روسی سربراہ رمضان قادریوف نے کہا ہے کہ روس کو یوکرین میں جنگ جاری رکھنی چاہیے اور اس سے پہلے مذاکرات کے خلاف ہونا چاہیے۔
انہوں نے کریملن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بیان دیا جس پر سخت گیر حلقوں کی بھرپور ناقدگی کی وجہ منچلی ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے روس کو جاری رکھنا چاہیے اور اس کے یوکرین پر کنٹرول میں رکھنے کے لیے مزید بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی میٹنگ میں شامل ہونے سے قبل ان کا یہ بیان متحدہ عرب امارات کے صدر سے بات کرنے کے لیے ان کے اس مقام پر سامنے آیا تھا جو انہیں ’فٹ سولجیر‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ابھی تک انہیں روس کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے لیکن اس بیان سے ان کی ایسی رائے کی ظاہر ہوئی ہے کہ روس اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے جنگ جاری رکھنا چاہیے اور اس سے پہلے وہ مذاکرات کے خلاف ہیں۔
انہوں نے کریملن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بیان دیا جس پر سخت گیر حلقوں کی بھرپور ناقدگی کی وجہ منچلی ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے روس کو جاری رکھنا چاہیے اور اس کے یوکرین پر کنٹرول میں رکھنے کے لیے مزید بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی میٹنگ میں شامل ہونے سے قبل ان کا یہ بیان متحدہ عرب امارات کے صدر سے بات کرنے کے لیے ان کے اس مقام پر سامنے آیا تھا جو انہیں ’فٹ سولجیر‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ابھی تک انہیں روس کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے لیکن اس بیان سے ان کی ایسی رائے کی ظاہر ہوئی ہے کہ روس اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے جنگ جاری رکھنا چاہیے اور اس سے پہلے وہ مذاکرات کے خلاف ہیں۔