ملکی تناظر میں تحفظ ایمان ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے وہ ماحول جو پہلے دینی و عقیدتی حقیقتوں کے باوجود تھا، اب کمزور ہو رہا ہے۔ اس وقت تک یہ حقیقت پرتگیزی مسلم تیزی سے اپنی طاقت کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے جب تک وہ ملک میں مذہبی تنوع کو کم نہا سکی۔ اس طرح یہ حقیقت، جو ایک ایسے معاشرے میں سب سے پہلے قائم ہوئی جہاں تعلیم و علم کی عظمت اور دینی ملازمتوں کی عظیمیت کا عزم رہا، اب اس معاشرے میں صرف ایک طرف پر زوال دیکھتا ہے جب کہ دوسری طرف کوئی نئی شان۔
اب وہ لوٹوں کا لشکر، جو پہلے اپنے جتنے شاندار منفرد اور عظیم معاشروں میں بھرپور دینی و سماجی ثقافتی مہم تیز ہو کر آئے تھے، اب یہ اس کے خلاف توجہ سے محروم رہ گئے اور ان کے شاندار منفرد معاشروں کو یہی دیکھنا پڑا کہ وہ سب تو ایک ہی طرف سے چلے آتے تھے۔
اس طرح توحید کے تصور کی عظمت اور اس سے منسلک جانے والے معاشرے کی شان کو اب دیکھنا ایک جھیل جسم پر کہلاتا ہے، اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ وہ لوٹوں نے اپنی بے آفرین فوج کو دوسرے معاشروں میں اسے ایک منفرد اور ممتاز معاشرے کے طور پر رکھنا ہوگیا ہے۔
اور اب وہ لوٹوں کا لشکر، جو پچھلے کی طرح اس معاشرے میں بھرپور دینی و سماجی مہم تیز کر رہا ہے، یہاں تک کہ ایک نئی قوم ہو گئی ہے، اب اس معاشرے میں جہالت اور غلط فہمی کو پھیلانے والے اس لشکر کے ساتھ اپنے تنازعات اور رائے پر مبنی سرگرمیوں میں گھرا ہوا ہے۔
اس طرح توحید کی خالص وضاحت، جس کو پچھلے کے ساتھ دینی و سماجی مہم تیز کرنے والے معاشروں نے اپنی زبانی اور لکھی ہوئی سرگرمیوں میں دیکھا تھا، اب اس کی فریبی اور پیداواری شان پر کھل کر رکھ دیا گیا ہے۔
اس طرح توحید، جس کو پچھلے کی طرح ایک ایسے معاشرے میں دینی و سماجی مہم تیز کیا تھا، اب اس سے منسلک نئی قوم کے حال پر ایسی جھیل جسم ہے۔
اب وہ لوٹوں کا لشکر، جو پہلے اپنے جتنے شاندار منفرد اور عظیم معاشروں میں بھرپور دینی و سماجی ثقافتی مہم تیز ہو کر آئے تھے، اب یہ اس کے خلاف توجہ سے محروم رہ گئے اور ان کے شاندار منفرد معاشروں کو یہی دیکھنا پڑا کہ وہ سب تو ایک ہی طرف سے چلے آتے تھے۔
اس طرح توحید کے تصور کی عظمت اور اس سے منسلک جانے والے معاشرے کی شان کو اب دیکھنا ایک جھیل جسم پر کہلاتا ہے، اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ وہ لوٹوں نے اپنی بے آفرین فوج کو دوسرے معاشروں میں اسے ایک منفرد اور ممتاز معاشرے کے طور پر رکھنا ہوگیا ہے۔
اور اب وہ لوٹوں کا لشکر، جو پچھلے کی طرح اس معاشرے میں بھرپور دینی و سماجی مہم تیز کر رہا ہے، یہاں تک کہ ایک نئی قوم ہو گئی ہے، اب اس معاشرے میں جہالت اور غلط فہمی کو پھیلانے والے اس لشکر کے ساتھ اپنے تنازعات اور رائے پر مبنی سرگرمیوں میں گھرا ہوا ہے۔
اس طرح توحید کی خالص وضاحت، جس کو پچھلے کے ساتھ دینی و سماجی مہم تیز کرنے والے معاشروں نے اپنی زبانی اور لکھی ہوئی سرگرمیوں میں دیکھا تھا، اب اس کی فریبی اور پیداواری شان پر کھل کر رکھ دیا گیا ہے۔
اس طرح توحید، جس کو پچھلے کی طرح ایک ایسے معاشرے میں دینی و سماجی مہم تیز کیا تھا، اب اس سے منسلک نئی قوم کے حال پر ایسی جھیل جسم ہے۔