ماں کی قبر پر سوتے بچے کی تصویر نے دل دہلا دئیے

آن لائن یار

Well-known member
کینیا میں ایک دھماکہ دہ منظر، جس نے دل کو دھل دیا ہے۔ ایک بچے کی تصویر، جو اس بات کا مظاہرہ دے رہی ہے کہ ماں کی جدائی کیسے دلتا ہے، نے صارفین کو ہمیشہ سے نئے لئے دھول دیا ہے۔

یہ تصویر ایک گاؤں میں، جس میں ایک بچے نے اپنی والدہ کی وفات کے بعد ماں کی قبر پر سو کر اس بات کو مظاہرہ کیا ہے کہ اس کے لیے ماں کی موجودگی کتنی بڑی نعمت ہے۔

وائرل ہونے کے بعد، صارفین نے اس تصویر کو ’’انتہائی دردناک‘‘ اور ’’دل دھلا دینے والی‘‘ قرار دیا ہے۔ کئی لوگوں نے لکھا ہے کہ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ والدین کی موجودگی بچوں کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔

اس تصویر کو دیکھتے ہوئے، لوگ اس بچے کی کفالت کی ضرورت سے باہر نہیں رہے بلکہ والدین کی موجودگی کو بھی اپنے لیے لازمی قرار دے رہے ہیں۔
 
اس تصویر نے مجھے کہیں سے دھل دیا ہے، اس بچے کی تلاش کوئی نہیں کر رہا ہو گا۔ یہ چھوٹا لڑکا خود اپنی ماں کی قبر پر سو رہا ہے، کتنے بڑے ہیں وہ اس بات کو مظاہرہ کر رہے ہیں کہ ماں کی موجودگی سے انھیں کچھ نہ ملے گا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ والدین کی موجودگی بچوں کے لیے کتنے اہم ہے، اسے سمجھنا ہی نہیں بلکہ اسے اپنے دل میں لپٹ کر رکھنا چاہیے۔
 
[Image of a sad child crying in front of a grave, with a red heart overlay] 🤕😭

[ GIF of a person holding their stomach and walking away ] 😂

[ Image of a child holding a teddy bear and smiling, with a green checkmark ] 👍
 
ਇس تصویر نے مجھے اچھا سا متاثر کیا ہے، یہ بچے کی بیٹھنا ایک سے زیادہ تراش دے رہی ہے، میرے لیے یہ واضح طور پر پتا لگا کہ ماں کی موجودگی بچوں کے لیے کتنی اہم ہے، میرے دو بھائیوں میں ایک کو چھٹی میں لاکھوں کا خوف تھا تو اب وہ سب سے پہلے رات کو کمرے کے باہر بیٹھتا ہے، یہ بچے کی قوت ایک سے زیادہ ہے 🤯
 
اس تصویر سے میرا دل دھلیا ہوا ہے، یوں تو اس گھر والے بچے کو ماں کی وفات کا کوئی حقیقی معیار نہیں پٹسا ہے لیکن اس تصویر سے پتہ چalta ہے کہ والدین کی موجودگی کتنے بھرپور طور پر انسانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں 🤕
 
یہ تصویر ایک سسٹر کے لئے ہمیشہ سے نئے نئے دھول دیا ہے۔ اس بچے کی اُسے ملنے والی محبت کا ایک نیٹ ورک جس میں ان کے والدین، دوسرے رشتیدار اور تاریک پناہ کے مقامات شامل ہیں۔ اس کا مطلب نہیں ہے وہ اس لئے بھاگ جائے گا کہ اسے کسی کی موجودگی نہیں چاہیے، بلکہ اسے واضح ہے کہ وہ اپنے والدین اور ان کے لئے ایک نیٹ ورک کی ضرورت محسوس کر رہا ہے۔
 
یہ تصویر کچھ اور نہیں دیکھنا پڑتا جس میں ایک بچا سو کر اپنی والدہ کی قبر پر بیٹھا ہوا ہو، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ والدین کی موجودگی بچوں کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ تصویر ایک سادہ واقعے کو ایک ایسا محرک بناتی ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ والدین کی موجودگی کچھ اور بہتر ہے، وہ جس طرح کے احترام اور پیار سے ہوتا ہے۔
 
بچے کا یہ رویہ پوری دنیا کو روک کر رکھتا ہے۔ اس نے ماں کی جدائی کو سنے سے لے کر میرا دل توٹنے والی اور دھلی والی کہانی بتائی ہے۔

اسے دیکھتے ہوئے، پہلے مجھے یہ سوچنا بہت مشکل تھا کہ ماں کی موجودگی کیسے اچھی ہو سکتی ہے لہذا چاہے وہ ہو یا نہ ہو، بچوں کو اس کی ضرورت پوری کرنی چاہیے۔

اس گھر میں ایک بچا ہے جو اپنے ماں کے بعد سنے اور اس نے ان کے لیے یہ منظر بنایا ہے تو مجھے بھی اس کی دیکھنے کو ملنا بہت عجीब لگا، یہ بچے کی جسمانی اور ذہنی طور پر میرے ساتھ ہوا۔
 
یہ تصویر تو دیر سے نہیں دی گئی تھی، اس کا عرصہ اچھا لگتا تھا جب بھی بچے کی ماں ہوگی اور انہیں وہی وقت مل جاتا جو اسے اپنی بیوی کو پہنچانے کے لیے ہوگا۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ بچے کی زندگی بھی ایک سفر ہوگی جس میں وہ اپنی ماں کو نہیں مل سکے گا اور اس کے لیے یہ منظر ایک زبردست یاد دلاتا ہے۔
 
اس منظر سے جتنی گہری کھونک پڑتی ہے، وہی غم کا اندازہ نہیں دیتا . لگتا ہے یہ بچوں کو ان کی والدین کے بغیر رہنا سیکھنے کا ایک طاقت باران منظر ہے۔ جس پر دیکھنا اور محسوس کرنا مुशق ہے.
 
یہ تصویر ایسے وقت میں بھی اچھی سے اچھی ہے جب ہم اپنے والدین کا شکر گزار رہے ہیں۔ یہ بچے کو ماری ہوئی ماں کی قبر پر سو کر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ماں کی موجودگی سے کتنے بھاگتے ہیں۔ اس نے مجھے تو دھلا دیا ہے۔
 
یہ تصویر تو دھول ہی نہیں ہوئی، یہ دل دھل دیا ہوا ہے۔ ایک بچے کی آنکھوں میں تار تار چھپنے والی کوئی بات ہر کوئی کو سمجھائی نہیں سکتا۔ والدین کی موجودگی کتنی بڑی نعمت ہے، یہ تو بچوں کو پتہ ہوتا ہے، لیکن اس کی حقیقت تک پہنچانے میں مجھے بھی دیر لگتی ہے۔ اس بچے کی تصویر نے مجھے یاد dilati hai ki والدین کی موجودگی سے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
 
اس تصویر میں ایک بچے کی چेहरے پر دلی آڑی ہے جو اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ والدین کی موجودگی کتنی بڑی نعمت ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ صورتحال ہمیں ایک حقیقی زبردست نئے دھول میں پھنساتا ہے جس سے ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ والدین کی موجودگی کتنے بھی اچھے ہو سکتے ہیں۔
 
ایسا کیا ہو سکتا ہے؟ ایک بچے نے اس تصویر میں ماں کی جدائی کو دکھایا ہے اور اب ہمیں یہ دیکھنا پڑ رہا ہے کہ والدین کی موجودگی کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس تصویر نے مجھے بھی دل دھل دیا ہے اور مجھے یہ بات یاد دلاتی ہے کہ والدین کی موجودگی بچوں کو کتنی بڑی نعمت ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس تصویر نے ہمیں ایک اور بات سکھائی ہے کہ والدین کی موجودگی نہ صرف ماں بाप کو ملا کر رہتے ہیں بلکہ وہاں تک بھی والدین کی موجودگی بچوں کو لازمی ہوتی ہے۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے اور مجھے लगतہ ہے کہ اس پر مزید بات چیت کرنا ضروری ہے۔
 
عجیب کیا ہے! اس منظر سے دل دھل جاتا ہے تو لاکھوں کے بچوں میں سے ایک کی ہارنے والی ماں کو دیکھتے ہوئے، میرا دل بھی ڈوب جاتا ہے... یہ ایک بڑا تعذب ہے کہ اس تصویر نے مجھے یاد دلاتا ہے کہ ماں اور باپ کی موجودگی کتنی اچھی ہوتی ہے... ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس طرح کے منظر نے مجھے یاد دلاتے رکھا ہے...
 
اس تصویر سے ہمیں یہ بات یاد ہو جاتی ہے کہ ماں بے بیڑی کی اور نئے چھوٹے کی زندگی میں سب کچھ ہمارا ہاتھ ہی دیتا ہے، ابھی وہ نہیں تھیں تو بچہ ہوتا ہوا اسے پالنا پوسھانا تھا، اور اب بھی وہ نہیں تھیں تو لاکھوں روپوں کے لیے چلتی تھیں۔

اس صورتحال پر کچھ لوگ بات کر رہے ہیں کہ یہ بچا کس حد تک اپنی ماں کی موجودگی کو ضروری سمجھ سکتا ہے، یا یہ تو ایک دھماکہ دہ منظر تھا؟
 
اللہ کرم یہ دھماکہ دہ منظر دیکھ کر میرا دل بھی اچانک سوتا ہوا نہیں رہا ہے، مجھے اس بات کو لگتا ہے کہ اس تصویر میں جو غم کی گہرائی ہے وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ والدین کی موجودگی کتنی اہمیت رکھتی ہے، یہ بچا تو کیا نئے عالمیانہ ثقافتوں میں پیدا ہوتا تھا؟ وہ اس سے کیسے دلتا؟ یوں تو ہمیں صرف انسائکلوپیشیا میں پڑھنا پڑتا ہے کہ ماں باپ کی موجودگی جنت کی شہر ہوتی ہے تو چال وچال ہمیں یوں سے علم نہیں، اور دوسری طرف اس صورت حال میں کسی بھی شخص کا خیال نہیں آتا کہ ماں باپ کی موجودگی سے ان کا زندگی ہی بدل جاتا ہے؟
 
سچم میں ایسی چیٹچات دیکھنی بہت تباہ کن ہوتی ہے۔ یہ تصویر ایک بچے کی کفالت کی ضرورت سے باہر والدین کی موجودگی کو لازمی قرار دینا تو پورے معاشرے کے لیے بڑی چیلنج بن جاتا ہے۔

موجودہ دور میں لوگوں کے ذہن میں ایسے واقعات سے پہلے ہی نوجوانوں کی کفالت کی ضرورت پر توجہ دی جاتی ہے تو اب والدین کی موجودگی کو بھی اسی درجے پر لازمی قرار دینا ایسا ہی دیکھنا جیسا ہے کہ ایک شخص نے ایک سیڑھی پر گزرنے سے پہلے تانبا کی چڑی پر اٹھنا شروع کر دیا ہوے۔

اس تصویر سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ماں کی موجودگی بچوں کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے جو نہیں روک سکتی ہے، اور وہ لوگ جو یہ بات سمجھتے ہیں ان کی پیروی کرنا چاہیے لیکن اس سے پہلے یہ سوچنی ہوگی کہ اس صورت حال کو حل کرنے کے لئے کیا کیا کیا جا سکta ہے۔
 
بچوں کا یہ منظر ہمیں ایسا دکھایا جاتا ہے کہ ماں کی جدائی سے بچوں کی زندگی بھی ناقابل تصور ہوسکتی ہے...

جن لوگ کو والدین کے بغیر بچوں کے لیے جینیٹر ایجنگ دیکھنا پڑتا ہے وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ کتنی مشکل ہوسکتی ہے...

لadies aur gentlemen, پوری دنیا میں ایسے بچوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو اپنے والدین کو نہیں دیکھ سکے... یہ بھی اکثر نئے اور نئے لئے دھول ہوسکتی ہے...

اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں والدین کی موجودگی کتنی بڑی نعمت ہے... اور یہ بھی کہ بچوں کو ان کے بغیر زندگی کس طرح دیکھنا پڑتی ہے...
 
وہ تصویر جو کینیا میں ہوا، اس پر مجھے بھی نئے لئے ڈھل دیا ہے۔ ایک بچے کی سوتیلیوں میں رہ کر سنا کافی دھोखا دیتا ہے، لیکن اس تصور کو جھیلنے والی تصویر نے مجھے دل لگائی ہے۔ یہ بچے کی جدائی میں مظاہرہ کرنا ایک داستانی بات ہے۔

اس کا مطلب یہ ہو گا کہ والدین کی موجودگی کتنی اہمیت رکھتی ہے، یہ بچوں کے لیے ایک ضروریات ہے۔ مجھے یہ بات پریشانی دیتی ہے کہ اس عرصے میں ہمیں والدین کی موجودگی کو محسوس کرنے کی جگہ کتنی ہوئی ہو گی؟
 
واپس
Top