مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کی عمارت مسمار کردی

چیل

Well-known member
اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے انروا (UNRWA) کے ہیڈکوارٹر کو منہدم کر دیا ہے۔ اسرائیلی بلڈوزرز نے اس کارروائی میں حصہ لیا، جس میں سکیورٹی اہلکاروں کو باہر نکالا گیا اور عمارتوں کو مسمار کرنا شروع کر دیا گیا۔

انروا کے ترجمان جوناتھن فاؤلر نے یہ کارروائی ایک غیر معمولی حملے کے طور پر بیان کی ہے، جس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے قوانین اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اگر آج انروا کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل کسی بھی بین الاقوامی ادارے یا سفارتی مشن کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔

ادھر انروا کے مغربی کنارے میں ڈائریکٹر رولینڈ فریڈرک نے کہا ہے کہ یہ اقدام سیاسی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد زمین پر قبضہ کر کے وہاں یہودی آبادیاں تعمیر کرنا ہے، جس کا اعتراف اسرائیلی حکام ماضی میں کر چکے ہیں۔

اسرائیل کے انتہاپسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے بھی موقع کا دورہ کیا، انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ جگہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے زیر استعمال تھی، اس لیے کارروائی ضروری تھی۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ کمپاؤنڈ اسرائیل کی ملکیت ہے اور انروا کو وہاں کوئی استثنا حاصل نہیں، تاہم انروا حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی ملکیت ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ ہے، چاہے فی الحال استعمال میں نہ ہو۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انروا کا یہ ادارہ مہاجر کیمپوں میں رہنے والے بچوں کے لیے واحد کھیل کا موقع ہے، جبکہ اسرائیل نے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
 
اس کارروائی کی جانب سے اسرائیل کو کیا نقصان ہو گا؟ انروا کے لیے یہ ایک بڑی مشکل ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ وہ کیسے اپنے کام کو جاری رکھیں گے؟ لگتا ہے کہ انروا کی ایک نئی بہت ہی مہم بننا پڑے گا، ممکنہ طور پر اس ملک میں ہی، تاہم وہ یہ سچ کیسے بتائیں گے؟
 
اسیرائیلی حکام کی یہ کارروائی ایک بڑی خطرناک بات ہے، ابھی تک انروا کے ادارے نے فلسطینی مہاجرین کو بچنا ہی پورا کام کیا ہے اور اب اسے منہدم کر دیا گیا ہے؟ یہ ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے جو ایسی صورتحال میں ہوا جہاں فلسطینیوں کی زندگی کھاتے ہیں، یہاں فلسطینی بچوں کے لیے انروا کے ادارے ایک بھلائی کا ساتھ ہیں جو اسے کھیلنے، گیمز کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، اور اب اسے منہدم کر دیا گیا ہے؟ یہ ایک بہت خطرنا کارروائی ہے جو فلسطینیوں کی زندگی کو بھی تھماتے گی۔
 
ایسا تو حقیقی طور پر غلط فہمی ہو رہی ہے کہ اسرائیل کے صدر کیسے اپنے اقدامات سے ملکی سمجھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟ انروا کی کارروائی میں صرف ایک بات پوری کرنی چاہئے وہ یہ کہ اسرائیل اسے اپنی ملکیت نہیں سمجھ رہا۔ @UNRWA کے ترجمان جوناتھن فاؤلر کی بات سے پورے معاملے کو بدل دیں اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت کبھی اسرائیل اسے اپنی ملکیت سمجھنا چاہتا تھا؟ 🤔
 
اس کارروائی سے Israel کی جانب سے فلسطینیوں کو اور انروا کے باقی اراکین کو کس طرح متاثر ہوا گیا ہو، یہ نئی جگہ ہے جہاں وہ اپنے حقوق کی لڑائی کا اہداف جاری رکھ سکیں گے؟ Israel کی جانب سے یہ کارروائی ان روایات کو ختم کرنا ہوگی جو Israel کو فلسطینیوں کے ساتھ سمجھौतے پر رکھتی ہیں۔
 
اس کارروائی پر اسرائیل کی جانب سے لگتے ہوئے یہ سوچنا ایسا ہی پریشان کن ہے کہ وہ فلسطینیوں کو اسے اپنی زمین کہہ رہے ہیں، اور انروا کے بارے میں بھی اسی طرح کے دعویٰ کر رہے ہیں، لگتا ہے وہ وہی چل رہے ہیں جنہوں نے فلسطین پر قبضہ کیا تھا، یہ سارے جواب ایک ایسے جال میں پڑا ہوا ہے جس کو پھر سے توڑنا مشکل ہوگا
 
واپس
Top