بھاٹی گیٹ میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کے واقعے میں، جو شاندار طور پر لوگوں کی تردید اور غضب کو جنم دے رہا ہے، پولیس نے مقدمہ کے مدعی سے سادہ کاغذ پر دستخط لگایے جس پر وہ لواحقین Police پر زبردستی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایکسپریس نیوز کے مطابق متاثرہ خاندان نے انگوٹھا لگوانے کے بعد ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پولیس اہلکار زبردستی انگھوٹھا لگوا کر گئے، اور قصور وار محکموں کو ریلیف دینے کے لیے سادہ کاغذ پر انگوٹھے اور سائن کروائے گئے ہیں۔
دوسری جانب پولیس آپریشنز ونگ نے اپنے بیان میں بتایا کہ متوفی خاندان کے والد کو انگوٹھا کسی کو ریلیف دینے کے لیے نہیں لگوایا گیا بلکہ ڈیڈ ہاؤس میں وہی ایڈ کی درخواست مقدمہ میں تصحیح کے لیے لگوایا گیا۔
دالیل پولیس کا بیان ہے کہ والد کی درخواست مقدمہ میں سیفٹی افسر محمد دانیال کا ذکر تھا، گرفتار کرنے پر اسے پتا چلا سیفٹی افسر کا نام محمد حنظلہ ہے۔
ان کے مطابق مقدمہ کی درخواست کی درستی کے لیے انگوٹھا لگوا کر درخواست دوبارہ دی گئی، اور انگوٹھا لگاتے وقت خاندان متوفی کی لاش کے ساتھ ڈیڈ ہاؤس میں موجود تھا اور انویسٹی گیشن ونگ کی درخواست پر انگوٹھا لگای کر تصحیح کی کارروائی کی گئی۔
ان کا بیان ہے کہ ڈیڈ ہاؤس سے نکلتے ہوئے وقت کی قلت کے باعث انگوٹھے لگوا کر کارروائی کی گئی اور درست کوائف کے ساتھ نئی درخواست کے مطابق مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔
دسپلائڈ پولیس آپریشنز ونگ کا بیان ہے کہ پولیس دکھی خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے، واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، ایس ایچ او معطل ہیں اور اعلی سطح کی انکوائری جاری ہے۔
یہ کبھی بھی نہیں ہوا گا کہ پولیس کے عہدیداروں کو اس طرح سے کام کرنے کی اجازت دی جائے گی، انگوٹھا لگای۔ وہ لوگ جو آپریشنز ونگ کی ایک بار بھی بات نہ کرتے تو اُس وقت تک اس کی وجہ سے کارروائی ہونے میں ان کو دلیل نہیں ملا گا۔
یہ بھی ہوا کیا جواب یہ وہی مظاہرہ نہیں جس سے لوگ غصے میں آ رہے ہیں، اور ایک طرف جس پر ظلم کی جانب نظر انداز کیا جا رہا ہے وہی محترم خاندانی معاملات میں ہے جو نہایت سمجھدار اور دلیر لوگوں کی طرف سے ہوئے تھے، اور دوسری طرف جس پر انکوائری کر رہی ہے وہ بھی اچھے منصوبوں کے تحت ہے۔
جب کہ یہ واقعہ سڑک میں گرنے کا بھی لگتا ہے، مگر یہ بات تو چہت اچھی ہے کہ پولیس نے اپنی کارروائی میں ایس کچھ کی ہوگی جس سے لوگ محفوظ محسوس کر رہے ہوں۔ اور یہ بھی بہت اچھا کہ پولیس نے سادہ کاغذ پر دستخط لگا دیئے کیونکہ وہ لوگ جو ایسا کروانا چاہتے تھے اسے روکتا ہے، اور پوری بات یہ ہوگی کہ ڈیڈ ہاؤس میں وہیں رشتہ دار ہیں جنہوں نے انگوٹھا لگایا تھا۔
یہ واقعات بھی سمجھنا پڑ سکتا ہے کہ ڈیڈ ہاؤس میں حادثے کے بعد پولیس اپنی کارروائیوں کی جائزے کر رہی ہے اور اس لیے یہ کہا گیا کہ انگوٹھا لگایا گیا تاکہ REQUEST کی درستی کی تصدیق کی جا سکے۔ لیکن پھر بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کے بیان سے ایسا نہیں لگ رہا جیسے حادثہ کے بعد کیا گیا ہو۔ یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ کبھی بھی قانون کے سامنے نہیں آنا چاہئیے، ایسا ہی حادثہ اس وقت پر ہوا جب وہ لوگ انیس سے زائد عمر کی تھیں۔
یہ واقعہ کیا پہلے سے نہیں آیا تھا جب پولیس ایسے ماحول میں کام کرتی ہے؟ جو لوگ بے دھان اور دھوکے سے ہی ان کا زریعہ بنیں، وہ لوگ اس وقت تک اپنے کھیل کچلنا چاہتے رہتے ہیں جب تک یہ کہیں سے نہیں پہنچتا کہ پولیس ایسے حالات میں کام کرتی ہے۔
ابھی بھی میں سمجھتا تھا کہ جب مظالم ہوتے ہیں تو ان کو اسکول میں لگایا جاتا ہے لیکن یہ واقعہ ہوئے مظالم کا ایک اور ماحول بن گیا ہے جس میں پولیس ایک مظلم کے اسکول کی طرح کام کر رہی ہے۔
بھاؤ ، یہ واقعہ بہت گھمندا لگ رہا ہے، پولیس کی کارروائیوں پر ایسے بات چیت کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا جس سے یہ حقائق سامنے آ سکیں ، متوفی خاندان کے ماپوں کو پھانسی لگا کر جو وہ چاہتے تھے وہ نہیں ہوا اور بعد میں بھی یہ سچ ہونا ممکن نہیں ، ان کے لئے کیا بچہ ہو گا?
عصبت پھینتی ہوئی بھاٹی گیٹ میں ہوا یہ واقعہ کچھ نہ کچھ کہتا ہے۔ ماں بیٹی میں گرنا ایک سے زیادہ ایسٹالشنمنٹ نہیں ہے، مگر یہاں اُٹھتے ہوئے انگوٹھا لگایا جاتا ہے تو پوری صورتحال بدلتا ہے۔ ایسے میں سائن کرکے کاغذ پر دستخط لگانا بھی ایک چیلنج بنتا ہے، جیسے لوگ اپنی لاش کی جانب دیکھتے ہیں تو پھر اُس سے ہوتا ہے کہ وہ اس پر انگوٹھا لگائیں اور جھوٹ بोल کر ملازمت سے ریٹائر ہوجائے۔ یہ واقعہ ایک طاقت کی حقیقت ہے، جس میں پوری دنیا کو اپنی تردید کا نشان دیکھنا پڑتا ہے۔
یہ بھی کیا لگتا ہے یہاں تک کہ پولیس اچھی طرح جانتے ہو کہ شاندار غم کے وقت میں کیا کیا کرنا چاہئے؟ لگتا ہے ان لوگوں کو جاننے کے لیے بھی کچھ دیر کی ضرورت نہیں ہے کہ پوری رات بھر کے لیے پھینکتے ہوئے لوگوں کو سائن کروائیں اور انہیں سادہ کاغذ پر دستخط لگا کر واضح کروائیں کہ وہ کون سی فیلڈز میں ماسٹر ہیں۔
لگتا ہے یہ صرف ایک حل نہیں ہے بلکہ ایک لمحے کی خلا ہے، جس پر لوگ اپنی اپنے کھینچتے نظر آ سکیں گے اور اس وقت کی واضح ہو کر وضاحت کرنے کو کام کا بھی بن سکیں گے۔
اس واقعے سے پوری ملک بھر میں غضب تھم رہا ہے، لیکن یہ سوال یقینی طور پر یہ ہے کہ یہ واقعہ کتنا صریع اور نافذ کی گئی جانے سے ہوا؟ انصاف کی پالیسیوں کو لگاتار واز کر رہا ہے، لیکن اس سے پہلے تینوں جماعتیں دھونے والی غلطی کی نیند سے بیدار ہوجاتی ہیں، اس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ معاملات واز کر رہے ہیں اور دھونے والی غلطی کے ایک نئے ادावے کی تلاش شروع ہوجاتی ہے!
یہ تو بھی ٹھیک ہے کہ پولیس نے مقدمہ کے مدعی سے سادہ کاغذ پر دستخط لگایے، لیکن یہ بات بھی پتہ چلتا ہے کہ کیا ڈیڈ ہاؤس میں موجود لوگ اپنی زندگی کو بچانے کے لیے اور سائن کرنے کی ضرورت ہے؟ پھر یہ سوال بھی آتا ہے کہ کیا پوری دالیل پولیس کا بیان صاف اور تازہ ہوگا یا نہیں? انٹریپولے کا ایسا ماحول جو اس واقعے میں بھر گیا ہے، وہ پوری دھمکیوں سے چھلک کر رہا ہے اور جب نکلتا ہے تو ٹوٹتا ہوا دیکھایا جاتا ہے
میری زبانیں سنیں کہ کیا کیا ہوا تھا اس گھر میں؟ وہ لوگ جو بے پناہ طور پر غضب کی لہر میں تنگ آئے، انہیں یقین نہیں کیا جاسکتا کہ حقیقت کے باوجود کچھ واضح نہیں ہو سکتا۔ انگوٹھا لگاینا ایک اسٹاپ گیم نہیں ہوتا، لیکن یہ بات بہت مشکل ہو جاتی ہے کہ لوگ اس کو یقینی بنانے کی کوشش کرنے میں کیسے پھنس جاتے ہیں۔
میرا Opinion ہے کہ جب کسی واقعے پر ایکسپریس نیوز کے زریعے توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے تو اس صورتحال کو دیکھ کر نہیں پتہ لگتا کہ یہ واقعہ کیسے چل رہا ہے۔ انگریزی لوگ بھی جو معاملہ میں شامل ہوئے تھے، ان کی ایسے باتیں کروائی جاتی ہیں جو لوگوں کو پتہ لگتی ہیں اور کچھ نہ کچھ ہٹا رہا ہو، یہ بات کب تک یقینی بنائی جاسکتی ہے؟
فلاں فلاں شخص کی باتیں سننے والوں کو ڈرامے میں ساتھ ہونا پڑتا ہے، لیکن یہ بات ضروری ہے کہ لوگ اس حقیقت کو سمجھو کہ حالات کس طرح تلافی کا ایک چکر بن رہے ہیں اور یہ کیسے پہلے سے کچھ نہ کچھ ہٹاتے رہتے ہیں۔
ایسا تو کبھی نہیں سنا تھا کہ پولیس آپریشنز ونگ بھی ایک سادہ کاغذ پر دستخط لگاکر مقدمہ کے مدعی کی جال میں ڈالیں گی۔ پہلے یہ بات تو کہی گئی تھی کہ لوگوں کو اپنی غم و دکھ پر مایوس نہ کریں، اب یہ بات بھی کہی جائیگی کہ کتنے زبردست اور منافقت والوں کا ایسا ڈرامہ بنایا گیا ہے؟
جائے تو دوسری جانب ایک سادہ کاغذ پر دستخط لگاکر چھپنے کی کوشش کرنا بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ بات کوئی نہ کوئی اس بات سے واضح کرتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں توڑ فodu بہت زیادہ ہوسکتا ہے، اور یہی نہیں بلکہ اس معاملے میں بھی ایسی سٹیجنگس کی پائی گئی ہیں جس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ کیسے چل رہا ہے۔
یہ واقعات کا سب سے واضح بات یہ ہے کہ سیاست میں تو آئین نہیں پٹتا، اور قانون کی پابندی کو اس وقت تک چیلنج کیا جائے گا جب تک اسے سیاسی فوائد کی سہولت نہیں ملتی। یہ واقعات کھل کر دکھای رہے ہیں کہ کتنے بھی اہم و्यकتیں، جیسے معزز اہلکاروں کی جانب سے، اس وقت تک سچائی کو نظر انداز نہیں کر سکتے جتنی طاقت و معاشرتی پوزیشن کا فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ واقعات نہ صرف ایک معاملہ ہی نہیں بلکہ اس معاملے کی دوسری جانب سے بھی ناکام پوزیشنوں کے حوالے کر رہا ہے جس سے کوئی فائدہ اٹھانے والے انہیں بھی اپنی جگہ پر چیلنج کرنا پڑے گا۔