مقبوضہ کشمیر کی جانب سے پہلے ہی ایک حادثے کا ایٹم فراہم کیا گیا، جس کے بعد رات کو گھروں اور گاڑیوں پر برفانی تودھ کے پھیل جانے نے ہلچل میں ملوث کیا ۔ یہ رات سونمارگ ضلع کی سربل شہر میں منگل کو گزری جبکہ اس علاقے میں برف کی تیزی سے گرنے نے ہوٹلوں اور گھروں کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔
اس حادثے کے بارے میں بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے کسی کی جانب سے ہلاکت یا زخمی نہیں ہوئی ۔ اس حادثے میں گھروں اور گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا گیا ہے، جو عمارتیں دھانپ سے بچائی گئیں، لیکن ان کے اندر رہنے والے لوگوں کے لیے یہ حادثہ شدید تھا۔
علاوہ ازاں مقبوضہ کشمیر کی جانب سے ایک بڑی حادثے کا پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد اس علاقے میں برفباری کے نتیجے میں واضح رہی کہ مقبوضہ کشمیر میں جموں سرینگر کے درمیان سے قومی شاہراہ بند کر دی گئی ہے، جس نے لاکھوں سیاحوں کو یہاں سے باہر پھنسی دیا ہے۔
یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جس کا معیار کسی بھی حادثے پر ہٹ کر بنتا ہے! پہلے ہی یہ حادثہ ہونے سے قبل ایک اور حادثہ announcement ہو گیا تھا، جس کے بعد لوگ تو پتہ نہ کرنے کی اتنی صلاحیت رکھتے ہیں!
دونوں حادثات میں ایسی برفانی تودھ کی وہاں گھروں اور گاڑیوں پر پڑی جس سے انسان کے دماغ میں بھی ڈھلن لگ رہی ہے! ان لوگوں کی جان و مال کو اس حادثے سے نجات دہنی نہیں مل سکتی، اور ابھی تک کون سا انتظامات ہوا کیا? یہ تو ہمیشہ کے لیے دیکھنا جاری رہے گی!
مگر یہ حادثہ کیسے ہوا؟ کس نے اس پر ایٹام فراہم کیا؟ انصاف کی وقت آئے گی یا تو اس کے بعد بھی کوئی حل نہیں ملے گا?
تھंडی برف کی وجہ سے کس کے دھن تھے؟ لاکھوں لوگ اپنی گھروں میں ہی رہ کر پائے کی جاتی ہیں، لیکن ان کو بھی یہ برف پھیلتی ہے!
سون مارگ ضلع میں بھی برف تیزی سے گر رہی ہے اور کیسے اس پر کام نہ کیا گیا؟ کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ واضح رہ گئی کہ نیشنل ہائی وے بند کر دیا گیا، لیکن کسی نے اس پر کچھ نہیں کیا؟
ایسے حالات میں لوگوں کی جانب سے کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوئی، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی؟
تیرہवاں February ko bhi pata chalta hai ki koi aur kharaab nahi hoga. woh log jo apni gaddiyon par baithkar keh rahe hain unki baat to sahi nahin hai. yah log kahaan se aaye hain? unka koi plan bhi nahin tha ki woh ek din pehle se kuch nahi karein aur phir apni gaddiyon par baith kar kuch nahi karein.
عمر علی ! اس حادثے میں کچھ کی کھان پنی چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں یوں برفباری کے نتیجے میں سربل شہر اور منگل کو گزری ہوا، وہاں کی لوگ گھروں اور گاڑیوں پر پانی پھیل کر اپنی لپیٹ لانے نے ہمیشہ سے برفباری کے موسم میں کچھ نہیں کیا ہوتا۔
ایسے حادثات کے بعد بھی جہاں یہ دیکھو گے وہاں بھی پانی نکل رہا ہے، اس میں کوئی ایسا دیکھنا نہیں آتا جو ان لوگوں کے لیے مفید ہو، یہ صرف تینھوں کی چیت پر بلاک کیا گیا ہے۔ سارے اس علاقے کو یہاں تک پھنسی دیا جا رہا ہے۔
عجیب کچھ ہوا ہے اس صورتحال میں، مقبوضہ کشمیر میں برف کی تیزی سے گرنے نے ہوٹلوں اور گھروں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور ان لوگوں کے لیے یہ حادثہ شدید تھا جنہیں ان عمارتیں دھانپ سے بچائی گئیں۔
جب تک کہ برف پڑنے سے اٹھنا ہی نہیں سکتا، وہ لوگ جسے ان عمارتیں دھانپ سے بچائی گئیں وہ کتنی مصائب کا سامنہ کر رہے ہیں اس بات کو سمجھنا مشکل ہے۔
اس کی پلیٹو پر سونمارگ ضلع کی سربل شہر میں منگل کتنی گریzi thi? اور برفباری نتیجے میں قومی شاہراہ بند کر دی گئی تھی؟
جب تک اسے سمجھنے کے لیے کوئی سایہ نہیں ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ہر شخص اپنی جانب سے ہلاکت کا خوف رکھتے ہیں اور اس حادثے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ رات کچھ تو بہت ہلچل میں آئی، برف کی تیزی سے گرنے نے ہوٹلوں اور گھروں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ حادثے سے بچنے کے لیے لوگوں نے اپنا دیکھ بھال کیے، گھروں اور گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے جو عمارتیں دھانپ سے بچائی گئیں، بس یہ لوگ کس کی جانب سے یہ حادثہ شدید تھا، مجھے لگتا ہے اس کے لیے کوئی اور وقت آئے گا جب لوگ اپنے گھروں سے نکل کر باہر جائیں گے تو یہ حادثے کا فائدہ ہو سکے گا۔
بھارتی حکام کے مطابق اس حادثے میں کسی کی جانب سے ہلاکت نہیں ہوئی، لیکن واضح ہے کہ لوگ جو اپنے گھروں اور گاڑیوں میں تھے انہیں برف کا پھیلنا پڑا اور ان کی زندگی کو اچانک بدل دیا۔ یہ حادثے نہ صرف لوگوں کو تکلیف دلاتے ہیں بلکہ وہاں کے معاشیات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جانے والے سیاحوں کو اس حادثے سے زیادہ لاکھوں کی تکلیف ہوئی جبکہ مقبوضہ کشمیر کی جانب سے پہلے یہ اعلان کیا گیا تھا، اب اس پر کام کرنا مشکل ہوگیا۔
ایسے مظالم کو کبھی بھی انٹرنیٹ پر نہیں دیکھا ہوں گا کہ ایک حادثے سے پہلے ہی اس کی پیشگوئت کرو آئے گا اور لوگوں کو یہ بتایا جائے گا کہ کچھ دیر بعد یہ حادثہ ہو گا۔ اور ایسا ہی ہوا، پہلے سے ہی ایک حادثے کا اعلان کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد بھی ہلاکتوں یا زخمیوں کی کوئی رپورٹ نہیں آئی، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ لوگوں کے لپتے میں اترنے سے ان کا پورہ حلقہ متاثر ہوتا ہے، اس حادثے نے کوئی بھی ایسا جواب دیا ہو گا یہ کہ لوگ ایسے مظالم کو توڑنا چاہتے ہیں جس کی پہلے سے پیشگوئت ہو گی اور ایسا ہی ہوا، یہ حادثہ دیکھ کر اسے توڑنے والے لوگوں نے ابھی بھی کچھ سے سیکھ لیا ہو گا اور ان کے لئے ایسے ہی مظالم کی پیشگوئت ہو گی،
ابھی یہ کہتا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں پچھلے دن کی برف باری نے ہول کیا اور اب وہیں دوسری بار تودھ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ کافی عجیب بات ہے کیوں کہ پہلے تو اس نے ایک ہی حادثے سے منسلک ہونے والا اعلان کیا تھا اور اب وہیں دوسری بار یہی ہوا۔ اس کے بعد یہ رات بھی کشمیر میں ایسی ہی صورتحال پیش آئی جو پچھلے دن کی طرح سے ہوئی۔
ہاں بے گمان رات کو میرے گھر سے ایک بڑی آزادگی کا محسوس ہوا جو کہ ان برفانی تودھوں کی وجہ سے ہوئی جو میری پیدليں ہی نہیں بلکہ میرا سر بھی اچانک ٹپ کر گئی تھی!
مگر یہ حادثے اس سے زیادہ سارے لوگوں کو کس قدر ہلچی دیتے ہیں، اور یہ بھی بڑا دباؤ پڑتا ہے جس پر عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لیا جانا پڑتا ہے، مگر کیا اس حادثے کی وجہ سے کچھ لوگ اچانک گھروں سے باہر نکلتے ہیں؟
ان واقعات پر بات کرنے پر مجھے اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہوتا ہے کہ کیا یہ حادثے ایسے ہی نہیں تھے جو بھارتی حکام نے ان کے بارے میں کہا ہو گا، مگر مجھے لگتا ہے کہ اس حادثے کے پیچھے کچھ دوسرے motive بھی ہو سکتے ہیں...
یہ واضح ہے کہ برف کی تودھ میں بہت سے لوگ گھروں اور گاڑیوں میں رہ کر بچ گئے ہیں، لیکن اس حادثے کے بعد زیادہ تر شخصیات کو یہ بات پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اس صورتحال میں بچ گئے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اس حادثے سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے یہ ایک بڑا تھق ہے اور وہ اب یہاں سے باہر نکلنے پر مجبور ہیں
میں سمجھتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر میں برف کی تیزی سے گرنے کی صورت میں لوگوں کو ہر طرف سے بھی پہلے ہی پیشگوئت بھی دی جائے چاہے وہ حکومت کا ایڈوائزمنٹ لین یا اپنے گھروں اور گاڑیاں ہی نہ بنائیں، یہ بات تو پتہ چل جائے گی۔
یہ حادثات نہ صرف مقبوضہ کشمیر کی جانب سے بڑے تھانے ہیں بلکہ یہی سارے واقعات اس علاقے کی آبادی کو شدید تھکاوٹ دے رہے ہیں، نہ صرف انکی گھروں اور گاڑیوں پر برفانی تودھ کا پھیل جانا بلکہ واضح ہوچکا ہے کہ اس علاقے میں سیر فرسٹ کے نتیجے میں یہاں کے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر باہر جانا پڑ رہے ہیں۔
یہ حادثہ بہت سوکھا دیکھنا تھا، خاص طور پر جب اس نے ایٹم فراہم کیا اور رات کو گھروں اور گاڑیوں پر برفانی تودھ کے پھیل جانے نے ہلچل میں ملوث کیا تو دیکھنا بے مثال تھا۔
لیکن یہ بات بھی سوچی لازمی ہے کہ اس حادثے سے زخمی ہونے والے لوگ بھی ہیں، انکوہ کے باوجود بھی یہ حادثہ شہر کو بھٹکا دیا تو دیکھنا تھا۔ اور یہ بات بھی یقینی بنانے لازمی ہے کہ ان لوگوں کو جو اس حادثے میں پائے جاتے ہیں وہ سایہ ہو کر رہتے ہیں تو کیسے ۔
علاوہ ازاں یہ بات بھی سوچی لازمی ہے کہ ایسے حادثات سے کوئی بھی ادارہ ان کو سٹOP نہ کر سکے، اس لیے ان لوگوں کی جانب سے یہ اچانک پوچھنا چاہیے کہ ان حادثات کی وجہ کو کیا سمجھتے ہیں؟
میں اس حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سے بہت تنگ آ گیا ہوں، میں کچھ عرصہ پہلے کشمیر چلا گیا تھا اور اب تک یہاں رہنے کا شوق ہی نہیں رہا ہوں، اس کے بعد میں جب یہ خبر پوری ہوئی کہ جموں سرینگر کی درمیان سے قومی شاہراہ بند کر دی گئی ہے تو میرا دل ٹوٹ گیا ہوں، میں جھونپھ رہا تھا لیکن اب یہ نہیں ہوگا، میری شان و समت کو پورا کرنا چاہتا ہوں،
میرے گھر میں برف کا ایک ایسا ٹودھ پڑا تھا جو اس حادثے سے منسلک ہوگا، میرا ایک ایسا بچہ تھا جو یہاں سے جانے کے لئے بے صبر تھا، میری اٹھ پتھ نہیں کر سکتی تھی،
میں اس حادثے کو دیکھنا چاہتا ہوں گا تو یہ کیسے ہوا ۔
اس حادثے کی وضاحت کروائی گئی ہے، لیکن مجھے ان کی واضح رہنی چاہیے کہ اس نے جس قدر پریشانیوں اور تنگز میں ملوث ہونے والے لوگوں کو، خاص طور پر جموں سرینگر کے درمیان سے قومی شاہراہ بند کر دی گئی نے اسے زیادہ تنگ کیا ہوگا। برفباری کی وجہ سے ہٹلوں اور گھروں کو اپنی لپیٹ میں لیا جانا بھی ایک خطرناک حال ہے، اس پر انہیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوگی। مجھے یہ بات خوشنما لگتی ہے کہ سونمارگ ضلع میں برف کی تیزی سے گرنے نے ان علاقوں کو زیادہ تنگ کیا ہوگا جو اس حادثے سے پہلے بھی خطرناک حال تھے۔
یہ بات کچھ دنوں پہلے ہوئی تھی مگر بھارتی حکام نے اب تک اس پر جواب نہیں دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں یہ سارے حادثے کس کی ملکیت تھے؟ وہ اسی طرح اپنی زبانی جھوٹ bol rahe hain ki کوئی جانب سے ہلاکت نہیں ہوئی ۔
اس علاقے میں لوگوں کا یہ حقدار ہونا چاہیے کہ وہ اپنی زبانی جھوٹ bolne پر انko بھی یقین کریں۔ ایسے حالات میں لوگ کوڈس کو چاہیے اور ہر حادثے کی جانچ کر کے اس پر یقین کرنا چاہیے۔
کیا پریہ کاش اس برف باری کو صرف ایک فتوہ کے طور پر رکھا جاتا، نہ یہ ماحول کو توڑنے والی اور لاکھوں لوگوں کو اپنی راہوں سے دور کرنے والی بات ہوتی!
اس وقت یہ بات چیت ہے کہ اس علاقے میں برفباری تو آہستہ اور تیز دھارے کا ماحول بنانے والے کیوں نہیں ہوتا، لاکین یہ ہی بات چیت نہیں جو کہی جاتی!