روس کے چیچن علاقے کے سربراہ رمضان قادریوف نے روس کی حکومت سے جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کرنے میں بھرosa ہونے کی ہدایت کیا ہے، اس طرح وہ جنگ جاری رکھنی چاہیں گے۔
انہوں نے کریملن میں صحافیوں سے گفتگو کرتی ہوئی کہا کہ ’میری رائے میں یہ بات یقینی ہے کہ جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔۔۔ میں مذاکرات کے خلاف ہوں‘۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات کر رہے تھے۔
انہوں نے خود کو صدر پیوٹن کا ’فُٹ سولجر‘ کہتے ہوئے کہا کہ روس کے حامیوں کی طرف سے یہ رائے واضح ہوتی ہے کہ روس چار سال سے جاری جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے اور اسے جاری رکھنا چاہیے۔
لہذا، جنگ کو روکنے یا جاری رکھنے کا فیصلہ مکمل طور پر صدر پیوٹن کے اختیار میں ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں اپنے اہداف کو سفارتکاری کے ذریعے حاصل کرنے کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر یہ ممکن نہ ہوا تو فوجی ذرائع سے انہیں حاصل کیا جائے گا۔
انہوں نے کریملن میں صحافیوں سے گفتگو کرتی ہوئی کہا کہ ’میری رائے میں یہ بات یقینی ہے کہ جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔۔۔ میں مذاکرات کے خلاف ہوں‘۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات کر رہے تھے۔
انہوں نے خود کو صدر پیوٹن کا ’فُٹ سولجر‘ کہتے ہوئے کہا کہ روس کے حامیوں کی طرف سے یہ رائے واضح ہوتی ہے کہ روس چار سال سے جاری جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے اور اسے جاری رکھنا چاہیے۔
لہذا، جنگ کو روکنے یا جاری رکھنے کا فیصلہ مکمل طور پر صدر پیوٹن کے اختیار میں ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں اپنے اہداف کو سفارتکاری کے ذریعے حاصل کرنے کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر یہ ممکن نہ ہوا تو فوجی ذرائع سے انہیں حاصل کیا جائے گا۔