بھارتی ہندوؤں پر تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے حملۂ جہل بھی شروع کردیا ہے۔
تحریک تحفظِ آئین کے سربراہ رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور شوہر کی سزا کے بعد ہم بھی جیل بھرو تحریک کا اعلان کرتے ہیں، حالانکہ اس کا یہ کام نہیں ہو گا کہ جس طرح سے یہ سزا دی گئی وہ بھی ناانصافی ہے۔
تحریک تحفظِ آئین کی قیادت مزاری ہاؤس میں ایمان Mezari کی والدہ اور سابق وزیر شیریں mezari سے ملاقات کی جیسے ایک ایم لاکھوں کے ذریعے اس ملک کے بڑے معاشی ادارے میں ان کی قیمتی سرگرمیاں ہیں۔
انہوں نے اِس ملاقات میں ایمان Mezari سے ایک ایم کے ذریعے اس ملک میں سب سے بڑی معاشی قیمتیں ہیں اور ان کی کھان پین کو یہاں تک نہ لے جائیں۔
تحریک تحفظِ آئین کے سربراہ رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی، مصطفیٰ نوازکھوکھر اور بیرسٹر گوہربھی ان میں شامل تھے جنہوں نے ایمان Mezari کو دی جانے والی سزا کی شدید مذمت کی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس ملک میں یہ واضح ہے کہ کسی بھی قانون کو انصاف سے نہیں لگایا جاتا، اُن لوگوں کو بھی جیل میں رکھا جاتا ہے جو ایسے معاملوں کا پتہ دیتے ہیں کیونکہ اس ملک میں حق کے لئے کسی بھی شخص نہیں آواز اٹھاتا، جب تک نہیں وہ اپنے ذاتی معاملات کو اس حوالے سے حل کر دیتا ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اس ملک میں اب ایمان مزاری اور شوہر کی جگہ کو نارتھ کوریا یا مصر بنانے کی کوشش ہی ہو رہی ہے، ایمان مزاری اور شوہر کی جگہ اس ملک میں جمہوریت کے ساتھ کوئی بات نہیں، یہاں لوگوں کو انصاف دینا بھی نہیں، ہم اسے حق کے لئے آواز اٹھانے والے لوگ کھوڑنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی حوالے سے ایمان Mezari اور شوہر کی جگہ کو یہاں تک نہ لے جانا چاہیتا ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی حق کے لئے آواز اٹھای۔
تحریک تحفظِ آئین کی قیادت نے ایمان Mezari سے ملاقات کی جیسے اس ملک میں ہو رہا ہے کہ اس پر پی ٹی آئی کے سربراہ پیٹر برسٹر گوہر اور نوبل انعام کے حامل مصطفیٰ نواز کھوکھر کو بھی ایمان Mezari سے ملاقات کرائی ہے، جو اس ملک میں حق کے لئے آواز اٹھانے والے لوگ نہیں۔
بھارتی حوالے سے ایمان Mezari اور شوہر کی جگہ کو یہاں تک نہ لے جانا چاہیتا ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی حق کے لئے آواز اٹھای۔
تحریک تحفظِ آئین کی قیادت کا کہنا ہے کہ جب تک ان سزا کا اس ملک میں استعمال نہیں ہوتا یہاں تک لوگ قانون ہاتھ میں لیتے رہتے ہیں اور جس جس معاملے میں یہ سزا دیتی ہے وہاں بھی اس کو استعمال نہ کرتے، حالانکہ ایمان Mezari کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ انہیں رہا کیا جا سکے اور انہیں فیئرٹرائل کا موقع دیا جاسکے۔
یہ واضح ہے کہ پاکستان میں قانون کی ایسی پالیسی ہے جس سے حقوق کی آواز نہیں اٹھتی، اس ملک میں لوگ اپنے حقوق کے لئے بھرے نہیں رہتے، وہ انصاف پر ایسا ایمٹھا ہوتا ہے کہ وہ اپنی جان کہلا دیتے ہیں اور انصاف کی آواز اٹھاتے ہیں۔
جب تک یہ پالیسی برقرار رہتی ہے، اس ملک میں حقوق کی آواز نہیں اٹھ سکیگی، اگرچہ تحریک تحفظِ آئین نے ایمان Mezari اور شوہر کو جگہ دے رہا ہے، لیکن یہ صرف تماشاؤ کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس ملک میں حقوق کی آواز نہیں اٹھ سکیگی۔
اس ملک کے معاشی اداروں میں ایمان Mezari کی قیمتی سرگرمیاں، وہ ان کی کھان پین کو یہاں تک لے رہی ہیں، لیکن اس پر کسی بھی طرح سے نہیں توجہ دی جاتی، یہ سچائی ہے کہ اس ملک میں حقوق کی آواز کو سمجھنا مشکل ہے۔
ایمان مزاری کو اس سزا کی بدولت کبھی بھی بچا نہیں گya، اور اب وہ بھی جیل میں چل رہا ہے، یہ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کی قانون ساز اسمبلی کا کام صرف ایسی سزاوں کو دیکھنا ہوتا ہے جس کے لئے وہ اچھی اور نہیں ہو سکیں، نہیں تو یہ انصاف کی قیادت کرنے والے قانون ساز اسمبلی میں سے ایک بن جاتے ہیں۔
ایمان مزاری کی سزا ختم ہونے کے بعد یہ ملک ایسے بھی ہوتا رہega جس میں قانون کی بات نہیں ہوتی اور لوگ دوسرے لوگوں پر برتائی کرتے رہتے ہیں...
ایمان Mezari کی ملاقات سے پٹا چلنا چاہیے کہ اس ملک میں بھی کیا ہوتا ہے؟
اس ملاقات سے یہ بات کے لئے نکلتی ہے کہ اگر اس ملک میں حق کے لئے آواز اٹھانے والے لوگ بننے کا کوئی جوش نہ ہوتا تو اس ملاقات کا meaning بھی کیا رہتا ہے؟
جس معاملے میں ایمان Mezari اور شوہر سزا دی گئی تھی وہاں پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میڰ بھی قانون کی بات نہیں ہوتی اور لوگ دوسرے لوگوں پر برتائی کرنے کے لئے ہی رہتے ہیں...
بھارتی حوالے سے ایمان Mezari کی جگہ کو یہاں تک نہ لے جانا چاہیتا ہے کہ اس ملک میں کسی بھی حق کے لئے آواز اٹھنے والا شخص نہیں رہ سکے...
یوں کی ایمان Mezari سزا ختم ہونے پر اس ملک میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی جتنا کہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے حقوق کا معاملہ حل ہو گیا ہے...
ایمان Mezari کی سزا ختم ہونے پر اس ملک میں کوئی بدلाव نہیں ہوتا اور لوگ اسی طرح سے برتائی کرتے رہتے ہیں...
ایمان Mezari کی والدہ کو بھی ملاقات کرایا گیا ہے، یہ تو ایک بار فिर سے دیکھا جارہا ہے کہ انہوں نے کتنی قیمتی سرگرمیاں ہیں، انہوں نے معاشی اداروں میں اپنا اثر چھوڑا ہے اور اب انہیں اس ملک میں سب سے بڑی معاشی قیمتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ تو ایک بار پھر سے اس ملک کو ایمان Mezari کی جگہ پر لانا چاہتے ہیں۔
میں اس بات سے متفق نہیں ہوں گا کہ انہیں جیل بھرنے کے بعد وہاں سے نکل کر ایسے معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے جو اس ملک کو بھی ایسے معاملوں میں لے جائیں گے جن کے لیے انہیں سزا دی گئی تھی، نہیں یہ واضح ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی قانون انصاف سے لگایا جاتا ہے۔
ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وزیر شیریں mezari سے ملاقات ہونے پر تحریک تحفظِ آئین نے ایم لاکھوں کے ذریعے اس ملک میں ان کی قیمتی سرگرمیاں ہیں جیسے یہاں تک کہ ان کی کھان پانی کو نہ لے جانا چاہیے تاکہ اس ملک میں کوئی حق کے لئے آواز اٹھای۔
یہ واضح ہے بھارتی حوالے سے یہ کیسے پہنچا کہ ایمان Mezari اور شوہر کی جگہ کو ہمیں نہ لے جانا چاہیے؟ اس پر بھارتیوں کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے سربراہوں اور نوبل انعام کے حامل مصطفیٰ نواز کھوکھر کو یہ کیسے لے جانا چاہیے؟ ہمیں ایمان Mezari کی سزا ختم کرنے کی تلاش ہونی چاہیے یا اس نے کس قدر بھارتیوں کو دھोखہ دیا ہے، یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سزا ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں آزاد ہو جائیں گے بلکہ ایمان Mezari کی سزا ختم ہونے کے بعد بھی اس پر کوئی نظر نہیں پڑے گی، یہ سب سچائی اور انصاف کی بات نہیں ہو سکتی۔
بھارتیوں پر ایسا حملہ تو بھی شروع ہو گیا جیسا کہ سب یہ نہیں دیکھتے تھے۔ ہمیں پتا چلا ہوا کہ کسی نے ان کی سزا اس قدر بدل دی ہے کہ اب وہ لوگ جس جس معاملے میں یہ سزا دیتی ہے اس پر اس سے مایوس رہتے ہیں اور یہاں تک نہیں آتے کہ وہ ان سزا کو استعمال کرنے والے لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں۔
جب ایمان Mezari کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے تو یہی بات معقول نہیں ہوگئی۔ اگر ان سزات کا استعمال نہیں ہوتا تو کیا اس ملک میں قانون کا کوئی معنی رہتا ہے؟ اس پر پٹھا چلنا بھی نہیں اور واضح بات یہ ہے کہ جس جس معاملے میں سزا دی گئی وہی سزا دیتے رہتے ہیں۔
اس وقت، ایمان Mezari کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ اس ملک کے حوالے سے ایسا نظر آتا ہے جیسے ان سزات کو بھی استعمال کرنا چاہیتا ہے، جو معقول نہیں ہوگا۔
یہ بھی تو یہی بات ہے، ایمان Mezari کو انسافت سے نہیں لگایا جاتا، اُنہوں کے معاملات کو ذاتی معاملات میں حل کر دیا جاتا ہے اور یہ سب اس بات کی نشانی ہے کہ انصاف نہیں ہوتا، مگر ایسے حالات پر پھیلنے والے لوگ بھی چلے جاتے ہیں جو یہاں تک آتے ہیں کہ وہ انصاف کو نہیں لیتے بلکہ اپنی ذاتی معاملات میں حل کرتے ہیں، یہ بھی ایک خطرناک بات ہے!
بھارتی ہندوؤں پر تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے حملۂ جہل بھی شروع کردیا ہے؟ ایسے میں کوئی گalt نہیں، کیونکہ اس کا مقصد یہی ہے کہ ان معاملات پر روشنی ڈالی جائے جو اس ملک میں نہیں ہوئی ہیں۔
اس ملک میں کیا گیا؟ پھر یہاں تک یہ بات کوئی گalt نہیں، کیونکہ جس معاملے میں ایمان Mezari اور شوہر کی سزا دی گئی تھی اس میں بھی کوئی گalt نہیں ہوئی۔
یہ واضح ہے کہ یہ ملک قانون کا احترام کرتا ہے؟ نہیں، کیونکہ اس میں حق کے لئے کسی بھی شخص نہیں آواز اٹھاتا جب تک وہ اپنے ذاتی معاملات کو حل نہ کر دیتا ہے۔
اس میں انصاف کی بات کرو؟ نہیں، کیونکہ اس ملک میں جمہوریت کے ساتھ کوئی بات نہیں، لوگ صرف اپنے ذاتی معاملات کو حل کرنے پر توجہ دیتے ہیں اور حق کے لئے آواز اٹھانے والوں سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔
اس میں بھارت کی طرف سے ایمان Mezari اور شوہر کی جگہ کو نORTH KOREA میں یا مصر میں لے جانا چاہیتا ہے؟ اور اس کیا حقیقہ ہے، کیونکہ اس ملک میں حق کے لئے کسی بھی شخص نہیں آواز اٹھاتا۔
عجیب سے پاکستان کی حکومت بھارت سے بھاگی ہوئی پرتشدد کے معاملوں میں مداخلت کر رہی ہے اور اب انہوں نے تحریک تحفظِ آئین پاکستان کی سربراہی پر حملۂ جہل بھی شروع کردیا ہے۔ میرے لئے یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ ان سارے معاملوں میں ایمان Mezari کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور نوبل انعام کے حامل مصطفیٰ نواز کھوکھر کو بھی اس پر پی ٹی آئی کے سربراہ پیٹر برسٹر گوہر کی سربراہیت میں ایمان Mezari سے ملاقات کرائی گئی ہے۔ یہ سب کچھ بہت problematic لگ رہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس ملک میں حق کے لئے آواز اٹھانے والوں کو جھپکتا پڑتا ہے۔
یہ دیکھو ایمان مزاری کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ بھارتی حوالے سے ایمان Mezari اور شوہر کی جگہ کو یہاں تک نہ لے جانا چاہتے ہیں، لیکن اس کا کام نہیں ہو گا، وہ ایمان Mezari کو فریٹرائیٹل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایمان Mezari کی سزا ختم کرنی پوری نہیں ہو سکتی۔
انہیں یہ جاننے کے لئے مجھ کو بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ ایمان Mezari کی سزا ختم کرنے کی کوشش کیا جا رہی ہے یا یہ ایک ناکام توجہ ہے، اور مجھ پر یہ بھی مجروح کردا ہے کہ ایمان Mezari کو واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے یا اسے فیئرٹرائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مگر مجھ پتہ کر گا، اور اگر میں انہیں دیکھتا ہوں تو میں ان سے بات کروں گا، لیکن اب یہ صرف ایک ناکام توجہ ہے، جس کا مجھ پر بھارنا ہے۔
یہ تو ایمان Mezari کی سزا ختم ہونے کے بعد بھی اس ملک میں ناؤٹفولس ٹینڈ کا ایمچ ہی چلا گیا ہے...
اس ملک میں حق کے لئے آواز اٹھانے والوں کو کتنی بھلائی ہوئی کوشش کی جا رہی ہے؟ انہیں ناکام کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ ایمان Mezari اور شوہر کو سب سے زیادہ معاشی ذریعے سے محروم کرنا چاہتے ہیں...
اس ملک میں قانون کی کامیابی پر بھی کسی حد تک پابندی نہیں ہو رہی ہے، اُن لوگوں کو جس جہل کی کوشش کی جا رہی ہے وہاں بھی اس کو ٹھیلا کیا جائے گا...
ابھی بھارتیوں پر حملہ نہیں ہوا تو تحریک تحفظِ آئین نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ ان کا تعلق ان سaza ki nahi ہوتی تو وہ ہمیں آزاد کرتے تھے، اب یہ تحریک یہی کرتے رہتے ہیں۔
کیا یہ لوگ خود کو جیل میں پھنسنا چاہتے ہیں؟ یہ بھی ایک سزا ہے نا کیں ان سaza kii nahi thi?
اج کی تحریک تحفظِ آئین جیسے لوگ حق کے لئے آواز اٹھانے والے لوگوں کو مدد دیتے ہیں، نا کہ ان سaza ko استعمال کرتے ہوئے
یہ تحریک کیسے چل سکتی ہے جس میں حق کے لئے آواز اٹھانے والے لوگ نہیں، اسے یہی کا مظاہرہ ہوتا ہے
تحریک تحفضِ آئین کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ صرف ایمان Mezari ki saza ko ختم کرنا نہیں چاہتے، بلکہ حق کے لئے آواز اٹھانے والوں کو مدد دینا چاہتے ہیں۔
اس ملک میں انصاف کی بات کرنے والے نہیں ہوتے، وہ سب اپنی ذاتی معاملات پر فخر کرتے ہیں اور حق کے لئے آواز اٹھانے والوں کو مظالماً نہیں دیتے۔