امریکا کی سپریم کورٹ نے ایک غیر معمولی مقدمے میں فیصلہ سنایا ہے جس میں سسٹرز جو اپنے شوہر نے گردہ عطیہ کر کے جان بچانے کی کوشش کی تھی، انہوں نے شادی ختم ہونے پر گردہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
شادی کے بعد سسٹرز نے اپنے شوہر کو ایک تحفہ جیسا گردہ عطیہ کر کے جان بچانے کی کوشش کی تھی لیکن بعد ازاں شادی ختم ہونے پر وہ موقف اختیار کر گئے کہ اس گردہ کو صرف ایک مشروط تحفہ سمجھا جاسکتا ہے جو شادی کے ساتھ لگا ہوا ہو اور شادی ختم ہونے پر اسے واپس کیا جانا چاہیے یا اس کی قیمت ادا کی جائے۔
شوہر نے عدالت میں گردے کی قیمت سترہ ملین ڈالر مقرر کرنے کی درخواست بھی دائر کی لیکن کورٹ نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہ انسان کو ایک اعضاء اور یہ اعضو کا تعلق شادی سے ہوتا ہے وہیں وہ اعضؤں کو عطیہ کرنا ہوتا ہے اور نہیں اس کی قیمت ادا کرکے انہیں واپس کیا جاسکتا ہے۔
ایسے شادیوں میں ایسی صورتحال آتی ہے جہاں شوہر اور شادوش نے ایک دوسرے پر انعام کے طور پر معاملات کیے ہوتے ہیں جو سسٹرز کو گردہ عطیہ کر کے جان بچانے کی رائے تھی لیکن بعد ازاں انہوں نے اسے شادی ختم ہونے پر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے جو ایک غیر معمولی حوالہ ہے۔
یہ تو ایک نئیSide آ رہی ہے! شادی میں گردہ عطیہ کر کے جان بچانے کی بات کرتے ہوئے، اُن ساسٹرز نے شادی ختم ہونے پر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا، جیسا کہ اس قدر یقین ہیں کہ گردہ ایک تحفہ ہو گیا! اور شادی ختم ہونے پر اسے واپس لینے کا تعلق ہی کیا ہے؟ اس نئی معاملہ میں سیکوڈری گیسٹ کو ایک پہلے گیسٹ کے بعد اپنے شوہر سے باونس کا مطالبہ کرنا کیا ہے! اور اس کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ تو بالکل درست ہو گا، ایک اعضاء کو دوسرے اعضاء کی قیمت ادا کرکے عطیہ کیا جاسکتا ہے نہیں!
یہ یقینی طور پر ایک حیرناک صورتحال ہے! لوگ اچھی جگہ پر گھومتے ہوئے جو شادی سے جان بچانے کا معاملہ ہے، کو اس کی قیمت پہ فرسودہ سست ڈالر میں اترنے میں کیسے آئیں؟ میں کہتہں گا ایسے معاملات میں انسانوں کی رائے کی بھی قدر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، لاکھوں پیسے کی قیمت پر ان کا ایک اعضو اس قدر معاف کیا جا سکتا ہے؟ یہ ایک بہت حیرناک صورتحال ہے جس میں انسان کو اپنے شوہر کی جان چھونے کی رائے پر ایسے معاملات کا حل دینا ضروری ہے۔
یہ شادیوں میں ایسے معاملات آتے ہیں جب لوگ اپنے حاملہ کرکے ایک دوسرے کو بچا لیتے ہیں لیکن بعد میں اسے شادی ختم ہونے پر واپس چاہتے ہیں...کیا یہ لوگوں کی محبت کے عمل کو سمجھنے کی جگہ نہیں؟
بھائی ان سسٹرز کو بہت زیادہ غصے میں رہیں گئی ہوں گی، یہ شادی ختم ہونے پر گردہ واپس لینا ایک بالکل غیر معقول مطالبہ ہے، جیسا کہ عدالت نے اس بات پر بھی فیصلہ دیا ہے کہ انسان کو ایک اعضاء کی قیمت ادا کرنا نہیں چاہیے اور وہیں ان اعضوں کو عطیہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ سسٹرز کا ایک بھرپور معاملہ ہے، میں نے اور آپ بھی اس کے بارے میں ان کو سمجھانے کی کوشش کیا ہوں گے، لیکن یہ بات صاف پتہ چلتی ہے کہ شادی ختم ہونے پر ایک اعضاء کی قیمت ادا کرنا ایک ایسا معاملہ نہیں ہے، جس کے لیے آپ کو عدالت میں جانا پڑتا ہوں گے۔
ایسا کیا محنت اور پیداوار کرتے ہوئے بھی جینے کی ضرورت ہوتی ہے؟ شادی ختم ہونے پر گھنٹی واپس لانے کا جو راز، انسان کو ایسی ساتھیں ملتی ہیں جو دوسرے موت کے سامنے جان بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ سنیا ہوگا، ان شادش اور ان شوہروں کے بیچ ہوا معاملہ تو بہت محکوم ہے لیکن کیا یہ صرف ایک معاملہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک حوالہ ہے، یہ کہ ہم شادیوں کی ایسی صورتحال میں پھنستے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے پر انعام کے طور پر معاملات کرتے ہیں، یہ بھی یقینی نہیں کہ لوگ اپنی محبت اور حبشیت کی وجہ سے ایسا کرنا چاہتے ہوں گے یا کوئی معاملہ تو کرنا نہیں چاہتا۔
اس کے علاوہ، یہ بھی بات ہے کہ گردے کی قیمت سترہ ملین ڈالر لگتی ہے جو واضح ہے کہ لوگوں کو ایسا ساتھ دلانا پڑتا ہے جو ایک فرد کی جان یا جانور کی جان کو بچانے کے لئے، یہ بھی ایک بات ہے کہ شادی ختم ہونے پر لوگ ایسا معاملہ تو کرنا نہیں چاہتے جس سے ان کو ناکام اور بدقسمتیوں کا سامنا ہوگا।
ان شادش اور شوہروں کے بیچ یہ معاملہ تو ان کی زندگیوں میں ایک حوالہ بن گئا ہے لیکن ایسی صورتحال ہونا چاہیے جہاں لوگ اپنی زندگیوں کو ایسا معاملہ کرنا نہیں چاہتے۔
امریکا کی سپریم کورٹ نے ایک غلط فہمی سے پیدا ہونے والے موقف کو تصدیق کر دی ہے جو شادیوں میں بھی ایسی صورتحال پैदا کر رہی ہے جہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساتھی ایک دوسرے پر معاملات کیں بلکیں انہوں نے ایک دوسرے کو ایک تحفہ جیسا لگایا ہوتا ہے اور اب یہ کورٹ نے ایسا بھی فیصلہ دیا ہے جو شادی ختم ہونے پر واپس لینے کا مطالبہ کو قبول کر دیتا ہے جبکہ اسے کسی کی قیمت ادا کرنا چاہیے ? یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے جو لوگوں کو دھمکی دے رہی ہے۔
شادیوں میں ایسے معاملات کیسے پیدا ہوتے ہیں جو شادی ختم ہونے پر واپس لینے کو ایک معاملے کے طور پر دیکھتے ہیں؟ اس کو حل کرنا بہت مشکل ہو گا اور یہ معاملات زیادہ سے زیادہ نازک ہوجائیں گی۔
کیا یہ سڑک ہی نہیں؟ شادی کے بعد سسٹرز نے گردہ عطیہ کرنے کی کوشش کی تھی تو اب وہ شادی ختم ہونے پر اسے واپس لانا چاہتے ہیں؟ اور شوہر نے عدالت میں گردے کی قیمت سترہ ملین ڈالر مقرر کرنے کی درخواست دی تھی، لेकिन کورٹ نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہ انسان کو ایک اعضاء اور یہ اعضو کا تعلق شادی سے ہوتا ہے، حالانکہ وہ اعضؤں کو عطیہ کرنا ہوتا ہے، نہیں اس کی قیمت ادا کرکے انہیں واپس کیا جاسکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے یہ کوئی کھیل نہیں، اور اس میں سسٹرز نے جو تحفہ جیسا گردہ عطیہ کرنا تھا وہ اب ایک معاملات کی ہوئی ہے؟
ایسا بات یہ ہے کہ شادی اور معاشرت کے بعد سے ہی انسانوں کو اپنے پیارے کو جان بچانے کے لیے کسی حد تک ایک معاملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ حوالہ جو امریکا کی سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ظاہر کیا ہے تو ایک جانب کی غلطی سے بھرا ہوا ہے۔ گردے کو ایک تحفہ سمجھنا ایسا بات نہیں جو شادی سے ہوئی ہو بلکہ یہ معاملہ اس حد تک گھل میں چلا جاتا ہے کہ لوگ گردے کی قیمت ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ سوچنا چاہیے کہ شادی سے سسٹرز کو ایک گردہ ملا ہوا ہے یا یہ صرف تحفۂ جیساgardنہ اور بعد میں اس کو واپس لینے کی رائے بھی نہیں آتی تھی۔ کیا ایک شادی میں ہم کسی کو انعام کے طور پر دوسرے کو جانتا ہوں یا اس سے تو پہلے ہی یہ رائے تھی کی ایسا موقف لینا بہت مشکل اور ناگوار ہوتا ہے؟
ایسی صورتحال میں بھی شادی ختم ہونے پر گردہ واپس لینے کا सवाल آتے ہیں تو یہ ایک غیر معمولی بات ہے #غیرمعمولی_مatters
جب شادی ختم ہوئی تو ان سسٹرز نے گردہ واپس لینا کہا اس میں یہ حوالہ آتا ہے کہ ایک اعضو کو دوسرے کی زندگی بچانے کے لیے دیا جاتا ہے اور وہیں اسے واپس لینا نہیں چاہئیں #اعضا_کی_زندگی
شادی ختم ہونے پر شادوش کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے جس میں وہ اپنے شوہر سے انعام کی طرف بھی کے کیا جا سکta ہے #شادی_ختم_ہونے_کی_چیلنج
بھائی یہ صورتحال بہت ہی ریکارڈ ہونے والی ہے، کوئی بھی سسٹر اپنے شوہر کی جان کو سبق کے طور پر حاصل کر لیتی ہے...
گھریلو معاملات میں ایسی صورتحال آج کر رہی ہے جہاں لوگوں کے درمیان ایسے معاملات کیے جاتے ہیں جو پچھلے دو یا تین سالوں میں نہیں ہوئے، یہ تو اکثر اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ اپنے معاملات کو ایسے سے منظر عام پر لے آتے ہیں جس کی وہ پہلے سے بھی آگاہ نہیں تھے...
میں سوچتا ہوں کہ یہ معاملات اس وقت زیادہ زیادہ محفوظ بنتے ہیں جب لوگ اپنے ساتھ ایسے معاملات کو لے آتے ہیں جو انہیں ضرورت کا ملاپ دیتے ہیں اور نہیں انہیں انفرادی طور پر سوجھنی والے معاملات کو نظر آتے ہیں...
اس حد تک میں سمجھتے ہیں کہ جب شادی ہوتی ہے تو دونوں بھاگنے کی ہر چیز پہچان لی جاتی ہے مگر یہاں سسٹرز نے ایک گھنٹی پر جان کھوا کر گردہ عطیہ کیا تو یہاں کوئی وقت نہیں لگتا کہ وہ اسے کبھی واپس لینا چاہتے ہیں اور شادی ختم ہونے کے بعد تو انہوں نے ایک دوسرے پر عطیہ کے طور پر معاملات کیے جو لگتا ہے ایسی صورتحال پریشان کن ہے