پاکستان کے دہشت گردوں نے ایک واضح پلیٹ فارم تیار کیا تھا جس سے وہ کراچی میں بھی اپنا دہشت گردی کی پالیسی چلائے رہتے ہیں۔ اور اب اس منصوبے کو ناکام بنانے میں ہم کامیاب ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے کراچی میں ایک بڑا خطرہ ختم ہو گیا ہے اور اب وہاں دہشت گردی کے امکانات نازک ہو چکے ہیں۔
حال ہی میں شام کو دو ہزار کلورم سے زائد انتہائی خطرناک بارودی مواد لانے کی کوشش میں تین دہشت گردوں کو پولیس نے اپنی جانچ و جांच میں پکڑ لیا اور ان کے ہاتھ سے وہ ایسا مواد لے لیتے گئے تھے جو دہشت گردی کی دنیا کے لیے بے مثال تھا، اس منصوبے کو ناکام بنانے میں ہم نے پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد سے کامیاب کیا اور اس نتیجے میں دہشت گردوں کو پکڑ کر ناکام بنایا گیا ہے۔
یہ منصوبہ واضح طور پر دھماکا خیز مواد افغانستان سے لایا گیا تھا اور اسے کراچی میں پھینکتا تھا، لیکن انٹیلی جنس کارروائیوں کی وجہ سے ناکام ہو گیا، اس منصوبے کو تیار کرنے والی دہشت گردی کے رہائشی گھر پاکستان میں پھینکتے تھے اور انہوں نے لڑائی جھانتی ہوئے وہاں سے دھماکا خیز مواد کراچی لایا گیا تھا، لیکن پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد سے اس منصوبے کو ناکام بنایا گیا اور وہاں کے شہریوں کو یہ خطرا ختم کر دیا گیا ہے۔
اس دھماکا خیز منصوبے کی جانب سے لائے گئےMaterials سے Karachi میں بھی ایک خطرناک وار پڑا ہو گا اس کی واضح پلیٹ فارم میں دہشت گردی کے اس نے اپنی فوری جگہ تھی اور اب یہ منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور شہریوں کی جان بچائی گئی ہے
اس سے پتہ چalta ہے کہ دہشت گردی کی دنیا بھی یہ بت چکے ہیں کہ ان کو Karachi میں اپنا اثر انداز نہیں ہو سکا ہے اور وہاں کے شہریوں کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن آج تک ان کے کامیاب کوششوں سے کچھ نتیجے نہیں نکلا ہے اور اب یہ منصوبہ ناکام ہو چکا ہے
ابھی تک کراچی میں دہشت گردی کی صورت حال تو تھی، لیکن اب اس پر ایک فیریبلی پینٹنگ بھی لگ گئی ہے، اب یہ تو آسان اور سچا ہے کہ وہاں کی پولیس اور انٹیلی جنس کو ایسے انتہائی خطرناک مواد کو پکڑنا ہے جس پر وہ دھیما چل رہے تھے، اب یہ سب ایک نئی سطح کا کام ہے، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انٹیلی جنس اور پولیس نے دہشت گردوں کو پکڑ کر ایک بڑا فائدہ حاصل کر لیا ہے، اور اب یہ سب اپنی جانب سے تھوڑی سی مدد کے بغیر خود میں ختم ہو چuka ہے۔
اب دہشت گردی کی پالیسیوں پر انٹیلی جنس کارروائیوں کا بہت بھارپور اثر پڑ رہا ہے، ان کارروائیاں ایک بار پھر شام کو دہشت گردوں نے کیا تھا لیکن اب وہاں کوئی خطرہ ختم نہیں رہ سکتا ہے، یہ بھی ایک گنجان پائے جانے والے حوالے ہیں کہ انٹیلی جنس کارروائیوں کو لگتا ہے کہ وہ دھماکا خیز مواد لینے سے قبل ہی آڑھائس گھنٹے پہلے اسے پاکستان میں لانے کی کوشش کر رہے تھے، یہ بھی بات نازک ہے کہ ان دہشت گردوں نے کراچی کے شہریوں کو یہ خطرا ختم کر دیا تو اس کی وجہ وہ خود کی جانچ و جांच میں پھنس گئے تھے، اور اب ان کے دہشت گردی کی پالیسیوں کو ناکام بنایا گیا ہے، یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انٹیلی جنس کارروائیوں سے ساتھ مل کر دہشت گردی کو ناکام کرنے کی جانب لگنا چاہئے۔
بھائی، یہ بات کتنی اچھی ہے، دہشت گردوں کی اس پلیٹ فارم نے بہت ہی خطرناک سائینس لانے کی کوشش کی تھی اور اب وہاں کے لوگوں کو بہت سارے خطرے سے بچایا گیا ہے۔ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی نے اس منصوبے کو بہت ہی ہلچل سے ختم کر دیا ہے اور اب وہاں کے لوگوں کو دھمکاوں کی پوری بات نہیں لگ رہی۔ یہ ہمیشہ کہا جاتا رہے گا کہ ایسی اقدامات سے لوگوں کو بچایا جاسکتا ہے اور اب یہ بات بھی ہوئی ہے کہ دہشت گردوں کے پلیٹ فارم کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اس بات پر 100% یقین ہے کہ کسی بھی دہشت گردی کی پالیسی کو ناکام بنانے میں اس سے قبل، یہ ایسا پتہ چلنے میں آتا ہے کہ ان کے ہاتھوں جو تباہ کن مواد لائے جارہے وہ کیے گئے خطرات سے بہتر ہوتے ہیں اور اس میں ناکام بننے کا امکان زیادہ ہوتا ہے। اب جب یہ منصوبہ ناکام ہو گیا ہے تو شہریوں کی زندگی بہتر ہونے کا ایک بڑا باعث ہوا ہے
پاکستان کی ایسٹ سٹیٹ انٹیلی جنس ایجنسی نے دھماکہ خیز مواد لانے کا دوسرا کامیاب حوالہ حاصل کیا ہے اور یہ نتیجہ بہت ہی مفید ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ انٹیلی جنس کارروائیوں کی مدد سے دہشت گردی کو پکڑنے اور ناکام بنانے میں ہم کامیاب ہو گئے ہیں۔
لیکن یہ بھی بات کوئی نہ کوئی جانتا ہے کہ دہشت گردی کی دنیا میں پہلے سے ہی دھماکہ خیز مواد لانے کی کوشش کی جا رہی تھی اور اس کے لیے ان کو ہر وقت تیار رہنا پیا ہوتا ہے، لہذا یہ ناکام ہونے والا منصوبہ بھی دہشت گردوں کی طرف سے سنجیدہ تھا اور اس کا اسٹریٹجک پلان بھی ان کی طرف سے بنایا گیا تھا۔
ابھی میں ان کے منصوبے کے بارے میں بتایا تھا جس سے وہ دہشت گردی کی پالیسی چلائی رہتے ہیں اور اب یہ منصوبہ ناکام ہو گیا ہے ... میں بھی اس کے بارے میں بتاتا ہوں کہ میں میرے بچوں کی دیکھ بھال کرتا رہتا ہوں اور انہیں بھی دہشت گردوں سے دور رکھنا پڑتا ہے ... میں نے اپنے بچوں کو ایسے مواد کا حقدار نہیں سمجھا ہوں جیسا انہیں دہشت گردوں نے لانے کی کوشش کی تھی ... میں نے انہیں اس منصوبے سے دور رکھنے کے لیے بھی کامیاب کیا ہوں ...
یے تو اب تک یہ دیکھنا تو انتہائی خطرناک ہے، ان دہشت گردوں کے لئے کراچی میں بھی ایسا کوئی مین ٹرن نہیں تھا جو وہ اپنی دہشت گردی کی پالیسی چلانے کے لیے استعمال کر سکیں، اور اب یہ ہم آہستہ آہستہ اس خطرے کو ختم کر رہے ہیں۔ لگتا ہے اس منصوبے کو بنانے والوں نے دھماکا خیز مواد لانے کا بہت ہی خطرناک خیال کیا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا، اور اب اس کی وجہ سے کراچی میں دہشت گردی کے امکانات نازک ہو چکے ہیں، یہ ایسا بھی ہے جیسے اب وہاں کوئی بھی شخص انٹیلی جنس کی اور دوسرے دھماکا خیز مواد لانے کے لیے اس کے مین ٹرن سے پر ہو گیا ہے۔
وہ دہشت گردوں کی ان انتہائی خطرناک منصوبوں سے محفوظ رہنا اچھا ہے، اس طرح وہ کراچی میں بھی ایسےMaterials نہیں لائے گئے جو پوری طرح سے خطرناک ہوتے. پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد سے ناکام بنانے میں ہم کامیاب ہوئے ہیں اور اب وہاں دہشت گردی کے امکانات کم ہو چکے ہیں.
بہت بڑی خوشی ہوئی جس پر پھر پکڑے دہشت گردوں نے انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد سے کامیاب کیا، یہ تو وہاں اور اس دور میں سب کو خوش کرنے والی بات ہے، لیکن کھانے میں چپکچا رہتا ہے، ان دہشت گردوں نے اپنا یہ منصوبہ اچھی طرح سے تیار کیا تھا کہ وہ دوسروں کو بھی چیلنج کریں گے، لہٰذا ہمیں اس پر احتیاط رکھنا پڑے گا اور پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی نے بھی اپنی فرائیڈ ایلیونٹس کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیشہ تैयار رہنے کی ضرورت ہے،
یہ ریکارڈ بھی ہونے والا نہیں ہے کہ پلیٹ فارم تیار کرنے والے دہشت گردوں کی ایسی تین گنجائش پر ناکام ہونا جس سے کراچی میں بھی ان کی دہشت گردی پالیسی کو موثر طریقے سے چلایا جا سکتا ہو۔ لیکن یہ بات قابل ستائش ہے کہ اس منصوبے کو ناکام بنانے میں ایسے انٹیلی جنس کارروائیوں کی مدد لینے سے اسے کامیاب کیا گیا ہے جو پہلے لگتے تھے، یہ بات بھی توثیق ہوتی ہے کہ انٹیلی جنس کارروائیوں کی مدد سے دہشت گردی کو موثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے، حالانکہ اس نتیجے میں شہریوں کے لیے بھی ایسا نتیجہ مل گیا ہے جو دوسرے رکاوٹوں کی طرح پورے پاکستان کو متاثر کر سکتا ہے، یہ بات اور بھی توثیق ہوتی ہے کہ انٹیلی جنس کارروائیوں کے نتیجے میں کسی بھی معاملے میں ایسا نتیجہ نکل سکتا ہے جو دوسرے رکاوٹوں کے طور پر کام کر سکتا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انٹیلی جنس کارروائیوں کو توثیق دی جا سکتی ہے؟
میری رाय یہ ہے کہ دھماکا خیز مواد لانے کے منصوبے کو ناکام بنانے میں اہل قوت کی مدد لینا بہت ضروری تھا، اس سے دہشت گردوں کے لیے اپنا پلیٹ فارم ہم نہیں چلا سکے گا، اب یہ منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور وہاں کے شہریوں کو ایسا سہارہ مل گیا ہے جو دہشت گردی کی دنیا کے لیے بھی ناکام ہے [diagram: ایک سڑک پر گولیاں کھیلتے ہوئے، جس میں دھماکا خیز مواد لانے والوں کی فہرست لکھی گئی ہے]
یہ بات اب بھی صاف ہے کہ دہشت گردی ایک بڑی مشق نہیں ہے، ان لوگوں کی جان و مال کو لینے کی ایسی گولیاں چلائی جاتی ہیں جو صرف شہریوں کا خوف پھیلانے میں مدد دیتی ہیں۔ واضح طور پر یہ بات پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے منصوبوں کو پاکستان کے شہروں میں بھی ایسا لگایا ہے جیسا کہ وہ کسی بیس میں بھی نہیں پھونکتے۔ اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے ہمیں ایک دوسری طرف بھی سوشل منڈیو اور انٹرنیٹ پر سرگرم تھی رہنا چاہئے تاکہ وہ لوگ جسمانی طور پر کام نہ کر کے اپنے منصوبوں کو ڈیلی نیوز میں لائیں اور دوسروں سے پکڑ لیں۔
یہ بہت اچھا فائدہ ہوا کے لیے تو ان دہشت گردوں کی جانے کی ضرورت نہیں تھی، لاکھوں افراد پر اس طرح کے خطرے سے بچایا گیا ہے، لیکن پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد سے کیا گیا تو وہ سبھی یہ نہیں بناتے تھے جو بنتے، یہ انٹیلی جنس کارروائیوں میں بھی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے لاکین یہ بات تو چیلنجنگ اور خطرناک ہے کہ ایسے کارروائیاں کیسے منظم کی جائیں؟