مین ہول میں گر کر جاں خاتون کے شوہر پر تشدد کا میڈیکل کروانے کا فیصلہ | Express News

آن لائن یار

Well-known member
لاہور میں مین ہول میں گر کر ہلاک ہونے والی خاتون سعدیہ کے شوہر غلام مرتضیٰ پر شہری جہاد کی ایسی حادثہ ہوئی جس نے ان کے شوہر کی جان کو بھی لے لیا تھا جس سے وہ اس وقت تک زندہ نہ رہے گا جتنا اس میں میرے ہاتھ ہوگا۔

ان حادثے کے بعد وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے غلام مرتضیٰ پر تشدد کی شدید condemning کیا اور ان کی جانب سے شہری جہاد کرنے والوں کی جان کا احترام کیا ۔

غلام مرتضیٰ کا معاشی و ماحولीय درجہ حال اس حادثے کے وقت کافی کمزور تھا جس لیے ان کی بیوی سعدیہ کی جان بھی لے گئی اور غلام مرتضیٰ کو اس حادثے میں دباؤ ڈالتا رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ انہیں بیوی کے قتل کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

اس حادثے میں دوسرے لوگ بھی پرتلاپ ہوئے تھے اور انہوں نے اس جہاد کی تعمیل کرنے والے غلام مرتضیٰ کو تشدد کا شکار بنایا۔

غلام مرتضیٰ کا میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ان پر تشدد کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہونے کا امکان ہے، لیکن اس حادثے نے ہی پورا ماحول بھکھم ہو گیا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ وہ جس جہاد کرنے والے ہوئے ان کی جان کو بھی لے لیا تھا۔
 
ایسا بات ہی ہو گیا ہے نا؟ ایک بڑے شہر میں ایسے دباؤ ہوتے ہیں جو لوگوں کو اپنی جان کھونے پر مجبور کرتے ہیں اور پھر یہ لوگ جہاد کی حوالے سے ایسا کیا جاتا ہے جس سے وہ اپنی زندگی کو بھی نہ رکھ سکیں۔ میرے خیال میں یہ بھی ان کا دوسرا بہت سایہ تھا کہ وہ اس شہری جہاد کو اس لیے شروعات کیوں کیں اور ان کے ساتھ رہ کر نہیں؟ 🤔
 
ایسا تو نہیں چلا، پہلی بار میں سڑک پر گिर کر ماری جائیگی تو نہیں؟ ان شہری جہاد کے لوگوں کی جانوں کو بھی لینا ہوتا تو نہیں چلا کہ وہ ایسے حالات میں ہی پڑتال کرتے تھے جو غلام مرتضیٰ کو مارنے سے بھی زیادہ گمشنہ ہوتا تھا۔ میرے خیال میں ان شہری جہاد کی کارروائیوں پر پابندی لگا دی جا سکتی اور ان لوگوں کو اچھی طرح سے شikaya jaye جو وہ کیا کر رہے ہیں۔
 
اس حادثے نے ہمیں ایک سافرانے کی کہانی دیکھنی پڑی ہے جس پر کبھی رات کی چار پہچان نہیں ہوتی۔ ایسا ہی غلام مرتضیٰ کا حادثہ ہوا جو اس وقت تک زندہ رہنا تھا جتنے اس میں مجھے ہاتھ ہوگا۔ ان شہری جہاد کی جان کی واپسی سے کبھی کچھ نہ ہوا دیکھنا پڑے گا۔
 
🤔 کیا تموں نے پکدویا اور میرے پاس ایک ایسا کچن سٹول تھا جو ایک دفعہ کھانے کے بعد وہیں رہ جاتا تھا... اور یہ بات کیوں نہ سوچو کہ ہمیں اسے کھینچنا چاہیے? میرے بھائی کے پوتروں نے کچھ دن قبل میٹرول کیا تھا اور وہ جس کچن سٹول پر انہوں نے اس کا رخ بدلایا ہوتا تو اسی طرح شہری جہاد کی حادثات بھی اپنی taraf آتے ہیں... یہ بتاؤ کیا سیکورٹی کے لئے ہمیں اس کے بجائے کسی دوسرے سٹول کو استعمال کرنا چاہیے؟
 
عشق کی ایسی طاقت ہوتی ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے قتل پر مجبور کر سکتی ہے اور یہی واقعہ ان لوگوں سے ہوتا رہا جس نے اپنی بیوی کی جان بھی لے لی تھی۔ یہ ایک غلط فہمی کا مظاہرہ ہے اور اس پر پورا شہر گورہا ہو گیا ہے۔ میری ایڈیشنل ٹیکنالوجی نہیں لگتی کہ سوشل میڈیا پر یہ واقعات کو سنسائز کرنے کی کوئی اچھی طرح کوشش ہوئی ہو گا، جس سے عوام کے ذہن میں ایک بہتر واضحہ پیدا ہوسکتا ہے۔
 
ابھی اس ماحول میں یہ حادثہ ہو گیا تو دوسرے لوگ بھی شہری جہاد کی طرح بیٹھ گئے! ان لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ سچائی اور قانون کیا ہے؟ غلام مرتضیٰ کا شوہر شہری جہاد کی طرف دوڑنے والے اس عورت کے شوہر کو کبھی سچائی کی بات نہیں آئی?
 
اس حادثے پر تو بہت غصہ آ رہا ہے، مگر یہ سوال ہے کہ وہ لوگ جو شہری جہاد میں شامل ہو رہے ہیں، ان کی فیکٹری اور گھر کا معاشی درجہ حال کیا ہوتا ہے؟ لالچ اور ناکامपन سے ہی یہ لوگ ایسی بدعمندیوں میں رہتے ہیں۔
 
اس حادثے سے پتہ چلتا ہے کہ شہری جہاد میں شامل ہونے والوں کی جانب سے ماحول کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ حادثہ ان کے معاشی و ماحولیاتی درجہ حال کے بارے میں بھی بتاتا ہے جس نے ان کی جان اور بیوی کی جان لے گئی ہے۔ اس حادثے نے وہ لوٹیپنہ جو لوٹیپنہ کے طور پر نہیں آ رہا، لیکن یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر حادثے میں ایسے ہی ماحولیاتی نقصانات لگتے ہیں جو انسانیت کو چیلنج کرتے ہیں۔
 
اس حادثے سے پورا لاہور زکام میں ہوا ہے اور یہ ہمیں دیکھنا بھی پڑ رہا ہے کہ کسی شخص کو اور ایسا ہونا چاہیے نہیں۔ غلام مرتضیٰ کی جان سے لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی زندہ ہوگا، لیکن اس کا کیا منصوبہ تھا کہ وہ اپنی بیوی کو یہ طرح ڈال دے؟
 
یارو! یہ حادثہ تو ایک جہل رشتہ کے مظالم کا نتیجہ ہے، حالانکہ اس میں کوئی اور بھی بات نہیں ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ رشتہ انیس سال سے گم ہوچکا ہے؟ پھر اور کوئی اس کو دبا کر رکھتا ہے، پھر کسی نے بھی بھوک کی آفت کا شکار کر لیا ہے اور اب اس حادثے سے یہ مظالم گھلنا شروع ہوگئے ہیں۔

اس پریشان کن صورتحال کو نظر انداز نہ کریں، مگر یہ بات undeniable ہے کہ جس جہاد کا انفرادی نتیجہ یہ ہوا ہے وہ خود سے ہی اٹھنے والا نہیں ہے بلکہ اس میں دوسروں کی جان بھی لے گئی ہوگی۔
 
یہ تو ایک دھومڑی ماحول ہو گیا ہے جو کچھ سالوں سے لارڈس ٹاؤن میں رہتی ہے، لوگ ایسے لوگوں کو بھی ناکام کرنا چاہتے ہیں جو اس جہاد کا تعلق رکھتے ہیں اور اب مین ہول میں ایک اور کیسہ ہوا گیا ہے، ایسے ناکام شخص سے بھی اچھا نتیجہ نہیں ہوسکتا۔

مریم نواز کی بات تو حقیقی تھی کہ شہری جہاد میں جان کا احترام کیا جا سکتا ہے اور اب یہ بات کچھ عجیب لگتی ہے کہ ان لوگوں کو اپنی جان کے دائرہ میں رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی، مگر وہ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے تو اچھا ہوتا کہ ان کو یہ بات سمجھائی جائے کہ جان کی قیمتی ہے نہیں؟
 
اس حادثے نے مجھے بہت متحرک کیا ہے، لاکھوں لوگوں نے ایسی جہاد کرنے والی خاتون کی جان لی گئی تھی اور اب ان کی بیوی کو بھی مار دیا گیا ہے؟ وہ لوگ جو شہری جہاد میں شامل ہوئے تھے ان کے منہ پر ایسی باتوں سے لپیٹ کر رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنی جان بھی جان سکتے ہیں؟ یہ شہری ج۹اد کی حقیقت کو کوئی سمجھ نہیں سکتا، اس میں کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی اور ان لوگوں کو اس کے نتیجے پر چلنا پڑتا ہے جو اس کی طرف اترتے ہیں؟
 
عزیز یہ ماحول ہر وقت ایک دھارچہ کا ساتھ ہوتا ہے، جب کچھ نیک لوگ اور زیادہ دھارچے کے لوگوں کے درمیان ایسے مواقع پیدا ہوتے ہیں جیسے اس حادثے میں کیا گیا تھا۔ شہری جہاد کی بات بہت مایوس کن ہے، ان لوگوں کو کیا دھینا ہو رہا ہے جو ایسے لوگ دھینے کی سہولت دیتے ہیں؟
 
"جب تم شانبزاری نہیں، تو آپ فانی بن جاتے ہیں" 😢 یہ حادثے نے دکھایا ہے کہ پرتلاپ سے زیادہ بھوکمان رہتا ہوتا ہے، اور شانبزاری کرنے والوں کو بھی اس کی کمر ہار بھی اٹھائی ہوئی ہے۔
 
واپس
Top