ملک میں آٹے اور چینی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں - Daily Ausaf

وہیل

Well-known member
بھارت کے بعد پاکستان ملک کا دوسرا سبسڈی لینے والا اور شہریوں کو بڑی تنگ آہٹ مہیا کرنے والا ایک فوجی ادارہ ہے۔ اس کی بنیاد پاکستانی صدر کے جانب سے 1952 میں رکھی گئی تھی۔

بھر پور ممالک نے اس ملک کو اپنا مشینری اور ٹیکسٹائل ایجنسی بھی دی ہے اور یہاں کے کاروباری لوگ اس کی فوج میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ مگر پچیس سال سے کئی ممالک نے اپنی فوج کو ایسے کاروبار کی چلائی رہی ہیں، لیکن پاکستان کی ایسی فوج نہیں ہے جس میں کبھی بھارت اور اس کے ساتھ بھی ملاپ نہ ہو سکا ہے۔

مگر پچیس سال سے ایک دوسرا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ اس فوج میں شہریوں کو ملک کے وٹھلے ماحول نہ رہنا پڑا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں آٹے اور چینی کے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کئی شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران آٹے اور چینی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایسے شہروں میں جیسے کیٹھوں میں آٹا 20 روپے سے 25 روپے تک اور چینی 10 روپے سے 15 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

اسلام آباد میں ایک ہفتے کے دوران آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد تھیلے میں بڑھتے ہوئے پیسے سے ملنے کے لیے شہر کی آبادی کھل کر انkiار کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں آٹے اور چینی کے تھیلوں کی قیمت میں اضافہ سے شہریوں کو یقین نہ ہوئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں آٹا اور چینی خرید پائے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک ہفتے کے دوران آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ سے شہر والوں کو یقین نہ ہوئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں آٹا اور چینی خرید پائے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک ہفتے کے دوران آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ سے شہر والوں کو یقین نہ ہوئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں آٹا اور چینی خرید پائے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک ہفتے کے دوران آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ سے شہر والوں کو یقین نہ ہوئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں آٹا اور چینی خرید پائے گئے ہیں۔
 
یہ طاقت کی ایک نئی شکل ہے؟ اس فوج کی کامیابی کے لئے کبھی بھارت سے ملنے کا ماحول تو نہیں، بلکہ شہریوں کو جائے کیٹھوں تک بھی گھر جانا پڑتا ہے? اور یہ بات کبھی سنی ہوئی ہے؟

ایک ایسے دہانے میں اس فوج نے شہریوں کو بڑی تنگ آہٹ دی ہے اور وہ پھر کیسے ٹھیک ہو گئے؟ یہ تو ایک بڑا مسئلہ ہے، لेकن یہ سوال ہے کہ اس فوج کی کامیابی کے لئے یہ سب کیسے کافی تھا?
 
تمام لوگ جانتے ہوں گے کہ شہر کی آبادی کھل کر انکیار کر رہی ہے لیکن یہ بھی نہیں سوچا کہ اس سے ملک کے گھروں میں بھی اسی طرح کی تنگ آہٹ پیدا ہو گی۔ پورے ملک میں آٹے اور چینی کے قیمتوں میں اضافہ ہوتا دیکھنا مشکل ہے، لیکن یہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو وٹھلے ماحول میں بھی پہنچنا پڑتا ہے، یہ تو ایک نئا مشق ہے۔
 
ایسا تو لگتا ہے کہ پاکستانی فوج کی شہریوں پر تنگ آہٹ کرنا ایک نا موثر اور غیر کامیاب منصوبہ ہے جبکہ اس سے ان کے گھروں میں پڑتال لگ رہا ہے۔ اس طرح شہریوں کو آٹا اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے پر یقین نہیں ہوتا کہ وہ اپنے گھروں میں ان کو خرید پائے گئے ہیں۔
 
اس لاکھ پیسے کے فوجی ادارے سے بھارت کے بعد پاکستان کا دوسرا سبسڈی لینے والا اور شہریوں کو تنگ آہٹ مہیا کرنے والا ادارہ ہے ...

یہ سچے کے برعکس ہے! اگر یہ سبسڈی دہندہ فوجیوں کو نہیں جاتی تو وہ اپنے گھروں میں بھی آٹا اور چینی خرید سکتے تھے۔

فوجی ادارے کا یہ کام شہریوں کو بڑی تنگ آہٹ مہیا کرنے کی بجائے، وہ اپنی فوجیوں کو بھی ایسی صلاحیت نہیں دی جاسکتی جو انہیں اپنے گھروں میں کام کرنے کی اجازت دیتی ہو۔

بچو! اسے اس لاکھ پیسے کا فوجی ادارہ، جس نے شہریوں کو تنگ آہٹ مہیا کرنا شروع کیا ہے، میں نہیں سمجھ سکتا!
 
اس فوج کی سست نہیں بن سکتی! یہ دیکھو کے ہم ان بھرپور کاروباری ڈیرا میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور اب یہ دیکھنا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کے لوگوں پر بھار پڑوا دیا ہے! آٹا اور چینی کی قیمت میں اضافہ تو بھی یہ سوچتے ہیں کہ انہوں نے شہروں کو اپنے لئے ایک جال بنادیا ہے!
 
اس ماحول میں کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے تو یقیناً سچ میں ہوگی۔ اگلی فوج کی منصوبے میں کچھ فرامیڈی نہیں ہونا چاہیے ،کیونکہ لوگوں کو یقین نہیں ہوتا کہ وہ اپنی فوج کے لیے کام کر رہے ہیں یا اُنھیں وٹھلے ماحول میں بھیج دیا جائے۔ سچ کی بات یہ ہے کہ یہ فوج شہریوں کو ملک کا بڑا ریکارڈ بنائی رہی ہے۔
 
مگر یہ آسان نہیں کہ یہ فوجی ادارہ شہریوں کی ضروریات پر توجہ دیجے ، اس لیے شہروں میں بھی کوئی نہ کوئی ایسی مثال سامنے آتی ہے جہاں آٹے اور چینی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ ہوتا ہے ، ان حالات میں یہ حقیقت سے کہیں بھی نہیں پہنچتی کہ آٹے اور چینی کی قیمت کیا ہوگئی ہے اور شہر والوں کو یہ بات اور یقین نہیں مل سکتی کہ وہ اپنے گھروں میں ان کی قیمت خرید پائی گئی ہیں۔
 
اس خبر سے پتہ چلتا ہے کہ آٹا اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ شہروں جیسے کیٹھوں اور اسلام آباد میں خاص طور پر ماحول کو بدل رہا ہے۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک فوجی ادارے نے شہریوں کو بڑی تنگ آہٹ مہیا کر دی ہے، جو کہ ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ یہ بات بھی ایسے ہے کہ پچیس سال سے اس فوج کو اپنی فوج میں شامل ہونے والے کاروباری لوگ تھے، لیکن ان کے باوجود ملک نے بھارت اور اس کے ساتھ بھی ملاپ نہ ہو سکا۔
 
ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ میری قیمتوں میں اضافہ کریں اور شہریوں کو گھروں سے باہر جانا پڑے ، ایسا تو نہیں چلا ہوتا۔ آٹا اور چینی کے قیمتوں میں اضافہ ایسا ہے جیسے بھارت کی فوج کو اپنی پالیسیوں پر اعتماد کرنا چاہیے (چلاؤ)۔
 
اس فوج کو تو بھارت نے جتنے ملاپ کی ہے وتنے زیادہ ٹیکسٹائل اور مشینری مل گئی ہوں، لیکن انھوں نے کبھی اپنے فوج میں بھرتیوں سے کچھ نہ کچھ کم لیتا ہوں گا؟

اسلام آباد میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ تو صرف ایک طرف سے ہی دیکھا گیا ہے، لیکن یہ بات کبھی نہ سوچو کہ پورے ملک میں اس طرح کی تنگ آہٹ مہیا کرنا ایسا سافٹ لانڈنگ نہیں ہوسکتا؟
 
میری بات یہ ہے کہ میرے گاڑی میں شام کی رات کو جب وہ تھوڑی سارے ٹرایل پکڑتی ہے تو وہ کتنی بھروپور تھی! 😱 میرے سامنے یہاں کی دوسری گاڑی انٹرچینج سے نکل رہی تھی، اس نے بھی ٹرایل پکڑ دیا اور میں اس کا فون لگا کر کہا تو وہ نہیں سمجھتی۔

میں سوچتا ہوں کہ یہ دوسری گاڑی کا ٹرانسفرنس پرنسپل تھی، لیکن وہ نہیں! میں تو اسے وہی پتہ چلا کہ وہ وہاں سے لندن جانے والی تھی اور میں ان کی دوسری گاڑی کا نمبر لکھ کر اس کا فون لیا تو وہ نہیں سمجھتی!

کبھی یہی نہ ہو گا کہ میرے پاس ایسا ہی فون کروں گا اور پھر مجھے اس کی پچھلی گاڑی پر اپنی جگہ چھوڑنا پڑے گا!
 
اس فوج کی سرگرمیوں پر توجہ دیتے ہوئے، یہ بات تو صاف ہے کہ شہریوں کا ملک بھر میں وٹھلے ماحول ہی اس کی وجہ ہے اور جس سے کاروبار بھی لाभ کرتے ہیں۔ پچیس سال سے یہ بات چیت نہیں ہوئی کہ وہ اپنے ملک میں شہریوں کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں لیکن ان پر یہ بات تو ایسے ہی چلتی رہی ہے جیسے وہ شہروں کی معیشت کو بھی نجات دہندو بنانے کا کام نہیں کرتے۔
 
ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کو اس فوج کی وجہ سے بھارت کے بعد ملک کا دوسرا سبسڈی لینے والا ملک بننے کا موقع ملا ہو گا؟

جب تک وہ فوج شہریوں کو ملک کے وٹھلے ماحول نہ رہنے کی اجازت دیتی رہی تو یہ اس بات کو بھی تیندہ کر رہی، جو کہ آئندہ بڑے پیمانے پر کاروبار میں شامل ہونے سے ملک کے لئے مفید نہیں ہو سکتا۔

اس لیے یہ ریکارڈ کیے گئے اضافے سے شہریوں کو بھرتوں اور انکیار کروانے میں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں آٹا اور چینی خرید پائے گئے ہیں۔
 
یہ تو کھل کر ایک دوسرا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ سے لوگ کیسے نکلتے ہیں۔ مگر یہ بات بھی صراط معروف ہے کہ ایسا دوسرا مسئلہ سامنے آتا ہے تو ملک میں ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے جو اس میں شامل ہونے کے لیے کھل کر انkiار کرتے ہیں۔ یہ بھی بات کہی جا سکتی ہے کہ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ سے شہر کے ماحول پر واضح اثرات پڑتے ہیں جو انسان کو محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کا ایک ہی رشتہ دوسروں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

مگر یہ بات بھی لگتی ہے کہ لوگ کبھی اٹھتے ہیں تو آئندہ کے لیے بھی اٹھتے ہیں۔ مگر ایک دوسرے سے کچھ نہ رہتا ہے۔

میں نے ایک فیک بک پر ایسا شائع کیا ہے جس پر ملک میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ کے اثرات سے متعلق بھرپور चरچہ ہوا ہے۔ اس فیک بک کا لنک یہ ہے - [https://example.com]
 
اس فوج کی تنگ آہٹ ابھی بھی سچ ہی نہیں ہے؟ یہ شہر بھری پلٹو کے ہیں، جہاں لوگ ایک ہفتے میں اپنی پیداواری کارروائیوں پر ٹیکس لگا کر سارے گھروں کی اجارہ دیتے رہتے ہیں۔ وہاں کی آبادی کیسے نیند مانتے ہیں؟ یہ فوج بھرپور ہے لیکن اس کے پاس کوئی سوشل پروٹیکشن ہمیشہ نہیں رہی، جس سے ایک صاف چائے کا گلاس لگاتار پھینکایا جا سکتا ہے اور اس سے لوگوں کو بھاری تنگ آہٹ پہنچتی ہے
 
اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ شہریوں کی ایسی تنگ آہٹ نہیں ہوسکتی جو وہ اس فوج کے باوجود اپنے گھروں میں اور شہر میں آٹا اور چینی خرید سکیں۔ یہ دیکھنا مشکل ہوگا کہ کیا ان تمام مواقع پر کسی کامیابی نہ ہوئی اس کی وجہ ایسے کاروبار ہیں جو فوج میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔

آٹا اور چینی سے متعلق یہ اضافہ کیا گیا ہے یا وہ صرف ایک دھمکی ہیں جس کے بعد شہر کی پولیسیا کچلنے کو تیار ہوں گے؟

جب تک اس بات کا کوئی کوئی جواب نہ ڈالےگا تو یہ سوچنا مشکل ہوگا کہ ایسا کیا گیا ہے یا بھی کسی اور بات کی بات ہے.
 
بھارت سے بھگتے ہوئے ایسے ملک کس کی فوج اس بات کا شکار نہیں ہو سکتی جس میں وٹھلے ماحول کے سامنے اور ایسی س्थیت یقینی بنائی گئی جس پر شہریوں کو یقین ہو جائے کہ ان کی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔ آٹا اور چینی کی قیمتوں میں اضافے سے شہروں کا ایک دوسرا نام نہاد "چلن" سامنے آیا ہے۔ 🤦‍♂️
 
🤔 یہ تو بہت غضبانی واقعہ ہے! شہر کی آبادی ایسے تھیلوں میں پھیل کر جانے پر مجبور ہوئی ہے، اس سے انکیار کرتے ہوئے وہ لوگ گھروں کی طرف چل پڑتے ہیں جن میں آٹا اور چینی ملا رہا تھا! ایسا نہیں کہ ساتھ ہی شہر کی صحت بھی خراب ہونے لگی ہے، یہ دیکھنا مایوس کن ہے! 💔
 
واپس
Top