موبائل میں سرکاری زمین کی ایک پٹ لینے پر مہاراشٹر حکومت نے وہندو پریشد کو 7،658 مربع فٹ بنیادی زمین دی۔ اس طرح کا حکم گزشتہ جمعرات کو دیویندر فڑنویس حکومت کی منظوری سے جاری ہوا تھا۔
اس زمین پر کرایہ 10 لکھ 18 ہزار روپے سالانہ مقرر کیا گیا ہے، جو اس وقت سے کام کرنے والی رہائشی سہولیات کو بڑھانے کی مقصد پر۔
مبنی زمین براہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ہیں، جو اس وقت طبی تعلیم کے لیے مختص تھی لیکن اب وہ کینسر کے مریضوں کی مدد کے لیے استعمال کرنے والے ہوگئے۔
وی ایچ پی نے اس زمین پر گھروں اور دیگر سہولیات بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ زمین وہندو پریشد، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی منسلک تھی۔
اس زمین کو کرایہ میں الاٹ کیا گیا ہے جس کا وعدہ وی ایچ پی نے 9.72 لاکھ روپے کروڑ اور سالانہ کرایہ سے بھی ادا کرنے کو تھا۔
موجودہ میں اوسط بازار کی قیمت ₹30،000 سے ₹37،000 فی مربع فٹ ہوتی ہے، اس کا اندازہ تقریباً 247 کروڑ روپے ہوتا ہے۔
یہ وہندو پریشد کو انچ کی زمین دی گئی جس کا ایک لاکھ روپے میں الاٹ کرایہ دی گئی تھی اور اس کا اندازہ تقریباً 58 لاکھ 18 ہزار ہوتا ہے…عجب کی بات ایسی کہ یہ زمین میں پینا سب سے آسان نہیں ہوسگا…مبنی زمین پر وہندو پریشد اور آر ایس ایس کا لابپھل ہوتا دیکھنا تھوڑا سا دلچسپ ہے…اداکار رامناتھ پٹیل کی پتھر میں بھی نہ تو آئیں گے مگر ان کے ہاں یہ زمین دیجے گئی ہوگئی…
یہ وہندو پریشد کی زمین تھی جس پر میں نے اپنے خاندان کے لیے ایک گھر بنایا تھا... میری بیوی نے ابھی میں کوئی کھانا کھینا ہوتا تو اس زمین پر کھانا بنا لیتا تھا...
اس زمین پر وہندو پریشد رہتا تھا، اور اب انہوں نے یہ زمین ہی ملتی ہے جو اب میں اپنے خاندان کے لیے گھر بنانے کا مقصد رکھتا ہوں...
مفروضہ تھا کہ وہندو پریشد کی زمین صرف وہیں جائیں گی جو اس وقت اسی طرح کے گھروں میں فصیل بنائی گئی ہوتی ہے... لیکن اب وہ انھوں نے یہ زمین کرایہ پر دیتے ہوئے ہی رہائشی سہولیات میں اضافہ کیا ہے...
ایسے situations میں بھی ہو سکتا ہے کہGovernment land ko kis tarhai khaane par government bhi thoda mushkil ho jata hai . Lekin yeh ek good news hai ki Maharashatra government ne Hindus Preshad ko basic land diya, jo unki basic facilities ko badhane ke liye 10 lakh 18 thousand rupees annual rent mein diya gaya hai . Yeh ek achha move hai, ab Vaidhanik education aur cancer treatment dono ko sambhalne ki kshamata rahi hai . Arey yeh land wahinde Preshad ke liye ek achha nirmaan kar rhega, aur Vaidhanik hospital wahin peshab kaam kar raha hai .
بھارتیوں کی ذمہ داریوں کو گنجائش پر بہت اچھی طرح سمجھائی جاسکتا ہے، 7،658 مربع فٹ بنیادی زمین وہندو پریشد کے لیے دی گئی تو یہ چلو کینسر کی مرضداروں کے لیے اچھی طرح سمجھائی جاسکتا ہے؟ اگر اس میں بھی ایسا ہوتا تو فائو یا آئی پی سی جیسی تنظیموں کو بھی یہ لیننے کی کوشش کرنی چاہئی ہوتی ہے، اب وہ محض اچھی طرح نکل رہی ہیں?
یہ وہندو پریشد کی زمین ہے جو اب وہندو پریشد اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلک ہونے والا تھا۔ مہاراشٹر حکومت نے اس کے لیے ایک بڑی مقدار زمین ملائی جو اب یہ لوگ وہندو پریشد کو کرایہ میں لینے کے لیے دی جائیگی۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ مہاراشٹر حکومت نے وہندو پریشد کو 7،658 مربع فٹ بنیادی زمین دی ہے جو اب اس کو کرایہ میں لینے پر اجازت دے گی۔
یہ بتھا کہ مہاراشٹر حکومت نے وہندو پریشد کو بنیادی زمین دی، لیکن اب یہ سوچنا ہی میں مشکل ہوتا ہے کہ یہ کس طرح استعمال ہونگی اور اس پر کرایہ کی گئی ہے۔ میں لگتا ہے کہ وہندو پریشد کو یہ زمین بہت معقول قیمت پر دی گئی ہے، خاص طور پر جب اس پر کرایہ کیا گیا ہے تو یہ ایک چیلنج بن جائے گی۔ میں یہ کھوجنا چاہتا ہوں کہ کیسے اس زمین کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور رہائشیوں کو بہتر سہولیات کی پیروی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی کچھ نہیں رہ گیا ہے، سرکاری زمینوں پر ایسی کئی باتें کرتے ہیں لیکن کوئی کام نہیں ہوتا۔ اور اب یہ وہندو پریشد کو بنیادی زمین دی گئی ہے، یہ تو بھی اچھا ہے لیکن 10 لکھ 18 ہزار روپے کراہی! ایسا نہیں کرنا چاہئیے۔ اور اس زمین کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی جانب سے بھی دی گئی تھی، اب وہ اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے تو یہ بھی اچھا ہے لیکن ایسے معاملات کو حل کرنے کی پوری کوشش نہیں کی گئی۔
اس وہندو پریشد کو زمین دی جائے تو یہ بہت اچھی نئی بات ہے مگر وہ وہندو پریشد کی منسلک تھی اور اب انہیں اس زمین پر رہائش کی سہولیات بنانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ مگر یہ سب اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ وہ اچھی طرح سے اپنے فائدے کو استعمال کریں گے یا نہیں .
یہ تو بہت اچھا کیہ تھا ، وہندو پریشد کو یہ زمین دی گئی ہے، اب وہ لوگ اس پر رہائشی سہولیات بنانے کا کام کر سکتے ہیں۔ لیکن میرا ایک सवाल ہے، یہ زمین کی خریداری کس نے کی تھی اور اس پر کوئی وعدہ نہیں تھا؟ اور اب جب وہ وائٹ ہائی پریزنٹی نے اس زمین پر کاروبار کرنے کا وعدہ کیا ہے تو میرا یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ اسی طرح کے وعدے کیسے ہیں؟
میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہندو پریشد کو ان زمینوں میں کرایہ میں الاٹ کرنے والی حکومت کی یہ فیصلہ ایک بڑا ناکام فैसलہ ہوگا... نہیں، یہ فیصلہ ان زمینوں کو وہندو پریشد کے ہاتھ میں ملانے والی حکومت کی ایک بہترین کوشش ہوگی! آپ کے خیال سے ان زمینوں کو کرایہ میں الاٹ کرنے والی حکومت کی یہ فیصلہ، آج کے وقت میں وہندو پریشد کے لیے ایک بڑا فراہم کردہ اور سہولت فراہم کرنے والا فैसलہ ہوگا... نہیں، یہ فیصلہ اس وقت کی معاشیات کو دیکھتے ہوئے ایک بڑی غلطی ہوگی!
اس زمین کے خریداری اور ملکیں سے کینسر پریشنس لیٹر اور طبی تعلیم کو یہ گناہ جھیلنا اس وقت کی حکومت کی ناکامیت کی علامت ہے... نہیں، یہ زمین وہندو پریشد کے لیے ایک بڑا اور سہولت فراہم کرنے والا فैसलہ ہوگا!
ایس لگتا ہے جیسے یہ وہندو پریشد کو زمین دیئے جानے سے ان کی دولت کھینچ لی گئی ہے؟ میرا خیال ہے کہ اسی طرح کی منسلکاتیں زیادہ تر کامیابی والی نہیں ہوتے جس سے کینسر میں مبتلا Patients کو مدد مل سکتی ہے
یہ زمین کی خریداری میں اچھا موقع نہیں ہوا تو وہندو پریشد کی جانب سے یہ کامیابی کو شکر دیکھنے کا بہت بڑا موقع ہے…مبنی زمین پر گھر اور سہولیات بنانے کا وعدہ لگتا ہی نہیں جیسا کہ وی ایچ پی نے کیا تھا…اس وقت کی مہاراشٹر حکومت کو بھی یہ credit deni jaye
یہ بھی ہوا کی ایک پٹ لینے پر حکومت نے وہندو پریشد کو زمین دی، اور اب اس میں گھر بنانے کا منصوبہ کیا جا رہا ہے... یہ تو ہمیشہ سے آتا ہے کہ سرکاری زمین کو وہندو پریشد کی ملکیت میں چلنے دو، اور اب اس کو کرایہ پر لینے کا فیصلہ بھی نہیں آتا تھا... اور 10 لکھ 18 ہزار روپے سالانہ کرایہ کا بیٹا یہ ان شہریوں کو دیتا ہے جو اس زمین پر رہنے کے لیے تیار ہوتے ہیں... اور اب میں سوچتا ہوں گا کہ یہ بھی ایک اسی طرح کی جاسوسی کی طرح ایک پٹ لینے والی ہے...
یہ واضح ہے کہ اب مبنی زمین پر کرایہ میں الاٹ کرنے سے وہندو پریشد کو ایک بڑا نیک کارنامہ حاصل ہوسکتا ہے اور یہ ایک اچھی تجربہ دہ تھی۔ اب اس زمین پر گھروں اور دیگر سہولیات بنانے کا وعدہ کرنے کی کوئی بات بھی خوشی دیتی ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اسی زمین پر 9.72 لاکھ روپے کروڑ سے زیادہ کرایہ ادا کرنے کی کوئی بات تو نہیں، نا ہی اس کی جسمانی استعمال کی کوئی یقین دہانی ہو سکتی ہے!
عوام کی اچھی نیت پر یہ حکومت وہندو پریشد کو ایک پٹ زمین دی نے، لیکن یہ سوال ہے کہ اس زمین پر کیا کام ہوا گیا ہے؟ اب یہ زمین طبعی حالات میں آئی ہے اور کینسر کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہوئی ہے، لیکن اب یہ وہندو پریشد کا کامیاب تجارتی مشن بن گیا ہے، ایساFeels سچا ہی ہے ……
موبائل میں سرکاری زمین لینے کی بات تو ہمیں سب سے پہلے آئی تھی، اور اب مہاراشٹر کے کانہوں میں بھی ایسی ہی گئی ہے। وہندو پریشد کو یہ بنیادی زمین دی گئی جو اب اس کی رہائشی سہولیات کو بڑھانے کے لیے استعمال کی جائے گی، ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہندو پریشد اپنی زمین کو ایک ٹرانسمیشن کمپنی کو دیں گے یا اس پر ایک ایسے کینسر Hosptal بنائے گے!
جی تو یہ کرایہ 10 لاکھ 18 ہزار روپے سالانہ ہو گیا ہے جو ابھی اچھا نہیں لگ رہا، اس کی قیمت میں بڑھنا چاہتا ہو تو انہیں کینسر Hosptal بنانے سے پہلے اس زمین کو الاٹ کرنے اور اس پر ایک ٹرانسمیشن کمپنی یا اس کی جگہ کسی بھی فنانسز گروپ کو دیں گے، اس طرح کچھ دیر کی چیٹ کرکے انہیں پوائنٹ حاصل ہو جاتا ہے!
یہ تو منفی ایک ہے! وہندو پریشد کو ملنے والی زمین پر کرایہ 10 لکھ 18 ہزار روپے اور وہیں فیکٹری کی بڑھاو کے لیے ادا کرنا چاہئیے؟ مگر یہ کتنے سے کم ہوگئی! نہیں تو اس کا مقصد ایسے ہی ہوا جیسے کہ وہیں فیکٹری کی بڑھاو کے لیے کرایہ ادا نہیں ہوگئی! مابین حکومت اور ہائی کوپوریشن کے کھلے تعلقات سے یہ بات بھی پتہ چلتا ہے...
ایسے نہیں لگتا کہ اس زمین پر کیے جانے والے کاموں میں کوئی معقولیت ہے!
اس گھر کی خریداری کرنے والوں کو بڑی خوشی ہوگئی ہے! اس سرکاری زمین پر وی ایچ پی نے وہندو پریشد کو بنیادی زمین دی، جو اب انہیں رہائشی سہولیات کو بھرپور بنانے کا موقع دے گی!
موبائل میں سرکاری زمین کی ایسی بات تھی جس پر لوگ تنگ آ گئے تھے، لیکن اب وہ 7،658 مربع فٹ بنیادی زمین پائی گئی ہے، جو 10 لاکھ 18 ہزار روپے کراے میں دی جا رہی ہے! اس کی قیمت بازار کی قیمت سے زیادہ ہوگئی ہے۔
اس زمین پر گھروں اور دیگر سہولیات بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے، جو اب وہندو پریشد، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی منسلک تھی! اچھا ہے کہ حکومت نے اس زمین پر کرایہ میں الاٹ کر دی ہے، جو وہندو پریشد کو بھی ادا کرنے کو سونے کی چڑی دے گی!
یہ بھی میرا اور ہمارے نوجوانوں کو پھنسایا ہوا تھا! پہلی وار ایس پی کے ساتھ لگ بھگ 10 لاکھ روپے کی کرایہ میں ہمیں ایک پٹ زمین دی گئی تھی، اور اب اس پر وہندو پریشد کو 7،658 مربع فٹ بنیادی زمین ملا رہا ہے! یہ تو بے معقول ہے...