ملکی تناظر میں تحفظ ایمان ایک بڑا چیلنج - Latest News | Breaking New

عقاب

Well-known member
ملکی تناظر میں تحفظ ایمان ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے وہ ماحول جو پہلے دینی و عقیدتی حقیقتوں کے باوجود تھا، اب کمزور ہو رہا ہے۔ اس وقت تک یہ حقیقت پرتگیزی مسلم تیزی سے اپنی طاقت کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے جب تک وہ ملک میں مذہبی تنوع کو کم نہا سکی۔ اس طرح یہ حقیقت، جو ایک ایسے معاشرے میں سب سے پہلے قائم ہوئی جہاں تعلیم و علم کی عظمت اور دینی ملازمتوں کی عظیمیت کا عزم رہا، اب اس معاشرے میں صرف ایک طرف پر زوال دیکھتا ہے جب کہ دوسری طرف کوئی نئی شان۔

اب وہ لوٹوں کا لشکر، جو پہلے اپنے جتنے شاندار منفرد اور عظیم معاشروں میں بھرپور دینی و سماجی ثقافتی مہم تیز ہو کر آئے تھے، اب یہ اس کے خلاف توجہ سے محروم رہ گئے اور ان کے شاندار منفرد معاشروں کو یہی دیکھنا پڑا کہ وہ سب تو ایک ہی طرف سے چلے آتے تھے۔

اس طرح توحید کے تصور کی عظمت اور اس سے منسلک جانے والے معاشرے کی شان کو اب دیکھنا ایک جھیل جسم پر کہلاتا ہے، اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ وہ لوٹوں نے اپنی بے آفرین فوج کو دوسرے معاشروں میں اسے ایک منفرد اور ممتاز معاشرے کے طور پر رکھنا ہوگیا ہے۔

اور اب وہ لوٹوں کا لشکر، جو پچھلے کی طرح اس معاشرے میں بھرپور دینی و سماجی مہم تیز کر رہا ہے، یہاں تک کہ ایک نئی قوم ہو گئی ہے، اب اس معاشرے میں جہالت اور غلط فہمی کو پھیلانے والے اس لشکر کے ساتھ اپنے تنازعات اور رائے پر مبنی سرگرمیوں میں گھرا ہوا ہے۔

اس طرح توحید کی خالص وضاحت، جس کو پچھلے کے ساتھ دینی و سماجی مہم تیز کرنے والے معاشروں نے اپنی زبانی اور لکھی ہوئی سرگرمیوں میں دیکھا تھا، اب اس کی فریبی اور پیداواری شان پر کھل کر رکھ دیا گیا ہے۔

اس طرح توحید، جس کو پچھلے کی طرح ایک ایسے معاشرے میں دینی و سماجی مہم تیز کیا تھا، اب اس سے منسلک نئی قوم کے حال پر ایسی جھیل جسم ہے۔
 
میں سوچتا ہوں کہ یہ حقیقت توحید کی بہت مشق ہے اور اس کا فائدہ ملک میں ایک جھیل جسم بنا رہی ہے۔ میرے خیال میں وہ لوٹوں نے اپنی طاقت کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ اس معاشرے میں دینی و سماجی مہم تیز ہونے کی بات کرو نہیں چلو، یہ بھی ایک چیلنج بن رہا ہے۔
 
اس وقت ملک میں تحفظ ایمان کو دیکھنے والوں کو یہ احساس کرنے لگا ہے کہ وہ ایسے معاشرے سے اپنا سفر ختم کر رہا ہے جس نے دینی و سماجی مہم تیز کی ہیں، اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ معاشرے ایک ایسے معاشرے سے زیادہ ہیں جو ایک نئی قوم بن گیا ہے جس کی دینی و سماجی مہم تیز ہو رہی ہے۔ یہ سبھی کچھ ایک لاشر کو سمجھنے پر بھری نظر دے رہا ہے، جو اب اس معاشرے میں پھیل کر جارہا ہے۔
 
اس وقت تک یہ سوچنا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ کیا پاکستان کا ملک وطنیت میں ایسا ہی ساتھ نہیں دیتی جس سے اس کا ملک وطنیت کا معاشرہ ہمارے سچے تعلیم اور علم کی عظمت پر مشتمل تھا. اب پچھلے کی طرح کسی نئی قوم نہیں بن رہی جس میں سب سے پہلے دینی و عقیدتی حقیقتوں کے باوجود ایک منفرد معاشرہ ہو گیا ہوگا۔

یقیناً اسی وقت تک یہ سوچنا بھی مشکل ہو گا کہ کیا وہ لوٹوں کا لشکر، جو پچھلے سے دینی و سماجی مہم تیز کر رہا ہے، اب اس معاشرے میں ایک منفرد اور ممتاز معاشرے کے طور پر اپنی طاقت کو بڑھانے کی کوشش نہیں کر رہا ہوگا۔

اس طرح کی غلط فہمی سے نکلنا اور ایک منفرد معاشرے کو بحال کرنا ایسا ہی مشکل ہو گا جیسا کہ اسے پچھلے کی طرح دینی و سماجی مہم تیز کرنے والے معाशروں نے کیا تھا۔
 
اس معاشرے کی جانب دیکھو تو پتہ چلتا ہے کہ توحید کی وہ فریبی شان اب اور بھی زیادہ تیز ہو رہی ہے۔ اس لہجے سے جب لوٹوں کا لشکر کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو وہ سبھی ان کی شان بے آفرین فوج کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن یہ کیا وہ سچ میں بے آفرین نہیں تھا؟
 
اس معاشرے کی سرگرمیوں میں توحید کو دیکھنا پھر ایک حقیقت ہے، اور اس کا نتیجہ وہی ہوگا جس سے یہ معاشرہ پیدا ہوا تھا۔

اس معाशرے میں توحید کی کوشش کرنے والے لوٹوں کا لشکر اب اپنی اسی قوت کو استعمال کر رہا ہے، لیکن اس کا مقصد وہی نہیں ہے جس سے پہلے یہ معاشرہ متحد تھا۔

اس لشکر کا مقصد اب اور بھی ایک منفرد معاشرہ بنانا ہے، اور اس لیے وہ نئی قوم کو اس کے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے۔
 
تough situation hai yeh, ملک میں تحفظ ایمان کو چیلنج karte rahi hain. pahle dini aur aqeedati haqiquat jo tha, ab usko kamzor dikh raha hai. Portugal ki musalmanon ko apni takat badhane ki koshish kar rahi hain jab tak unhone mazhabi tanvar ko kam nahi skaya.

abhi wo lutoon ka lashkar jo pahle apne sadar manfird aur saima masharo mein barpoor dini samaji thaqafati mahmm taez karte the, ab usse khilaf taqat se mohrom reh gaye hain aur unhein pehle ki tarha shan dekhna pada hai ki woh sab ek hi taraf se chalte the.

tohif ki aazam aur ise manaske jameen ko ab dikhana ek jheel jism hai, aur ye bhi samajha jaata hai ki lutoon ne apni beaafirin fujak ko dusre masharo mein iska manfird aur mukhtsar mashraka rakhna hogaya.

aur ab wo lutoon ka lashkar jo pichle tarah iss mashraka mein barpoor dini samaji mahmm taez karte hain, uski taqat tak leke ek nai qom ho gai hai. ab unhein iss mashraka mein jaalat aur galat fahmi ko phailane wale lashkar ke saath apne tanazon aur raeye par baze saragrimiyon mein rahi hui.

tohif ki aazam ki khali wajahat, jo pehle duniya mein pahle ki tarha dini samaji mahmm taez karte the, ab iski frebee aur paidaavari shan par khul kar rakhi gayi hai.
 
یہ حقیقت بہت چیلنجنگ ہے کہ ملک میں دینی و سماجی مہم کی شان کو کم کرنے والا لشکر اب اس معاشرے میں ایسی جھیل جسم پائی جا رہی ہے جس پر توحید کا تصور بہت کم زور دیا جاتا ہے۔ اس سے ہمیں سوچنے پر مجبور کرنا چاہئیے کہ توحید کے تصور کی عظمت کیوں کمزور ہوئی؟ اور نئی قوم کے حال پر اسے کوئی لازمی تعلق نہیں ہے۔
 
یہ بات ایک ساتھ رکھنی چاہیے کہ یہ تحفظ ایمان ایک بڑا نتیجہ تھا، لیکن اس کی وجہ سے اب ملکی تنوع کو کم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس معاشرے میں لوٹوں کے لشکار کا توحید کی عظمت اور اس سے منسلک معاشروں کی شان پر نقصان دہ ہو گیا ہے، لیکن اب یہ نہیں کہ لوٹوں نے اس معاشرے کو ایک منفرد اور ممتاز معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے، بلکہ انھوں نے اسے ایک جھیل جسم پر دیکھنا پڑا ہے۔
 
تجربے سے ملا پتا ہے کہ جدوجہد کی وہ چال جو دوسرے معاشروں میں ایک نئی قوم کو اٹھانے کا طریقہ ہے، اس میں بھی انحصار ہوتا ہے کہ وہ معاشرے یہ سب کچھ کیسے سدباب کرتے ہیں؟
 
اس ملک کی تحفظ امaan کو دیکھتے ہوئے میرے لئے اس معاشرے کی پیداوار اور زبانی شان توحید سے بڑی تازہ ہے 🤔 یہاں تک کہ وہ لوٹوں کا لشکر جسے پچھلے کی طرح دینی و سماجی مہم تیز کرنے والے معاشروں نے اپنی زبانی اور لکھی ہوئی سرگرمیوں میں دیکھا تھا اب اس معाशرے میں جہالت اور غلط فہمی کو پھیلانے والے اس لشکر کے ساتھ گھرا ہوا ہے تو یہ وہی حقیقت ہے جو یہ معاشرے نے اپنی زبانی اور لکھی ہوئی سرگرمیوں میں دیکھی تھی 🤷‍♂️
 
میں کہتا ہوں وہ لوٹوں کا لشکر تو بہت ہی منفرد اور شاندار معاشروں میں ہوا کر آئے تھے پلیٹس

انھوں نے ایک ایسا معاشرہ بنایا جو دنیا کی سب سے بڑی شان مند اور ممتاز قوم کا حقدار تھا میتھو

اب وہ لوٹوں کا لشکر یہاں تک کہ پچھلے کی طرح اس معاشرے کو دیکھ رہا ہے اور اس سے منسلک ہوا کر رہا ہۭ۫ہ وہی پھیلانے والے لشکر کے ساتھ ایسے تنازعات میں رچھا ہو گيا ہے جو دنیا کی سب سے نئی قوم کو متاثر کر رہا ہے

اس لیے یہ لوٹوں کا لشکر تو ہی اب ہمیشہ سے دیکھ رہا تھا اور پچھلے کی طرح اس معاشرے کو اپنے معاشرے میں بھی دیکھ کر فریبی اور پیداواری شان کے ساتھ رکھتا ہو گيا ہے

اب ایسا لگتا ہے کہ وہ لوٹوں کا لشکر اب ہمیشہ سے دیکھ رہا ہے اور اس معاشرے میں توحید کی خالص وضاحت کو اپنے لئے ایک منفرد معاشرے کے طور پر دیکھ کر رکھتا ہو گيا ہۭ۫ہ
 
اس وقت یہ واقف ہو رہا ہے کہ ملکی تنازعات کو دھمکاوں اور دوسرے معاشروں کی طرف اشارہ کرنے کے بجائے، اس پر فہم اور سمجھ سے کام کرنا ہوگیا چاہیے.
 
اس معاشرے کی رہنمائی کرنے والے اس forum کے ماسٹرز کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسے موضوعات پر بات چیت نہیں ہونے دی جاتی، جو آپ کی طرف توحید اور توازن کے تصور سے منسلک ہوتے ہیں، حالانکہ یہ موضوعات واضح طور پر ایسے Topics سے متعلق نہیں ہیں جو آپ کے forum کو دوسرے Topics کے ساتھ بے مشrug رکھتے ہیں۔
 
یہ واضح ہو گيا ہے کہ ملک کا تنازعہ توحید کے تصور کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن اس معاشرے میں پہلے توحید کی زبانی اور لکھی ہوئی سرگرمیوں سے کیا فائدہ ہوا؟ اب دیکھا جاتا ہے کہ وہ لوٹوں کا لشکر، جو پچھلے میں اپنی زبانی اور لکھی ہوئی سرگرمیوں سے معاشرے کو دینی و سماجی مہم تیز کر رہا تھا، اب اس معاشرے میں جہالت اور غلط فہمی کو پھیلانے کے لئے ہی گھرا ہوا ہے۔

اب جب یہ لوٹوں کا لشکر اپنی تیز رفتار پر چلتا ہوا دیکھا گیا تو، وہ لوٹوں کے لیے ایک بڑا موقع ہوا، ان کو یہ دیکھنا پڑا کہ وہ اپنی تیز رفتار سے کیسے اپنے معاشرے کو زوال دیکھا جائے؟
 
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ توحید کی بے آفرین فوج، جو دوسرے معاشروں میں اسے ایک منفرد اور ممتاز معاشرے کے طور پر رکھنے کو جاری کر رہی ہے، اب اس کا کیا مقصد ہے؟

اب توحید کی فریبی شان سے بھرپور معاشی اور سیاسی سرگرمیوں کی پیداوار ہو رہی ہے۔ جبکہ اس کا مقصد، وہی ہے جو پچھلے سے تھا، یعنی ایک منفرد معاشرے کو بنانے کی کوشش۔

اب توحید کی بے آفرین فوج کو دوسرے معاشروں میں اپنی طاقت کو بڑھانے کی ضرورت ہو رہی ہے۔

اب یہ بات پتہ چلتی ہے کہ توحید کی فریبی شان سے بھرپور معاشی اور سیاسی سرگرمیوں کی پیداوار، توحید کی خالص وضاحت کو تیز کر رہی ہے۔

اس طرح توحید کی بے آفرین فوج، جو دوسرے معاشروڹ اسے ایک منفرد اور ممتاز معاشرے کے طور پر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اب اس سے منسلک نئی قوم کا حال پتہ چلتا ہے۔

عوام کو یہ بات پتہ چلی گئی ہے کہ توحید کی بے آفرین فوج، جو دوسرے معاشروں میں اسے ایک منفرد اور ممتاز معاشرے کے طور پر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اب اس سے منسلک نئی قوم کا حال پتہ چلتا ہے۔
 
اس معاشرے کی شان کو دیکھ کر یہ سمجھنی مشکل ہوگی کہ توحید اور ایک ایسا معاشرہ کیسے منسلک ہوتے ہیں، جہاں لوگ نئی شان میں رہتے ہیں اور دوسرے معاشروں کو ان کی شاندار مہموں سے آگاہ کرتے ہیں۔

اس لشکر، جو پچھلے میں بھی دینی و سماجی مہم تیز کر رہا تھا، اب نئی قوم کے ساتھ اپنے تنازعات اور سرگرمیوں میں گھرا ہوا ہے، لیکن دوسرے معاشروں کو اس کی شان بھی سمجھائی نہیں جاسکتی۔

یہ سوچنا مشکل ہوگی کہ وہ لوٹوں نے اپنی فوج کو دوسرے معاشروں میں اسے ایک منفرد اور ممتاز معاشرے کے طور پر رکھنا ہوگیا تھا، یا تو وہ لوٹوں نے اپنی فوج کو دوسری طرح سے استعمال کر دیا ہوگا۔
 
اس وقت کی معاشرے میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ وہی بات کرتے ہیں جو وہ سمجھتے ہیں اور وہی سرگرمیاں کرتی ہیں جس میں وہ معتدل رہتا ہے، لیکن انہیں خود کو چیلنج کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنی فکروں کا عزم بھی کرسکیں اور نئی طرف کی طرف لگ سکیں 🤔
 
جس وقت توحید کے تصور کو دیکھتے ہیں تو یہ لگتا ہے کہ اس کی وضاحت صرف اہل حقدار کے لیے ہے، مگر اب جب لوٹوں نے خود کو دوسرے معاشروں میں ایک منفرد اور ممتاز معاشرے کی حیثیت سے اپنا نام رکھ لیا ہے تو یہ توحید کتنی پیارہ ہوگی؟ اس معاشرے میں جہالت اور غلط فہمی کو پھیلانے والے لوٹوں نے ایک نئی قوم کی بنیاد رکھ دی ہے، اس سے توحید کا مقصد بہت زبردست تھا اور اب یہ سوچنا کہ توحید کیا ہو گا، ایسا لگتا ہے کہ اس کی وضاحت صرف ایک جھیل جسم ہی رہ گئی ہے!
 
واپس
Top