ماں بیٹی کی مین ہول میں گر کر ہلاکت: وزیر اطلاعات کیخلاف مقدمے کی درخواست دائر

گلاب دوست

Well-known member
لاہور میں ماں بیٹی کا بھاٹی گیٹ کے قریب ہلکہ منہ ہونے پر وزیر اطلاعات پنجاب سمیت متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ اس واقعے میں ماں اور بیٹی کی جان سے ہاتھ لگ گیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف تقریباً 20 ایکٹ لگائے گئیں۔

حالانکہ وہ واقعہ بھی اب تک تو نہیں سامنے آئا تھا، لیکن پنجاب کی حکومت نے اس وقت کو اچھی طرح یाद کیا ہے جب ان میں سے ایک نے اپنی جان گوٹھ لگائی تھی۔ ان کی جان کے لیے وہ صرف معاف ہونے پر ہی دھنس سکتا ہے، لیکن ان کے متعلق ایک مقدمہ درج کرنے والی حکومت نے اپنی بہادری کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک رکھیں گی جتنا یہ معاف ہونے پر ختم ہوگئی ہے، اور اس حقیقت سے بھری ہوئی ہے کہ وہ اپنی جان سے نہ تو رکھ پائی اور نہ ہی معاف ہونے کی بات کرتے ہوئے نہ ہی کچھ کہتے ہیں۔

جس وقت بھاٹی گیٹ کے قریب ایک مین ہول کھل کر ماں بیٹی کا حادثہ ہوا تھا، انہیں یہ نہیں پتا تھا کہ اس میں سے کتنے لوگ اور اس صورتحال کے وقت کتنا خطرناک ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے ان میں سے ایک کی جان لگ گئی تھی اور دوسری کو بھی ایسا ہی ہوا جو اب تک اس واقعے میں نہیں شامل ہوا۔

اس واقعے پر متعلق تقریباً 20 ایکٹ لگائی گئی ہیں، جس کے بعد مین ہول کو کھل کر اچانک رुकایا گیا تھا۔ اور اب وہ اس صورتحال سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ان میں سے ایک کو تو دوسری جان لگ گئی تھی اور دوسری جان کی کہیں تک پائی نہیں جا سکتی۔

اس واقعے پر متعلق ایسے مقدموں میں سے ایک جاری ہے، جس میں وزیر اطلاعات پنجاب سمیت کئی افسران کو شامل کرنا پڑا ہے۔ اس مدعہ کا مطالبہ ہے کہ ملک کے قومی وزیر کی بھی مہربانی کی جائے، اور انھوں نے اپنے گھر والوں کو فون پر کچھ کہا ہوگا۔
 
اس حادثے سے نکلنے کا ایک چیلنج ہے، لیکن یہ بات یقین بنانے کے لئے کوئی بھی ریسٹرنٹ کہہ کر نہیں سکتا کہ ابھی تک وہ ریستورنٹ کھلا ہوا ہے۔ مین ہول کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ پوچھنا ہی ہے کہ ان کا مقصد ایسا کرنا ہے کہ وہ لوگ جو اس میں شامل تھے وہ اٹھنے پر ہی نہ رہتے، لیکن یہ بات بھی یقین بنانے کے لئے نہیں ہے کہ اس میں سے کوئی اٹھا نہیں سکتا۔
 
اس واقعے سے کتنے لوگوں کی جان لگ گئی ہے وہ نہیں پٹتا ہے، انہیں یہ بات بھی نہیں پتی کہ اسی مین ہول میں سے کسی کی جان لگ گئی تھی، ایک جان جو ابھی تک فائٹر کیا نہیں جا سکا ہے، اس واقعے پر متعلق مقدموں کو جاری رکھنے میں کیوں شامل ہوتا ہے؟ یہ صرف ایک گھنٹہ کے لیے رکھا گیا تھا، اور اس بعد تو وہ مین ہول نہیں تھا، اب وہاں سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ صرف ایک نوجوان کی جان لگنے کے بعد سے ہی اس طرح کا سلوک ہوتا رہے گا؟
 
اس واقعے میں ان لوگوں کی جان جو لگ گئی تھی وہ کتنے خطرناک ہوئے؟ اب تک تو یہ نہیں سامنے آیا، لیکن حکومت نے اس وقت کو اچھی طرح یاد رکھا جب ایک نے اپنی جان گوٹھ لگائی تھی... کیا ان لوگوں کی جان سے ہاتھ لگ کر فوج نے اپنے پہلو کی طرف مائل ہوئی? یہ بات تو یقیناً نہیں بتائی جا سکتی.

اس صورتحال کا خیال کرتے ہوئے کہ وہ اس وقت تک رکھیں گی جتنا یہ معاف ہونے پر ختم ہوگئی ہے، میں سمجھ سکتا ہوں... حکومت کو ہمت ہارنے کی بھی بات کرتے ہوئے نہیں ہو سکتی.

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس صورتحال سے تعقیب کرنے والی حکومت کو اپنی جان بھی رکھنی پہلے پر ہو گئی ہے... اور یہ بات بھی اچھی طرح ٹھیک ہے کہ اس صورتحال میں مین ہول کو کھل کر رکایا گیا تھا، لیکن اب وہ اس صورتحال سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں...
 
ایسا کیا لگتا ہے کہ شہرت کی چوٹ لینے سے پہلے یہی دھوم رہتی ہے کہ لوگ اپنی جان کے عوض کچھ نہیں دیتے، ایک مین ہول اور 20 ایکٹ پر مبنی دھوم میں ان کا دم طے کرنا پڑتا ہے، لیکن کیوں؟ یہ صرف ایک سلسلہ تھا، کیا کسی نے اسے آگے بڑھانے میں مدد کی اور اسے معاف کرنے کی بات کرتے ہوئے نہیں؟
 
سارے ملک ہی ان لوگوں کی طرف مڑ رہا ہے جو اس حادثے میں اپنی جان لگی چکی ہے، لیکن یہ سچائی بھی ہے کہ اگر وہ معاف ہو جاتے ہیں تو ان پر اسی طرح کا معافہ دियا جائے گا۔ مگر پھر یہ سچائی نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہ لوگ جنہیں جان لگی چکی ہے ان کے لیے معاف ہونا ایسا ہی نہیں ہو گا جو معاف ہونے کے بعد سے دھنسنا ہوتا ہے۔
 
تھرڈ پارٹی دبائیں گئیں تو اس میں ایسے لوگ بھی شامل ہوا جن کی شہرت مین ہول کے قریب ایک کے بعد ایک لگی ہوئی تھی اور ان پر بھی مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ اس واقعے سے پہلے بھی ان کو چارٹرچر میں لایا گیا تھا اور اب وہ اپنی جان کے لیے ایک نئی زندگی شروع کر رہے ہیں۔

*ڈاون لوڈ کریں* https://www.urdupoint.com/punjab/ਲਾਹੌਰ-ਮਾਂ-ਬੇਟੀ-ਕਿਵੇਂ-ਜ਼ਖ਼ਮੀ-ਬਣ-ਗਈ-ਉਨ੍ਹਾਂ-ਦੀ-ਪੁਲਿਸ-ਅਤੇ-ਸ਼ਾਮਲ-ਫਰਵਰਦੀ ਆਪਣੀ-ਜ਼ਖ਼ਮੀ - 12-02-2025
 
کیوں اتنے لات بکھرے ہیں? ایسا کہنا تھوڑا سا مanners نہیں ہے. پہلی بار ایسی بات ہوئی تو اس سے پہلے بھی اسی طرح کا دہشت گردی ہوا ہوگی۔ وہ چار ہلاک ہونے والی ماں بیٹی کے حادثے میں یہ سچ نہیں کہ ہر کوئی جو اس میں شامل تھا اس کی جان لگ گئی ہوگی؟ اگر ان لوگوں پر مقدمہ درج کرنا چاہئیے تو اسی طرح دوسری جان بھی لگ جائے گی اور ایسا نہیں کیا جا سکتا.
 
اس واقعے میں شام لینے والی حکومت پنجاب کی بہادری کی بات کرتی ہوئی کہہ رہی ہیں، لیکن وہ اس وقت تک رکھیں گی جتنا یہ معاف ہونے پر ختم ہوگئی ہے، اور پھر بھی وہ اپنی جان سے نہ تو رکھ پائی اور نہ ہی معاف ہونے کی بات کرتے ہوئے کچھ نہیں کہتے، یہ تو بہادری نہیں بلکہ حقیقی غم کا تجزیہ کر رہی ہیں!

جی جے ٹیلی ویژن کی بات آئی، ان کی پریشانیوں سے واضح طور پر نکلتے ہوئے، یہاں تک کہ انھوں نے اپنے گھر والوں کو فون پر بھی پوچھا تھا اور بعد میں وہ دوسری جان لگ گئی، اس سے یہ بات کیے گی کہ ان کی بہادری کتنے نقطوں تک ہنکنے پر اسے ختم کر دیا جا سکے؟
 
اللہ وہ جانتا ہے کیسے چلو لوگوں کی جانوں کی بات دیتے ہیںۤ!
 
🤔 یہ واقعہ بہت گہرا ہے اور اس میں شامل ہونے والی لوگ بہت متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت پنجاب نے ایسا قرار دے رکھا ہے کہ جب معاف ہونے پر ختم ہو جائے گی تو یہ مقدمہ ختم ہو جائے گا، لیکن یہ بات یقینی نہیں کہ معاف ہونے کی صورت میں یہ واقعہ اس طرح سے ختم ہو جائے گا جو اس پر بھرosa دی جا سکتی ہے۔ اور حکومت کو یہ نہیں پڑنا چاہیے کہ ان لوگوں کی جان سے ہاتھ لگنے والی 20 ایکٹ میں سے کسی نے بھی معاف ہونے پر رہنے کا حق حاصل نہیں کیا ہو، کیونکہ معاف ہونے پر ختم ہونے سے پہلے اسی میں شامل ہونا ایک بھارosa کی بات نہیں ہے۔
 
[GIF: ایک سادہ مین ہول کے سامنے بیٹھ کر رہا ہوا، اور اس کی گردن تیزانہ ہوئی ہو۔]
 
اس واقعے سے لے کر اس پر متعلق مقدموں تک پہنچ کر، مین ہول کی صورتحال بہت ہی خطرناک اور حیرانی کن ہے 🤯. جب کہ پھر بھی ان لوگوں کو پہچانا نہیں گیا، اور وہ کبھی بھی اس صورتحال سے باہر نہیں آ سکیں گے، تو کیے تو کیے انہوں نے اپنی جان سے ہاتھ لگائے ہیں اور اب ان کا مطلب ہی معاف ہونے پر ہی بن سکتا ہے، مگر یہ ہمیں بھی اس بات کو یاد دلاتا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے والی حکومت کی بہادری اور ہمیشہ ہی ایسا ہو رہا ہے جب تک یہ معاف ہونے پر ختم نہ ہوگئی ہے۔
 
اس واقعات میں دوسری جان لگ جانا تو پوری طرح سے معقول نہیں ہے، جس میں بھاٹی گیٹ کے قریب ایک مین ہول کھل کر حادثہ ہوا اور ان میں سے ایک کی جان لگ گئی تو اس وقت تک دوسری جان نہیں لگی تھی، اور وہی حقیقت ہے جو کہ لوگ اس وقت نہیں دیکھتے ہیں کہ ماں بیٹی کا حادثہ جس میں جان لگی تھی، وہ ایک بڑی پہلی تھی اور اس پر معاف ہونے پر وہ صرف دھنس سکتا ہے۔
 
اس واقعات میں شاملا گریس جی سے بھی بات کرو، اس نے اپنی جان گوٹھ لگائی تھی اور اب وہ صرف معاف ہونے پر دھنس رہی ہیں، لیکن ان کی مہربانی سے ملک کا وزیر اطلاعات پنجاب اس وقت تک مازوں رہے گا جتنا یہ معاف ہونے پر ختم ہوجائے گی، اور اب وہ اپنی جان سے نہ تو رکھ پائی اور نہیں اس کے بعد کسی کو بھی معاف کرنا چاہئے؟
 
اس واقعے سے کیا لگتا ہے کہ حکومت پنجاب ایک ایسے معاملے کی طرف پیش آ رہی ہے جس میں ایسی سے صورتحال نہیں ملاتی تھی، مگر یہ معاف ہونے پر ختم ہوگئی ہے اور اب وہ اس کے بعد بھی رکھتی ہے کیوں؟
 
اس واقعے کا یہ معاملہ تو ایسا نہیں ہوتا جس میں کسی معاف ہونے کے بعد بھی دوسرے لوگوں کی جان لگ جائے۔ اب ان سے قبل کسی بھی معاف ہونے پر یہ کہنا مشکل ہو گیا ہے کہ وہ نہیں رکھ پائی، اور اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی معاف ہونے پر یہ کہنا دباؤ ڈالنا نہیں چاہیے بلکہ اس کو محض ایک واقعات کی حقیقت کے ساتھ ملایا جائے اور اس معاملے میں ایسا کو چیلنج نہیں کیا جائے جو ہمارے معاشرے کو خطرہ پہنچانے والا ہو۔
 
واپس
Top