو یہ پتہ چلتا ہے کہ الیکشن میں کچھ اچھی طرح مخفی رکھے گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا، "ریاست میں وزیر اعظم کی پوزیشن سے ہٹ کر وزیر اعلیٰ کی پوزیشن پر فائز ہونے کے بعد انہیں ایک بھی دوسرے انتخاب میں نہیں آئا، جس کی وہ لگت گئی تھی کہ 2 روز قبل ہی اس نے وزیر اعلیٰ کو ایسی ساتھی سہلا دے دی تھی جو اس کے لیے ایک اچھا واضح انتخاب ہو گیا تھا۔"
انہوں نے کہا، "جب الیکشن 8 فروری کو ہوا تو اس سے 2025ء کے ضمنی الیکشن میں اسی طرح کے ہی واقعات ہوئے جیسے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسے ہی واقعات کچھ دیر سے قبل لاحق تھے، اگر قانون کی حکمرانی اس وقت نہ ہوتی تو ووٹوں میں کوئی بھی سرمایہ کاری کر سکتا تھا۔"
پاکستان پی ٹی آئی رہنما نے کہا، "الیکشن کمیشن نے صرف ایک کاغذ فارم 47 ریلیز کیا ہے، لہٰذا کچھ اربوں روپے الیکشن کے نام پر ضائع کیے جا رہے ہیں جس سے یہ بات بھی پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی لاہور میں کوئی انتخابی مہم نہیں چلا سکے۔"
انہوں نے مزید کہا، "مسلم لیگ اور کیپٹن صفدر نے اپنی مرضی سے ہی الیکشن میں مہم چلوائی تھی، لیکن اس پر الیکشن کمیشن کے ملازمین کا ہاتھ بھی رہا تھا، یہ تو واضح ہو گیا کہ ڈی آر او میں کچھ بدلाव آ رہا تھا جو ان کی مرضی سے نہیں تھا۔"
پی ٹی آئی رہنماTimur Salim Jhagra کے کہتے ہیں، "مسلم لیگ اور کیپٹن صفدر نے اپنی مرضی سے الیکشن میں مہم چلوائی تھی، لیکن اس پر الیکشن کمیشن کے ملازمین کا ہاتھ بھی رہا تھا جس کی وہ لگت گئی تھی کہ ان کی مرضی سے نہیں تھا۔"
اس्लام آباد میں ایک پریس کانفرنس پر انہوں نے کہا، "انصاف کی پارٹی کے اس حوالے سے 600 فارم لکھے تھے اور ان کی ووٹوں میں ایک کتاب بھی رکھی گئی تھی جس میں نتیجہ یہی تھا کہ شہرناز عمر ایوب کو 1 لاکھ 49 ہزار 782 ووٹ ملے اور بابر نواز کو 1 لاکھ 24 ہزار 686 ووٹ ملے۔"اس وقت انہیں یہ بات بتا دی گئی کہ انصاف کی پارٹی نے اس الیکشن میں 25 ہزار ووٹ لیا ہے جو یہ پتہ چلتا ہے کہ الیکشن میں کچھ اچھی طرح مخفی رکھے گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا، "ریاست میں وزیر اعظم کی پوزیشن سے ہٹ کر وزیر اعلیٰ کی پوزیشن پر فائز ہونے کے بعد انہیں ایک بھی دوسرے انتخاب میں نہیں آئا، جس کی وہ لگت گئی تھی کہ 2 روز قبل ہی اس نے وزیر اعلیٰ کو ایسی ساتھی سہلا دے دی تھی جو اس کے لیے ایک اچھا واضح انتخاب ہو گیا تھا۔"
انہوں نے کہا، "جب الیکشن 8 فروری کو ہوا تو اس سے 2025ء کے ضمنی الیکشن میں اسی طرح کے ہی واقعات ہوئے جیسے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسے ہی واقعات کچھ دیر سے قبل لاحق تھے، اگر قانون کی حکمرانی اس وقت نہ ہوتی تو ووٹوں میں کوئی بھی سرمایہ کاری کر سکتا تھا۔"
پاکستان پی ٹی آئی رہنما نے کہا، "الیکشن کمیشن نے صرف ایک کاغذ فارم 47 ریلیز کیا ہے، لہٰذا کچھ اربوں روپے الیکشن کے نام پر ضائع کیے جا رہے ہیں جس سے یہ بات بھی پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی لاہور میں کوئی انتخابی مہم نہیں چلا سکے۔"
انہوں نے مزید کہا، "مسلم لیگ اور کیپٹن صفدر نے اپنی مرضی سے ہی الیکشن میں مہم چلوائی تھی، لیکن اس پر الیکشن کمیشن کے ملازمین کا ہاتھ بھی رہا تھا، یہ تو واضح ہو گیا کہ ڈی آر او میں کچھ بدلाव آ رہا تھا جو ان کی مرضی سے نہیں تھا۔"
پی ٹی آئی رہنماTimur Salim Jhagra کے کہتے ہیں، "مسلم لیگ اور کیپٹن صفدر نے اپنی مرضی سے الیکشن میں مہم چلوائی تھی، لیکن اس پر الیکشن کمیشن کے ملازمین کا ہاتھ بھی رہا تھا جس کی وہ لگت گئی تھی کہ ان کی مرضی سے نہیں تھا۔"